Tanha Muqabla Karna Sekhiye

تنہا مقابلہ کرنا سیکھئے

ہمت ہی سے عمل کی راہیں کھلتی ہیں۔ حکمت ،شجاعت اولعزمی اور جہانگیری وجہاں بانی کے ہر موڑ پر صرف ہمت کا پرچم لہراتا ہوا نظر آتا ہے

بدھ فروری

Tanha Muqabla Karna Sekhiye
غریب اللہ غازی
ہمت ہی سے عمل کی راہیں کھلتی ہیں۔ حکمت ،شجاعت اولعزمی اور جہانگیری وجہاں بانی کے ہر موڑ پر صرف ہمت کا پرچم لہراتا ہوا نظر آتا ہے ہم آپ کو جنگلی گائے کا واقعہ بتاتے ہیں کہ ایک جنگل میں بہت ساری گائیں کھاس چرتی تھیں اور پیاس کے وقت پانی پینے جاتی تھیں۔
تو اُن پر مگر مچھ حملہ کر دیتا۔سب گائیں بھاگ جاتیں مگر ایک گائے کا پاؤں مگر مچھ پکڑ لیتا۔ اب گائے کے لئے زندگی اور موت کا کھیل شروع ہو جاتا ہے گائے اپنی زندگی بچانے کی جدوجہد شروع کر دیتی ہے اور مگر مچھ اپنی بھوک مٹانے کی کوشش میں مصروف ہو جاتاہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کی ہم ذات وہم قبیلہ گائیں دور کھڑی اس کشمکش کو دیکھ رہی ہوتی ہیں لیکن کوئی ایک بھی گائے اس کی مدد کو نہیں آتی پکڑی جانے والی گائے مگر مچھ کو پانی سے باہر تک کھینچ لاتی ہے لیکن اس کشمکش نے بھی مکمل طور پر ختم کرنے کا پختہ ارادہ کیا ہوتاہے اس کی ٹانگ کو مضبوطی سے پکڑے رکھتاہے۔

(جاری ہے)


گائے کی ہمت جواب دینے لگتی ہے وہ حسرت بھری نگاہوں سے اپنے ہم قبیلہ کو دیکھتی ہے اور گردن جھکا دیتی ہے اور مگر مچھ اسے دوبارہ گھسیٹ کر پھر پانی میں لے جاتاہے وہ ایک بار پھر امید بھری نظروں سے دور کھڑی اپنی دوستوں رشتہ داروں کی طرف دیکھتی ہے جن کے ساتھ وہ ہر روز پانی پینے آتی تھی لیکن دوسری گائیں حسب معمول محوتماشاہی رہیں مگر وہ پھر اپنا بھر پور زور لگاتی اور پانی سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے لیکن مگر مچھ نے اس کی ٹانگ کو بڑی مضبوطی سے پکڑ رکھاتھا لیکن گائے بھی مصمم ارادہ کر چکی تھی کہ اس نے خود کو حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑنا لیکن طاقتور مگر مچھ کے آگے وہ ہمت ہارنے لگی مگر مچھ اسے آہستہ آہستہ گہرے پانی میں لے جانے لگا۔
لیکن یہاں پر قدرت اپنا کھیل شروع کر دیتی ہے دو دریائی گھوڑے گائے کی مدد کو آجاتے ہیں جو اپنی بھر پور طاقت کے ذریعے اسے مگر مچھ سے آزاد کرا دیتے ہیں اور زخمی گائے پانی سے باہر آجاتی ہے اپنی جان بخشی پر خدا کا شکر ادا کرتی ہے۔

پیارے بچو!یہ زندگی آپ کی ہے اور اسے آپ نے ہی گزارنا ہے لوگ صرف تماشائی ہوتے ہیں حالات سے لڑنا انسان نے خود ہوتاہے زندگی کی جنگ اکیلے لڑنا پڑتی ہے لوگ صرف مبارک باد دینے یا صرف تعریف کرنے کے لئے آتے ہیں انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مرنے سے پہلے یہ کن حالات سے گزر رہا تھا یا جینے سے پہلے وہ زندگی کی کتنی مشکل اور اذیت ناک لڑائی لڑرہا تھا۔

Your Thoughts and Comments