Wazir Ya Ustad

Wazir Ya Ustad

وزیریااُستاد

ایک بادشاہ کے دو بیٹے تھے اوردونوں ہی بیوقوف تھے۔ بادشاہ کاوزیر بہت سمجھدار اور نہایت ایماندار تھا۔ اس لئے بادشاہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنے وزیر سے مشورہ لیتا تھا۔ دونوں شہزادے دل دہی دل میں وزیر سے حسد کرتے تھے۔

شیخ معظم الٰہی :
ایک بادشاہ کے دو بیٹے تھے اوردونوں ہی بیوقوف تھے۔ بادشاہ کاوزیر بہت سمجھدار اور نہایت ایماندار تھا۔ اس لئے بادشاہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنے وزیر سے مشورہ لیتا تھا۔ دونوں شہزادے دل دہی دل میں وزیر سے حسد کرتے تھے ۔
ایک دن دونوں شہزادے اپنی ماں کے پاس گئے اور اس بھی وزیر کے خلاف بھڑکایا تو ملکہ نے بادشاہ سے کہا کہ آپ ہمیشہ اپنے وزیر کے اشاروں پر چلتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑجائیں ، کبھی شہزادوں سے بھی مشورہ کرلیا کریں، وہ اتنے بیوقوف نہیں جتنا آپ انہیں سمجھتے ہیں۔
آپ ان دونوں سے ضرور مشورہ کیا کریں ورنہ ان بیچاروں کا دل ٹوٹ جائے گا ۔
بادشاہ نے اسی وقت اپنے دونوں شہزادوں کو بلایا اور کہا کہ میں کل تم دونوں کا امتحان لوں گا۔

(جاری ہے)

اس پر بڑے شہزادے نے کہا کہ اباجان ! آپ ہمیشہ ہمارا امتحان ہی لیتے رہتے ہیں، کبھی اپنے وزیر کا بھی امتحان لیجئے۔

بادشاہ نے کہا دیکھو ! تم دونوں اپنی عقل ، علم اور تجربے میں وزیر کی برابری نہیں کرسکتے ۔ خیر اگر تمہاری یہی ضد ہے تو کل تمہارے ساتھ وزیر کا بھی امتحان لیاجائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ اگر تم دونوں امتحان میں ناکام ہوگئے تو تمہیں نہ صرف وزیر سے معافی مانگنا ہوگی بلکہ اسے اپنا اُستاد بھی مانناپڑے گا۔
دونوں شہزادے اس پر راضی ہوگئے ۔ا گلے دن بادشاہ دونوں شہزادوں اور وزیر کو لیکر دور جنگل میں ایک ایسی جگہ چلا گیا جہاں مٹی کاایک بہت بڑا ڈھیر پڑاہوا تھا۔ بادشاہ نے دونوں شہزادوں سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم اس مٹی کو سونے میں بدل ڈالو یعنی کوئی ایسی تدبیر کرو جس سے ڈھیر ساری دولت بناسکو۔
شہزادے حیران ہوکر بادشاہ کی طرف دیکھنے لگے ۔ بادشاہ نے اُونچی آواز میں کہا کہ حیران ہو کر میرا منہ کیادیکھ رہے ہو، میں تمہیں ایک مہینے کا وقت دیتا ہوں تم دونوں ایک مہینے میں اس مٹی سے دولت کمانے کی ترکیب سوچو۔
اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو لیکر تھوڑے فاصلے پر ایسی ہی دوسری جگہ پہنچ گیا۔
بادشاہ نے وزیر سے بھی یہی بات کہی جو شہزادوں سے کہی تھی ۔ وزیر نے بڑے ادب سے کہا کہ جیساآپ کا حکم ہو حضور ! شہزادے کافی دیر تک سوچتے رہے لیکن دولت کمانے کی کوئی تدبیر سمجھ میں نہ آئی ۔ دن پردن گزرگئے۔ دو ہفتے گزرجانے کے بعدوہ دونوں گھبرانے لگے ۔
پھر انہوں نے سوچا کہ ضرور اس مٹی کے اندر کوئی خزانہ وغیرہ دفن ہوگا۔ یہ سوچ کر انہوں نے زمین کھودنا شروع کردیا لیکن پچاس ساٹھ فٹ گہرائی کے بعد بھی ان کو خزانہ نہیں ملا۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ آخرکار ہمت ہار کرہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے ۔

ایک مہینے کے بعد بادشاہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ دونوں شہزادے سرجھکائے بیٹھے ہیں۔ بادشاہ کو دیکھتے ہی وہ کھڑے ہوئے اور اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا۔ اس کے بعد بادشاہ اپنے دونوں شہزادوں کولے کر اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں وہ وزیر کو چھوڑ گیا تھا۔
وہاں جا کر اس نے دیکھا کہ بہت سارے کمہار مٹی کے برتن بنارہے تھے اور ہزاروں خوبصورت برتن بن کر تیارہوچکے تھے ۔ برتنوں کاڈھیر دیکھ کر بادشاہ بہت خوش ہوا۔ جب برتن مارکیٹ میں لے جاکر فروخت کئے گئے توان سے ہزاروں روپے حاصل ہوئے ۔ شہزادے اپنی بیوقوفی پر بڑے شرمسار تھے ۔ انہوں نے پہلے وزیرسے معافی مانگی پھر اسے اپنا اُستاد مان لیا۔

Your Thoughts and Comments