Zalim Badshah Ka Injaam

ظالم بادشاہ کا انجام

ایک ملک میں ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا وہ اپنی رعایا پر بہت ظلم کرتا تھا وہ بہت لالچی انسان تھا پر یاں بادشاہ کے محل میں داخل ہوئیں چند روز محل میں گزارنے کے لئے اس سے اجازت لی۔بادشاہ نے اجازت تو دے دی لیکن ان پر بھی بہت ظلم کیا اور ان کو قید کر دیا

منگل اکتوبر

Zalim Badshah Ka Injaam

ثروت یعقوب
کوہ قاف میں ایک پرستان تھا اس پر ستان میں بہت خوب صورت پر یاں رہتی تھیں وہ پریاں ہر وقت خوبصورت لباس میں ملبوس رہتی تھیں ان پریوں میں پانچ پریاں جن کے نام ستارہ،پھول ،نیلم ،گلابی اور ریشم پری تھے۔

ستارہ پری باقی چار پریوں سے بڑی تھی وہ پریاں پرستان میں بہت خوش تھیں ایک مرتبہ ریشمی پری نے باقی پریوں سے کہا کہ کیوں نہ انسانوں کی دنیاکی سیر کی جائے۔پریوں نے ریشم پری کی ہاں میں ہاں ملا دی جبکہ ستارہ پری اس پر آمادہ نہ ہوئی۔
اس نے صاف انکار کر دیا اس نے کہا ہم لوگ انسانی دنیا کے راستوں سے نا واقف ہیں انسانی دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں اور بُرے لوگ بھی ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں ۔
لیکن ریشم پری نے اس کی بات پر عمل نہ کیا اور اگلے دن اڑن قالین پر بیٹھ کر روانہ ہو گئیں وہ اڑتے اڑتے بہت دور پہنچ گئیں وہ تھک چکی تھیں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی ملک میں اتر کر تھوڑا آرام کرلیں وہ ایک ملک میں اتر گئیں اس ملک میں ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا وہ اپنی رعایا پر بہت ظلم کرتا تھا وہ بہت لالچی انسان تھا پر یاں بادشاہ کے محل میں داخل ہوئیں چند روز محل میں گزارنے کے لئے اس سے اجازت لی۔

(جاری ہے)

بادشاہ نے اجازت تو دے دی لیکن ان پر بھی بہت ظلم کیا اور ان کو قید کر دیا اور ان کو واپس نہ جانے دیا ادھر پرستان میں ستارہ پری اپنی دوستوں کے لے بہت فکرمند تھی اس نے کوہ قاف کے بادشاہ بزرگ سے بات کی کوہ قاف کے بادشاہ نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ وہ پریوں کو ڈھونڈ کر لائے۔

بادشاہ کے بیٹے کے پاس ایک چراغ تھا وہ چراغ اس کو ہر چیز کے بارے میں بتا دیتا تھا چراغ نے اس کو پریوں کے بارے میں بتا دیا۔بادشاہ کے بیٹے نے کچھ سامان ساتھ لیا اورا پنے سفر پر چل پڑا۔اس نے
اس ملک میں جہاں وہ بادشاہ حکومت کرتا تھا اعلان کروایا کہ جو شخص پریوں کو اس کے حوالے کردے گا تو وہ اس کو کوہ قاف لے جائے گااور کوہ قاف کا بادشاہ بنا دیا جائے گا اور اس کی شادی پرستان کی ملکہ سے کی جائے گی۔

جب ظالم بادشاہ نے یہ اعلان سنا تو اس نے فوراً کوہ قاف کے بادشاہ کو بلایا ظالم بادشاہ نے اس کو بتایا کہ پریاں اس کے قبضے میں ہیں۔ شہزادے نے کہا کہ انھیں کو ہ قاف کے بادشاہ کے حوالے کردیں اور بادشاہ کی دی ہوئی یہ سوغات کھالیں ۔
ظالم بادشاہ نے سوغات کو کھایا تو وہ فوراً مر گیا کیونکہ کو ہ قاف کے بادشاہ نے اس میں زہر ملا دیا تھا پریاں بہت خوش تھیں وہ لوگ فوراً پرستان پہنچیں ستارہ پری پریوں سے مل کربے حد خوش ہوئیں پریوں نے عہد کر لیا کہ وہ آئندہ کسی بڑے کی رہنمائی کے بغیرکہیں اور جگہ پر نہیں جائیں گی اور ادھر ظالم بادشاہ کے مرنے سے رعایا بہت خوش ہوئی۔

Your Thoughts and Comments