Sunehri Chiriya

Sunehri Chiriya

سنہری چڑیا

بشیر ،نذیر ،فاضل اور محسن چار ہت گہرے دوست تھے۔ایک روز وہ باغ کی سیر کوگئے۔قریب ہی ایک نہر تھی جس کے دونوں کناروں پر آرم کے پیڑ تھے۔ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ کر وہ باتیں کرنے لگے۔

خدیجہ مغل
بشیر ،نذیر ،فاضل اور محسن چار ہت گہرے دوست تھے۔ایک روز وہ باغ کی سیر کوگئے۔قریب ہی ایک نہر تھی جس کے دونوں کناروں پر آرم کے پیڑ تھے۔ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ کر وہ باتیں کرنے لگے۔محسن نے کہا،دوستو میری رائے یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی کہانی سنائے۔

سب دوستوں نے اس سے اتفاق کیا۔سب سے پہلے محسن نے کہانی سنائی،پھر بشیر اور نذیر نے سنائیں لیکن جب فاضل کی باری آئی تو وہ خاموش ہو گیا ۔دوستوں نے کہا ۔تم چپ کیوں ہو؟کہانی کیوں نہیں سناتے؟
کہانی کیا سناؤں دل خوش نہیں ہے۔
فاضل نے جواب دیا
تمھارا دل خوش کیوں نہیں ہے۔
تم جانتے ہو کہ میری ماں انتقال کر چکی ہیں۔مجھے ان سے بے حد پیار تھا ان کے بغیر میرا دل کہیں نہیں لگتا۔

(جاری ہے)

پڑھائی کرنے میں بھی جی نہیں لگتا اور نہ کوئی کام کرنے میں۔میں صرف تمھاری خاطر یہاں آگیا ہوں۔

غم کا مارا ہوں ۔کیا کہانی سناؤں؟ابھی تو میں نے پڑھنا لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
کہتے تو تم سچ ہی ہو لیکن پڑھو گے نہیں تو فیل ہو جاؤ گئے۔محسن نے کہا
اچانک ایک بولنے چالنے والی سنہری چڑیا جو ان کے پیڑ پر بیٹھی تھی ،بولی۔
لڑکو!میں تمھیں ایک دلچسپ کہانی سناتی ہوں فاضل!تم خاص طور پر اسے غور سے سننا۔
عرب ایک ریگستانی ملک ہے،وہاں پانی کی قلت ہے،وہاں پہلے رہٹ نہ تھا اور عربوں نے اسے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔عربوں کا سب سے پیارا پالتو جانور اونٹ ہے۔
اسکے ذریعے وہ صحراؤں میں سفر کرتے ہیں اور اسی لیے اسے ریگستان کا جہاز کہا جاتا ہے۔اونٹ نے کبھی رہٹ نہیں دیکھا تھا۔
اہلِ عرب جب مسلمان ہوئے اور انہوں نے ایران فتح کیا تووہاں رہٹ دیکھا۔ایران بہت زرخیز اور امیر ملک تھا۔
عرب تجارت اور روزگارکی غرض سے وہاں جاتے تھے۔ایک دفعہ ایک بدو یعنی عرب دیہاتی بھی روزگار کی تلاش میں ایران کے سفر پر روانہ ہوا۔اس کے پاس ایک تیز رفتار اونٹ،کھجوروں کا ایک تھیلا اور پانی کی چھاگل تھی۔راستہ لمبا اور دشوار اور ریگستانی تھا۔
وہ آٹھ دس روز سفر کرتا رہا۔آخر اس کا پانی ختم ہو گیا۔اب وہ بھی پیاسا تھا اور اس کا اونٹ بھی ۔خدا خدا کرکے وہ ایران پہنچ گیا۔وہاں اس نے ایک کھیت میں رہٹ چلتے دیکھا۔اسے دیکھ کر وہ حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔وہ اونٹ سے اترا اور لپک کر رہٹ کے پاس پہنچا۔
منہ ہاتھ دھویا اور جی بھر کر پانی پیا۔پھر اونٹ کو بھی پانی پلانے کے لیے رہٹ کے قریب لے گیا۔اونٹ نے کبھی رہٹ نہ دیکھا تھا لہذا اس کے شور سے بدک کر پیچھے ہٹ گیا۔
بدو نے اسے بہت چمکارا۔لیکن اسے رہٹ کے قریب نہ جانا تھا نہ گیا۔
بدو نے رہٹ والے سے کہا ،بابا جی!رہٹ بہت شور کرتا ہے اسے ذرا بند کر دو تاکہ میرا اونٹ پانی پی لے۔
بوڑھے شخص نے بیلوں کو روک لیا اور رہٹ بند ہو گیا۔بدو ن ے اونٹ کو آگے دھکیلا لیکن اس دوران رہٹ بند ہونے سے اسکے ڈول پانی سے خالی ہو گئے۔
یہ دیکھ کر ساربان نے رہٹ چلانے والے سے کہا ،بابا جی رہٹ چلایئے کہ پانی آجائے۔بابا نے بیلوں کو ہانکا شور سن کر اونٹ پھر ڈر کے پیچھے بھاگا۔
بدو نے پھر بابا جی کو رہٹ بند کرنے کو کہا۔اونٹ آگے بڑھا لیکن پانی ختم ہو گیا تھا۔
بدو نے پھر بابا جی سے کہا رہٹ چلائیں ۔بابا نے رہٹ چلایا اور اونٹ پھر ڈر گیا۔
تین چار بار ایسا ہو اتو بابا جی نے کہا میاں ! رہٹ چلے گا تو پانی آئے گا او شور غوغا بھی ہو گا جس نے پانی پینا ہے،وہ اسی طرح پیئے۔
لڑکو!غور سے سنو!جہاں زندگی ہے وہاں شور ہو گا،چاہے خوشیوں کا ہو یا غم کا جس نے کچھ کرنا ہے اسی شور وغل میں رہ کر کرنا ہے انسان کو ہر حال میں صبرو ہمت تھامے رہنا چاہیے۔
خدا ان کی مدد کرتا ہے جو ہمت وصبر سے کام لیتے ہیں ۔
سنہری چڑیا کی کہانی سنا نے سے فاضل کی کایا پلٹ گئی ۔وہ پہلے سے زیادہ پڑھتا تھا اور خوب محنت کرتا اور ہر جماعت میں اول آتا۔اور اسے وظیفہ بھی ملنے لگا۔
اس کے والد غریب تھے اس لئے چاہتے تھے کہ وہ ملازمت کر لے اور گھر کے حالات بہتر ہو سکیں لیکن فاضل کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا تھی ۔
نیت سچی ہو تو خدا ہر آرزو پوری کرتا ہے۔وہ اس مسلئے کا حل سوچنے لگا چانک اس کے دل میں خیال آیا ۔رات ہو چکی تھی سب سو رہے تھے وہ اٹھا اور وضو کیا اور نفل ادا کیے،اور سجدے میں گر کر اپنے خد اسے دعا مانگنے لگا۔
یا خدایا ! میری مشکل حل کردے مجھے بتا کہ میں والد کو ناراض کیے بغیر کیسے اعلیٰ تعلیم حاصل کروں؟تو اپنے بندوں کی فریاد سننے والا دعائیں قبول کرنے والا ہے۔

اس نے رو رو کر دعا مانگی،وہ قبول ہو گئی ،صبح سویرے وہ اپنے گھر کی چھت پر گیا تو وہاں سنہری چڑیا موجود تھی،وہ کہنے لگی،فاضل! حرکت میں برکت ہے۔تم کالج میں داخلہ لے لو اور اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کی خاطر بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کردو۔
اس سے تم اچھا کمانے لگو گئے۔اور تم اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر لو گئے اور تمھارا باپ بھی خوش ہو جائے گا۔
فاضل نے اسیا ہی کیا ۔اس کی محنت رنگ لائی ۔اس کے پاس بہت سے بچے ٹیوشن کے لیے آتے اسطرح اسکے ابو اس سے خوش ہونے لگے اور وہ دن بھی آگیا جب فاضل نے اپنی ڈگری مکمل کی۔
اس کی زندگی میں اونچ نیچ آتی رہی لیکن وہ کبھی گھبرایا نہیں تھا اپنے باپ کا ساتھ دیتا رہا اور آج وہ ایک کامیاب افسر بن چکا تھا۔اس کے ابو اسے اس مقام پہ دیکھ کر بہت خوش تھے۔
ختم شد!

Your Thoughts and Comments