Tohfy

Tohfy

تحفے

یہ ایک خوب صورت وادی کی کہانی ہے جو ایک پہاڑی کے دامن میں آباد تھی وہاں کے رنگین پھول بچوں سے باتیں کیا کرتے تھے۔ تمام بچے علم حاصل کرنے کے بہت شوقین تھے وہ آپ کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھتے لیکن ان میں ایک نجمہ بڑی گندی تھی اسے کئی بار سمجھایا گیا لیکن اس نے کسی کی نصیحت پر بھی کان نہ دھرا۔ کبھی تم سے چلتی پھرتی اور باتیں کرتی ہوئی گندگی دیکھی ہے؟ ایک دن نجمہ کو چڑانے کے لیے جب اس کی سہیلیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا۔

نصیر انور:
یہ ایک خوب صورت وادی کی کہانی ہے جو ایک پہاڑی کے دامن میں آباد تھی وہاں کے رنگین پھول بچوں سے باتیں کیا کرتے تھے۔ تمام بچے علم حاصل کرنے کے بہت شوقین تھے وہ آپ کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھتے لیکن ان میں ایک نجمہ بڑی گندی تھی اسے کئی بار سمجھایا گیا لیکن اس نے کسی کی نصیحت پر بھی کان نہ دھرا۔

کبھی تم سے چلتی پھرتی اور باتیں کرتی ہوئی گندگی دیکھی ہے؟ ایک دن نجمہ کو چڑانے کے لیے جب اس کی سہیلیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا۔ تو ہو فورا غصہ میں آگئی اس نے اپنے میلے کچیلے بالوں کو اپنے گندے چہرے سے ہٹایا اور اپنی سہیلیوں کو کوسنا شروع کیا اس کی بہتی ناک اور پیلے رنگ کے بدنما دانت دیکھ کر اس کی ایک سہیلی کہنے لگی۔
چلوبھاگو یہاں سے بو آرہی ہے سامنے یہ گندی لڑکی جو کھڑی ہے یہ کہہ کر اس کی تمام سہیلیاں بھاگ گئیں اور نجمہ اکیلی منہ بسورے کھڑی رہ گئی۔

(جاری ہے)

ایک روز نجمہ صبح سویرے اُٹھی کمرے کی دیوار پر بڑا آئینہ لگا تھا جوں ہی اس کی نظر آئینے پر پڑی ۔

تو آنکھیں مارے خوف کے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس نے دیکھاکہ سامنے ایک چڑیل کھڑی ہے جس کے گندے بال بکھرے ہوئے ہیں چہرے پر ایسے نشان ہیں جیسے مکھیاں بیٹھی تیزی سے گھوم رہی ہوں۔ یکایک اس نے اپنے تیز اور بڑے بڑے دانت نکالے اور اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر نجمہ کو پکڑنے لگی۔
نجمہ کو ایسا ڈر لگا کہ وہ بے تحاشا کمرے سے بھاگ نکلی اور اندھا دھند باغ کی طرف بھاگی آخر ہانپتی پھولوں کی ایک جھاڑی کے پاس آ گری وہ اتنی سہمی ہوئی تھی کہ اس نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں۔ اتنے میں ہلکی سے ہنسی سنائی دی جو آہستہ آہستہ اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔
اس نے آنکھیں کھولیں تو پھولوں کوہنستے ہوئے دیکھا پر ایک گلاب کا سرخ پھول جھاڑی سے جھکا اور اور کہنے لگا کہ لڑکی ہماری طرف دیکھو صبح سویرے شبنم نے ہمارا منہ دھلایا اور ہوا نے ایسا گدگدایا کہ ہم خوشی سے بے اختیار ہنس رہے ہیں۔
لو اب سورچ کی کرنیں تیز ہونے لگیں جاوٴ تم بھی منہ دھولو اور صاف ستھرے کپڑے پہنو بالوں میں تیل لگاوٴ اور کنگھی کرو پھر میرے پاس آوٴ۔نجمہ یہ سن کر گلاب کی طرح خوشی سے جھومنے لگی وہ فوراََ غسل خانے کی طرف لپکی نہا دھو کر فارغ ہوئی تو صاف ستھری پوشاک پہنی ، بالوں میں تیل لگا کر کنگھی کی اس کے بعد وہ گنگناتی ہوئی گلاب کے پاس آئی اور کہنے لگی لو میں آگئی۔
گلاب کا پھول خوشی سے کھل گیا مجھے توڑ لے اور اپنے بالوں میں لگالو پھر آئینے میں اپنی صورت دیکھنا۔ نجمہ نے ایسا ہی کیا اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو ئی لیکن وہ دل ہی دل میں اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اس نے اپنی نگائیں نیچے رکھیں۔
اتنے میں آواز آئی نجمہ میری طرف دیکھو۔

اس نے سامنے دیکھا تو ایک خوب صورت پری مسکرا رہی تھی وہ نجمہ کو دیکھ کر کہنے لگی میں تمہارے لیے دو تحفے لائی ہوں لو انہیں قبول کرو۔پھر اس نے دن دونوں کو نجمہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ان میں سے ایک صحت ہے اور دورا خوشی۔ نجمہ نے دونوں تحفے لئے اس کا چہرہ شرم کے مارے لال ہو گیا وہ منہ سے کچھ نہ بولی اس کا سر شکریہ ادا کرنے کو جھک گیا۔
لیکن جوں ہی اس نے نظر اُٹھائی تو دیکھا کہ پری غائب ہو چکی ہے اور اب اس کی جگہ ایک خوبصورت لڑکی کھڑی ہے جو اس پری سے بھی زیادہ خوب صورت ہے اور اس کے بالوں پر سرخ گلاب کا پھول خوب صورتی کا تاج معلوم ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments