Uncle Elef Ki Bahaduri - Article No. 1988

انکل ایلف کی بہادری

جب تک آپ کے محلے میں انکل جیسی شخصیت موجود ہے،آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں

جمعرات جون

Uncle Elef Ki Bahaduri
حفصہ سلمان
سر پر ترچھی ٹوپی،آنکھوں پر موٹی سی گول عینک اور منہ میں پرانا سگار لیے جب بھی بچے انکل ایلف کو دیکھتے تو اپنی ہنسی منہ میں ہی دبا لیتے، کیونکہ اگر انکل بچوں کو ہنستے ہوئے دیکھ لیتے تو ان کی شامت آجاتی۔
انکل ایلف دیکھنے میں تو کچھ عجیب و غریب شخصیت کے مالک ہیں، لیکن دراصل ان کے اندر کا انسان کسی بھی بہترین اور اچھے انسان سے کم نہیں۔
انکل ایلف کسی زمانے میں انگریزی کے استاد رہ چکے تھے۔انگریزی کے ایف کو اپنے انداز میں ایلف پڑھتے تھے،اس لئے بچے انھیں انکل ایلف ہی کہنے لگے۔
انکل ایلف لباس کے اوپر کوٹ بڑے شوق سے پہنتے ہیں،یہاں تک کہ گرمی میں بھی کوٹ ان سے الگ نہ ہوتا۔جب انکل شدید گرمی میں کوٹ پہن کر نکلتے،تو بچے اور بڑے سبھی گرمی محسوس کرنے لگتے۔

(جاری ہے)

انکل کے ہونے سے گلی میں رونق بھی رہتی ہے۔وہ کسی جاسوس کی طرح گلی کے ہر آنے جانے والے شخص پر نظر رکھتے ہیں۔

ان کی موجودگی میں کسی چوکیدار یا محافظ کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی ۔
ایک دفعہ گلی میں بہت شور سنائی دیا۔معلوم ہوا کہ چچا قاسم کا سات سالہ بچہ گم ہو گیا ہے۔محلے میں ڈھونڈا گیا،لیکن اس کا کہیں سراغ نہ ملا۔ مسجد میں اعلان بھی کرایا گیا۔
سب لوگ مل کر بچے کو ڈھونڈنے لگے۔اچانک کسی کا دھیان انکل ایلف کی طرف گیا کہ چلو!انکل سے پوچھتے ہیں،کیونکہ انکل اکثر گلی میں آنے جانے والوں پر نظر رکھتے ہیں،ممکن ہے کہ ان کو کچھ معلوم ہو۔معلوم ہوا کہ انکل بھی گھر میں نہیں ہیں۔
کچھ لوگوں کو انکل ایلف پر شک ہونے لگا کہ کیا پتا انکل نے بچے کو اغوا کر لیا ہو۔یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ انکل اور بچہ دونوں ایک ساتھ کہاں غائب ہو گئے۔انکل کے گھر والے بھی ان کے لئے فکر مند تھے۔
چچا قاسم اور ان کی بیوی اپنے بچے کے لئے بہت پریشان تھے۔
کسی کے کہنے پر انھوں نے انکل کے خلاف شک کی بنیاد پر رپورٹ درج کروا دی۔
شام کے وقت لوگوں نے دور سے دیکھا کہ کوئی شخص گرد و غبار میں اَٹا ہوا کسی بچے کا ہاتھ پکڑے چلا آرہا ہے۔ایک آدمی نے غور سے دیکھ کر پہچانا تو اس نے اونچی آواز سے بولا،ارے یہ تو انکل آرہے ہیں اور ان کے ساتھ قاسم بھائی کا بچہ بھی ہے۔
بس سب کی نظریں اس طرف اُٹھ گئیں۔اب ایک طرف تو لوگوں کی خوشی دیدنی تھی،اور دوسری طرف محلے والوں نے انکل کو حصار میں لیتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ہر کوئی یہ جاننے کے لئے بے چین تھا کہ آخر بچہ انکل کے ساتھ کیسے آیا؟اس دوران کسی نے چچا قاسم کے گھر کی گھنٹی بجا کر انھیں بھی اطلاع کر دی کہ ان کا بیٹا انکل کے ساتھ آگیا ہے۔
قاسم چچا اپنی بیوی کے ساتھ جلدی جلدی اسی جگہ آپہنچے،جہاں مجمع اِکٹھا ہو چکا تھا۔ماں باپ اپنے بیٹے سے لپٹ کر خوب پیار کرنے لگے۔لوگوں کے سوالات جاری تھے کہ اچانک پولیس کی موبائل سائرن بجاتے ہوئے تیزی سے گلی میں داخل ہو گئی۔
ایس ایچ او صاحب موبائل وین سے اُترے۔
ایس ایچ او صاحب نے لوگوں سے خاموش ہونے کو کہا اور انکل ایلف کی طرف قابل تحسین نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگے کہ جب تک آپ کے محلے میں انکل جیسی شخصیت موجود ہے،آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

ایس ایچ او صاحب مسکرائے اور انکل سے کہنے لگے کہ جی!اب آپ انھیں تمام ماجرا سنا ڈالیے۔انکل نے سب کو متوجہ پا کر کہا:”دوستو!کل جب آپ لوگ دوپہر کے وقت گھروں میں تھے،یہ بچہ آئسکریم لینے کے لئے گھر سے نکلا۔اس وقت گلی میں کوئی نہیں تھا۔
صرف سفید رنگ کی ایک اجنبی سوزوکی کھڑی تھی۔میں گیلری سے گلی میں دیکھ رہا تھا۔خطرہ محسوس کرکے میں نیچے آگیا۔اچانک دو آدمی گاڑی سے باہر نکلے ۔یہ بچہ جیسے ہی آئسکریم لے کر گاڑی کے قریب پہنچا تو اُن دونوں نے اسے پکڑا اور کھینچ کر اپنی گاڑی میں بیٹھا لیا۔
اس سے پہلے کہ وہ سوزوکی چلتی،میں نے پیچھے سے شور مچایا۔اغوا کاروں نے یہ سوچ کر کہ اس شخص نے ہمیں دیکھ لیا ہے،یہ گاڑی کا نمبر سب کو بتا دے گا۔ چنانچہ تھوڑا آگے جا کر انھوں نے گاڑی پیچھے کی اور مجھے بھی اندر کھینچ لیا اور گاڑی تیزی سے چل پڑی۔
انھوں نے میرے ہاتھ باندھے اور منہ میں کپڑا ٹھونس دیا،تاکہ شور نہ کر سکوں۔کافی دیر گاڑی چلنے کے بعد ایک سنسان علاقے میں داخل ہو گئی۔کوئی پرانی ٹوٹی ہوئی بلڈنگ تھی۔وہاں انھوں نے ہمیں ایک تاریک کمرے میں بند کر دیا۔ایک آدمی کو ہماری چوکیداری کے لئے باہر چھوڑ دیا اور باقی سب چلے گئے۔
اب ہم دو قیدی اور اس چوکیدار کے علاوہ اس سنسان علاقے میں کوئی نہیں ہے۔
ویران جگہ ہونے کے باعث منہ سے کپڑا تو انھوں نے نکال دیا تھا،البتہ ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔مجھے ایک ترکیب سوجھی۔میں نے آواز لگائی کہ اے میاں،بوڑھے آدمی کو پانی تو پلا دو۔
پہلے تو وہ تیار نہ ہوا،مگر زیادہ منت سماجت کی تو پانی لینے کہیں چلا گیا۔مجھے موقع ملا اور میں نے چپکے سے کوٹ کی جیب میں پڑا لائٹر نکال کر اپنی رسی کو جلایا۔رسی تھوڑی سی بل کھاتے ہوئے کھل گئی۔
جب تک وہ پانی لے کر آتا،میں نے بچے کی رسی کھول دی اور اسے پلان بتایا کہ میں اسے ڈنڈے سے مار کر گراؤں گا،پھر اسے اسی رسی سے مضبوط باندھ دیں گے۔

بہرحال جب چوکیدار پانی لایا تو میں نے کمرے میں رکھی موٹی لکڑی سے مار کر اسے گرا دیا اور ہم نے اسے مضبوطی سے باندھا۔یہاں سے نکل کر ہم روڈ پر آگئے۔معلوم نہیں تھا کہ کس سمت میں جانا ہے۔اللہ مدد،اللہ مدد کہتے ہوئے ہم دونوں ایک سمت تیز تیز جانے لگے۔
کافی دور جا کر ہم بُری طرح سے تھک گئے۔اسی وقت ایک پولیس وین آتی دکھائی دی تو میں نے ہاتھ ہلا کر انھیں رُکنے کا اشارہ کیا۔وہ رُکے تو میں نے ساری بات انھیں سنائی۔پولیس نے بحفاظت ہمیں یہاں پہنچا دیا۔ایس ایچ او صاحب کو بھی انھوں نے خبر دے دی تھی۔

انکل کی کہانی ختم ہوئی تو بڑی زور سے تالیاں بجنے لگ گئیں۔
سب سے پہلے قاسم چچا انکل کے گلے لگ کر رونے لگے اور معافی مانگی تو انکل نے انھیں بہت دلاسا دیا۔پھر باقی محلے والے بھی انکل کی تعریف کرنے لگے۔انکل ایلف کی بروقت حاضر دماغی کی وجہ سے ایک سانحہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Phool Naraz Nahi HooN Ge

پھول ناراض نہیں ہوں گے

Phool Naraz Nahi HooN Ge

Sadiq Ka Roza

صادق کا روزہ

Sadiq Ka Roza

Aqalmand Wazir K Hasid Dushman

عقلمند وزیر کے حاسد دشمن

Aqalmand Wazir K Hasid Dushman

Na Shukri Ki Saza

ناشکری کی سزا

Na Shukri Ki Saza

Bakhshi Mian

بخشی میاں

Bakhshi Mian

Anokha Bandar

انوکھا بندر

Anokha Bandar

Do Dost Do Dushman

دو دوست دو دشمن

Do Dost Do Dushman

Banty

بنٹی

Banty

Aik Kahani Bari Purani

ایک کہانی بڑی پُرانی

Aik Kahani Bari Purani

Sunehri Chiriya

سنہری چڑیا

Sunehri Chiriya

Hunar Mand Larki

ہنر مند لڑکی۔۔۔تحریر: مختار احمد

Hunar Mand Larki

Kund Zehen Bacha Bara Insaan Ban Giya

کُند ذہن بچہ بڑا انسان بن گیا

Kund Zehen Bacha Bara Insaan Ban Giya

Your Thoughts and Comments