Yadgar Safar

یادگار سفر

اسکول میں موسم سرما کی چھٹیاں شروع ہو گئیں تو اس بار بچوں نے پہاڑی علاقوں میں برف باری کا منظردیکھنے کا منصوبہ بنایا اورکسی نہ کسی طرح امی ابو کو راضی کر لیا۔

جمعرات اگست

Yadgar Safar

عائشہ الیاس
اسکول میں موسم سرما کی چھٹیاں شروع ہو گئیں تو اس بار بچوں نے پہاڑی علاقوں میں برف باری کا منظردیکھنے کا منصوبہ بنایا اورکسی نہ کسی طرح امی ابو کو راضی کر لیا۔ابو نے کہا میں کل ٹرین کے ٹکٹ لے کر آؤں گا ،لیکن ٹکٹ نہ مل سکے۔

آخر ابو نے کار کے ذریعے سفر کا پروگرام بنالیا۔امی ابو کے ساتھ حسن اور مریم ضروری سامان سمیت گاڑی میں بیٹھ گئے ۔راستے میں گزرتے کھیت کھلیان،میدان ،نہریں وغیرہ دیکھ کرسب خوش ہورہے تھے۔کئی جگہ رک کر تصویریں لی گئیں اور فلم بھی بنائی گئی۔

آخر اسلام آباد پہنچ گئے ،جہاں ان کے کزن مہوش اورنبیل ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ایک رات اسلام آباد میں رک کر ہم مری کے لیے روانہ ہو ئے۔مری میں لوگوں کا بے پناہ ہجوم تھا،اس لیے کمرانہ مل سکا۔

(جاری ہے)

وہاں سے نتھیالگی جانے کا ارادہ کیا۔

روانہ ہوئے تو راستے میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ برف باری ہونے لگی۔گاڑی ایک طرف روک دی۔بچے ڈر کر دعائیں مانگنے لگے۔
آخر برف باری رک گئی ۔ہر جگہ برف ہی برف تھی،جیسے وادی نے سفید چادر اوڑھ لی ہو۔بچوں نے تصویریں لینا شروع کردیں۔
سب گاڑی میں بیٹھ گئے،لیکن اب گاڑی اسٹارٹ نہیں ہورہی تھی ۔گاڑی خراب ہو گئی تھی ۔اندھیرا بھی پھیلتا جارہا تھا۔آس پاس کوئی گاڑی نظر نہیں آرہی تھی ،اس لیے سب بہت پریشان ہوئے ۔ابو نے گاڑی سے اُتر کر پہاڑ سے نیچے دیکھا تو وہاں ایک کچا مکان نظر آیا،جس کی چمنی سے دھواں نکل رہا تھا۔
ابو نے کہا کہ ہم لوگ وہاں چلتے ہیں شاید وہاں رہنے والے ہماری کوئی مدد کر سکیں۔ہم نے اپنا ضروری سامان لیا اور نیچے اس گھر کی طرف چلے گئے۔انھوں نے کچے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بزرگ شخص نظر آئے ۔ابو نے ان کو بتایاکہ ہم مسافر ہیں اور ہماری گاڑی خراب ہو گئی ہے ۔
کیا آپ ہماری کوئی مدد کر سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اندھیرا ہو گیا ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا۔آج رات آپ لوگ میرے غریب خانے پر قیام کریں۔ہم لوگوں نے شکریہ ادا کیا اور مکان کے اندر داخل ہو گئے۔وہاں اس شخص کے بیوی اور بچے انگیٹھی کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔
ہمیں بھی فوراً انگیٹھی کے سامنے بٹھایا۔اس شخص کی بیوی نے چائے پیش کی ،جس سے ہم سب کو تازگی ملی ۔گھرکے لوگوں کو شاید بہت بھوک لگ رہی تھی۔امی نے ساتھ لایا ہوا کھانا ان کو پیش کیا۔اب ان بچوں کے چہرے پر رونق آگئی۔بزرگ شخص نے بتایا کہ ہمیں یہاں سردی کے دنوں میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

پانی کے لیے بھی برف کو پگھلانا پڑتا ہے ۔سب افسردہ ہو گئے ۔کہ ہم پہاڑی علاقوں میں گھومنے آتے ہیں اور جولوگ ہماری خدمت کرتے ہیں ان کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہمیں چاہئے کہ جب وادی میں گھومنے آئیں تو ان لوگوں کی ضرورت کا سامان ساتھ لے کر آئیں۔

تھکن کی وجہ سے سب لوگ جلد سو گئے۔صبح گھر کی کھڑکی سے باہر دیکھا کہ مکان کے پاس بڑے بڑے درخت ہیں اور گرم پانی کا چشمہ بھی بہ رہا تھا۔یہ دیکھ کر ہم لوگ بہت خوش ہوئے اور حیران بھی ہوئے کہ سردی میں بھی اللہ کی قدرت ہے کہ گرم پانی کا چشمہ بہ رہا ہے ۔
سب نے اس پانی سے منھ دھویا اور گرم پانی لے کر اپنی گاڑی کی طرف روانہ ہو گئے۔گاڑی میں گرم پانی ڈالا تو گاڑی اسٹارٹ ہو گئی۔نتھیاگلی پہنچے اور خوب لطف اُٹھایا۔واپسی میں دوبارہ بزرگ شخص کے گھر گئے اور اپنے سارے گرم کپڑے ان لوگوں کو دے دیئے جس سے وہ بہت زیادہ خوش ہو گئے ۔ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا۔پھر خدا حافظ کرکے اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔اس طرح یہ ایک یادگار سفر بن گیا۔

Your Thoughts and Comments