Tasweer Ke Peechay - Article No. 1440

تصویر کے پیچھے

کسی گاؤں میں ایک امیر آدمی رہتا تھا۔علی اس کا بیٹا تھا۔علی جب پانچ سال کا ہوا تو اس کی ماں انتقال کرگئی۔

جمعرات جون

tasweer ke peechay

کسی گاؤں میں ایک امیر آدمی رہتا تھا۔علی اس کا بیٹا تھا۔علی جب پانچ سال کا ہوا تو اس کی ماں انتقال کرگئی۔اس کے باپ نے اپنے بیٹے کی خاطر ایک غریب عورت سے شادی کرلی ،مگر علی نے اس عورت کو اپنی ماں نہ تسلیم کیا اور اسے ہمیشہ سوتیلی سمجھا۔

جب علی آٹھ سال کا ہوا تو اس کا سوتیلا بھائی پیدا ہوا۔اس کانام ارسلان رکھا گیا۔علی اپنی سوتیلی ماں کو بہت تنگ کرتا اور ارسلان کو بھی ستاتا تھا۔جب یہ دونوں جوان ہوئے تو ان کا باب بستر مرگ پر جاپڑا۔مرنے سے پہلے اس نے علی کو نصیحت کی کہ اپنے بھائی اور
ماں کا خیال رکھنا۔
جائیداد میں سے انھیں حصہ ضرور دینا۔پھر اپنی بیوی سے کہا کہ اگر علی تم لوگوں کو تمھارا حصہ نہ دے تو میری یہ تصویر لے کر قاضی عثمان کے پاس چلی جانا اور انصاف طلب کرنا۔

(جاری ہے)

یہ کہہ کر اس نے اپنی بیوی کو ایک فریم میں لگی ہوئی تصویر تھمائی اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں موندلیں۔


اس کی وفات کے چند دن بعد علی نے اپنی سوتیلی ماں اور ارسلان کو گھر سے نکال دیا۔وہ دونوں کرائے کے گھر میں رہنے لگے اور محنت مزدوری کرکے اپنا گزارہ کرنے لگے۔ایک دن اچانک ان کی ماں کو علی کے باپ کی بات اور اس کی دی ہوئی تصویریاد آگئی۔
وہ فوراً قاضی عثمان کے پاس گئی اور سارا واقعہ اس کے گوش گزار دیا۔
قاضی یہ سن کر بہت پریشان ہوا ۔اس نے کہا کہ کل شام کو کھانے کے وقت علی کے گھر آجائے اور وہ بھی وقت پر پہنچ جائے گا۔اس کے جانے کے بعد قاضی نے سوچا کہ مرحوم نے مجھے تصویر کیوں دکھانے کو کہا۔
اس نے تصویر فریم میں سے نکالی تو تصویر کے پیچھے ایک اور وصیت تحریر تھی ۔لکھا تھا کہ اگر میرا بیٹا علی،ارسلان اور اس کی ماں کو جائیداد میں سے حصہ نہ دے تو گاؤں میں میرا جو پرانا مکان ہے اس کی مغربی دیوار کو توڑ کر اس میں جو سونا اور زیورات موجود ہیں ،وہ نکال کر ارسلان اور اس کی ماں کو دے دیے جائیں۔
اگر علی ان کو جائیداد میں سے حصہ دے دے تو دونوں بھائی وہ زیورات برابر بانٹ لیں۔قاضی نے وصیت پڑھ کر اس کو سنبھال کر اپنے پاس رکھ لیا۔
اگلے دن شام کے وقت جب وہ علی کے گھر پہنچا تو ارسلان اور اس کی ماں گھر کے باہر موجود تھے۔
وہ ان دونوں کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہو گیا۔علی نے قاضی صاحب کے آنے پر بہت تکلف کھانے کا اہتمام کیا اور قاضی صاحب کی خوب آؤ بھگت کی،تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ سنائیں۔کھانا کھانے کے بعد قاضی صاحب نے کہا کہ تم نے ارسلان اور اس کی ماں کو حصہ کیوں نہیں دیا؟علی نے کہا کہ ساری دولت میرے باپ کی تھی اور اس پر صرف میرا حق بنتا تھا۔

قاضی صاحب سوچ میں ڈوب گئے اور تھوڑی دیر بعد بولے:”میری تمھارے باپ کی روح سے ملاقات ہوئی ہے اور اسے اس کے باپ کی شکل و صورت بتائی اور بتایا کہ تمھارے با پ نے کہا ہے کہ گاؤں میں اس کا جو پُرانا گھر ہے اس کی مغربی دیوار میں سونا اور دوسرے قیمتی زیورات دفن ہیں اور وہ چیزیں تم دونوں برابر بانٹ لو اور اگر تم ان کو حصہ نہیں دوگے تو ان چیزوں کے حق دار ارسلان اور اس کی ماں ہیں۔

علی کو قاضی کی بات سن کر لگا کہ وہ اس سے جائیداد ہتھیانے کی کوشش کررہے ہیں۔
علی نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ سونا ان کو دے دیں،مگر میں ان کو جائیداد نہیں دوں گا۔اگلے دن قاضی عثمان نوکروں کو لے کر پرانے گھر پہنچے اور مغربی دیوار توڑ دی اور تمام سونا اور زیورات ارسلان اور اس کی ماں کو دے دیے۔علی کو جب اس بات کا پتا چلا تو وہ پچھتایا،مگر اب پچھتانے کے لیے علاوہ اور کیا ہو سکتاتھا اور ارسلان اور اس کی ماں ہنسی خوشی رہنے لگے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Mehnat Ka Samar

محنت کا ثمر

Mehnat Ka Samar

Bila Unwan Inaami Kahani

بلاعنوان انعامی کہانی

Bila Unwan Inaami Kahani

Matlab Parast

مطلب پرست

Matlab Parast

Jhooti Izzat

جھوٹی عزت

Jhooti Izzat

Pahaile

پہیلی

Pahaile

Lalchi Sodagar

لالچی سوداگر

Lalchi Sodagar

Kaam Chor Larka

کام چور لڑکا

Kaam Chor Larka

Chirya Ka Inteqam

چڑیا کا انتقام۔۔۔تحریر:ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

Chirya Ka Inteqam

Camera

کیمرہ

Camera

Aik Tofani Raat

ایک طوفانی رات

Aik Tofani Raat

Sehrai Thar

صحرائے تھر

Sehrai Thar

Letter Box Ka Bhoot

لیٹر بکس کا بھوت

Letter Box Ka Bhoot

Your Thoughts and Comments