Soraaj Ki Talash - Article No. 1757

سورج کی تلاش

ٹنڈرا میں شدید سردی ہوتی ہے اور سورج کم نکلتا ہے۔

پیر 29 جون 2020

Soraaj Ki Talash
سید فہد بلال
ٹنڈرا ایک برفانی علاقہ ہے۔یہاں رہنے والوں کو اسکیمو کہتے ہیں۔ٹنڈرا میں شدید سردی ہوتی ہے اور سورج کم نکلتا ہے۔اس علاقے میں نیذر نامی ایک لڑکا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔اس کا باپ رینڈیئر پالتا تھا۔
رینڈیئر ایک بڑے بارہ سنگھے جیسا جانور ہوتا ہے۔یہ لوگ ایک چراگاہ میں رینڈیئر چرانے کے بعد دوسری چراگاہ میں چلے جاتے۔نیذر سکول نہیں جاتا تھا بلکہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا تھا۔
آرکٹک میں راتیں مہینوں تک لمبی ہوتی ہیں،اس لئے نیذر بھی رات کو سوتا اور رات ہی کو جاگتا۔
ان دنوں برف زمین کو ڈھکے رکھتی ہے۔آسمان پر چاندستارے چمکتے رہتے ہیں۔کبھی آسمان کے جنوب میں روشنی کی پٹیاں آسمان سے گزر رہی ہوتی ہیں اور کبھی لگتا ہے جیسے روشنی کا سبز پردہ ٹھنڈے ستاروں کو ڈھکے ہوئے ہے اور کبھی یہ روشنی ہزاروں نیلے تیروں جیسی نظر آتی ہے۔

(جاری ہے)


نیذر کو یہ سب دیکھ کر حیرت ہوتی۔وہ اپنے باپ سے پوچھتا،”کیا ستارے نئی چراگاہ میں بھی ہمارے ساتھ چلیں گے؟“
اس کو لمبی قطبی راتوں کی عادت تھی لیکن پھر بھی وہ بے صبری سے دن کا انتظار کرتا رہتا۔وہ اپنے باپ سے کہتا،”شاید سورج ہمیں بھول گیا ہے۔
ہو سکتا ہے وہ کہیں گم ہو گیا ہو اور اس کو راستہ نہ مل رہا ہو۔“
اس کا باپ اس کی بات پر ہنستا اور کہتا،”سورج اپنا راستہ خود ڈھونڈلے گا۔ذرا صبر کرو۔وہ دیکھو سامنے!پہاڑیوں کے بیچ صبح طلوع ہو رہی ہے۔ایسا لگ رہا ہے جیسے وہاں آگ جل رہی ہو۔
جلد ہی دن نکل آئے گا اور رات کو بھگا دے گا۔“
نیذر سوچتا کہ اب برف ڈر کر پگھل جائے گی اور نیچے سے گھاس نکل آئے گی۔ایک دن نجانے کیا ہواکہ ہوا تیز چلنے لگی اور سورج کی روشنی ہلکی پڑنے لگی۔شاید یہ ہو انہیں تھی بلکہ کوئی ہوائی جہاز گزرا تھا۔
نیذر کو ہوائی جہاز پر بڑا غصہ آیا،کیوں کہ اس کے اتنے نیچے اڑنے سے رینڈیئر ڈر گئے تھے۔نیذر نے غصے میں ہوائی جہاز کو اشارہ کیا کہ وہ اوپر چلا جائے۔اس کا کتا ”پوش“بھی بھونکنے لگا۔پائلٹ نے اس کا اشارہ دیکھ لیا اور جہاز کو اونچائی پر لے گیا۔
جہاز سورج کی سرخ روشنی میں سرخ اور پھر نارنجی ہو گیا۔نیذر نے سوچا،”کاش وہاں کوئی بڑا سا درخت ہوتا جس پر چڑھ کر وہ سورج دیکھ سکتا تھا لیکن ٹنڈرا میں اگنے والے برچ کے درخت اتنے چھوٹے تھے کہ ان پر چڑھ کر بھی سورج نظر نہیں آسکتا تھا۔

نیذر یہی سوچ رہا تھا کہ اس کے سامنے سے ایک سفید سی چیز گزری۔یہ ایک برفانی لومڑی تھی۔پوش تیزی سے بھاگا،مگر لومڑی اس سے بھی تیز بھاگی۔نیذر نے اسے چیخ کر واپس بلایا۔پوش ایک دوبار بھونکا جیسے لومڑی سے کہہ رہا ہو کہ خیر چاہتی ہوتو آئندہ یہاں نظر نہیں آنا۔

جلد ہی ہوا بہت تیز چلنے لگی۔روشنی اور بھی ہلکی پڑ گئی۔ایسا لگتا تھا کہ برفانی طوفان آنے والا ہے۔آسمان پر گہرے بادل چھا گئے۔ہوا جھکڑوں میں بدل گئی۔نیذر نے چیخ کر پوش سے کہا،”آؤ گھر چلیں۔“
لیکن برف کے زرے اڑاڑ کر پوش کی آنکھوں میں گھسنے لگے۔
نیذر کو پتہ تھا کہ جب برفانی طوفان آتے ہیں تو کتے پناہ حاصل کرنے کے لئے برف کھود کر اس میں چھپ جاتے ہیں۔برف ٹھنڈی تو ہوتی ہے،لیکن تیز ہوا سے بچا لیتی ہے۔نیذر کو اپنے باپ کے الفاظ بھی یاد آئے تھے۔وہ پوش کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ بہت ہوشیار کتا ہے۔
اس کی بات پر غور کرنا۔وہ ٹنڈرا میں رہنا جانتا ہے۔ لہٰذا اس نے کتے کو برف کی گاڑی سے کھول دیا اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔دونوں برف پر لیٹ گئے۔وہ سردی سے بری طرح کانپ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس وقت گھر میں کتنی گرمی ہو گی۔
جلد ہی برف نے انہیں ڈھک لیا۔صرف گاڑی اور ایک لمبے ڈنڈے کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہاں کوئی ہے۔
پوش کے ساتھ لیٹے لیٹے نیذر کو نیند آگئی۔اس نے خواب میں دیکھا کہ اس کی ماں اسے ڈھونڈ رہی ہے۔اس کا نام لے کر آوازیں دے رہی ہے۔
پھر اس کا باپ نظر آیا۔اس کے بعد کتے بھونکنے لگے اور بھونکتے ہی رہے۔
کسی نے نیذر کو زور سے ہلایا۔اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔کتوں کے بھونکنے کی آوازیں بہت قریب سے آرہی تھیں۔نیذر نے اپنے کپڑوں پر سے برف جھاڑی اور اپنی آنکھیں ملیں۔
تب اس نے دیکھا کہ سامنے برف گاڑی اور کتے کھڑے تھے اور وہ خواب نہیں تھا۔اس کے باپ نے اسے برف سے اٹھا لیا۔نیذر باپ سے لپٹنا چاہتا تھا لیکن وہ اسے ڈانٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا،”تم بھاگے کیوں؟اگر برف کے طوفان میں گم ہو جاتے تو؟“
نیذر کچھ نہیں بولا۔
چپ کھڑا رہا۔اس نے آہستہ سے کہا،”میں اکیلا نہیں تھا۔پوش میرے ساتھ تھا۔سورج گم ہو گیا تھا۔ہم دونوں اسے ڈھونڈ رہے تھے۔“
اس کے باپ کا غصہ ایک دم ختم ہو گیا۔وہ حیرت سے بولا،”تم سورج کو ڈھونڈ رہے تھے!یہ رہا سورج۔

یہ کہہ کر اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔نیذر نے دیکھا کہ برف کا طوفان ختم ہو چکا ہے اور دورافق کے کنارے آگ کا گولہ سا نظر آرہا ہے۔ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہوا،رینڈیئر،کتے اور سارا کا سارا ٹنڈرا سورج کی گلابی روشنی میں نئی زندگی پا گیا ہے۔نیذر نے چلا کر کہا،”میں نے سورج کو پالیا۔“

مزید اخلاقی کہانیاں

Qeemti Moti Ki Talash

قیمتی موتی کی تلاش

Qeemti Moti Ki Talash

Pariyaan Aur Ghareeb Mochi

پریاں اور غریب موچی

Pariyaan Aur Ghareeb Mochi

Hoshiyar Larka - Aakhri Hissa

ہوشیار لڑکا (آخری حصہ)

Hoshiyar Larka - Aakhri Hissa

Turram Khan Aur Phannay Khan

طرم خان اور پھنے خان

Turram Khan Aur Phannay Khan

Darakhton Ki Bad Duaa

درختوں کی بددعا

Darakhton Ki Bad Duaa

بادشاہ اور غریب میں‌ فرق

Badshah Aur Ghareeb Main Faraq

Ten Rupees Ka Jhoot

دس روپے کا جھوٹ

Ten Rupees Ka Jhoot

Gharoor Ki Saza

غرور کی سزا

Gharoor Ki Saza

Bola Our Mara Gaya

بولا اور مارا گیا

Bola Our Mara Gaya

Chamaktay Sitary

چمکتے ستارے

Chamaktay Sitary

Izmir Ki Shehzadi

ازمیر کی شہزادی

Izmir Ki Shehzadi

Dr Kamal Ka Telephone

ڈاکٹرکمال کا ٹیلی فون

Dr Kamal Ka Telephone

Your Thoughts and Comments