6 September Shujat O Shahadton Ki Kahani

6 ستمبر شجاعت و شہا د توں کی کہانی

میر عرب نے جس جانب سے ٹھنڈی ہوا کی بشارت دی اسی لمحے اس سمت کی قسمت بدل گئی پھر حضرت قائداعظم نے فرمایا کہ جس دن پہلا ہندو مسلمان ہوا پاکستان کی بنیاد پڑ گئی ۔ مسلم لیگ کی جدو جہد اور قائداعظم کے مدلل موقف کے آگے ہندو کی مکاری اور انگریز کی شر انگیزی بے بس ہوگئی ۔

جمعرات ستمبر

6 September shujat o shahadton ki kahani

عزیز ظفر آزاد
میر عرب نے جس جانب سے ٹھنڈی ہوا کی بشارت دی اسی لمحے اس سمت کی قسمت بدل گئی پھر حضرت قائداعظم نے فرمایا کہ جس دن پہلا ہندو مسلمان ہوا پاکستان کی بنیاد پڑ گئی ۔ مسلم لیگ کی جدو جہد اور قائداعظم کے مدلل موقف کے آگے ہندو کی مکاری اور انگریز کی شر انگیزی بے بس ہوگئی ۔

سازشیوں نے نو مولود مملکت کو مقررہ وقت قبل ہی نامکمل حالت میں جنم دیا تاکہ عالم تولےد میں ہی دم توڑ جائے ۔ گاندھی تقسیم بھارت کو گاﺅ ماتا کے ٹکڑے کرنے سے تعبیر کرتا تھا مہا بھارت کو توڑنے کو خدا ﺅں کا غضب تصور کرتے تھے لہذا اکھنڈ بھارت ہندو دھرم کا اہم ترین حصہ ہے ۔
ہر ہندو اپنے دھرم کے مطابق مہابھارت کے لئے اکھنڈ بھارت کے فلسفہ پر کاربند تھا اور ہے ۔ بھارتی مہاشوں نے جب دیکھا کہ پاکستان ہزار چالوں سازشوں کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا جا رہا ہے تو نئی منصوبہ بندی کے تحت جمہوریہ چین سے چھیڑ خانی کی گئی۔

(جاری ہے)

چھوٹی موٹی جھڑپوں کابہانہ بنا کردنیا کے سامنے عدم تحفظ کا واویلا کیا ۔جس کے جواب میں روس امریکہ اور یورپی ممالک سے گولا بارود اور اسلحہ کے ڈھیر بھارت منتقل ہونے لگے ۔ ہندو چین سے لڑنے کی جسارت تو نہیں کر سکتا تھا البتہ ساراڈرامہ فوجی قوت کا حصول تھا۔
اب مکار بنئے نے اس اسلحے کے زور پر پاکستان کو نہ صرف دھمکانا شروع کیا بلکہ اکھنڈ بھارت کے خواب کو تعبیر دینے کی حکمت عملی مرتب کی ۔
گولا بارود اور عسکری برتری کے تکبر میں مبتلا بدمست بھارتیوں نے بھارتی گجرات سے متصل علاقہ رن آف کچھ پر ہماری رینجر سے چھیڑ چھاڑکی ۔
4اپریل 1965ءکو باقاعدہ حملہ کرکے خنجر کوٹ اور ڈھنگاور اور دیگر علاقوں پر قابض ہوگیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جنرل ٹکا خان کو یہ علاقہ خالی کرانے کی مہم سونپی جو جلد اور خوش اسلوبی سے بھارتی ٹڈی دل سے خالی کرالیے گئے ۔ بھارتی فوج کو خاصا نقصان ہوا امریکہ ساخت کا خطیر اسلحہ اور گاڑیاں بھی مال غنیمت کے ساتھ حاصل ہوئیں ۔
اس شرمناک شکست کے جواب میں لعل بہادر شاستری نے بین الاقوامی سرحدی قانون کو پامال کرتے ہوئے اب اپنی مرضی کا محاذ کھولنے کا عندیہ دیا مئی 65ءمیں کشمیر کے سکرود سیکٹر میں پاک فوج کی تین اہم چوکیوں پر قبضہ کرلیا جہاںہمارے چند سکاﺅٹ تعینات تھے ۔
ان حرکتوں کے ساتھ بھارت مسلسل پاکستانی بارڈر کے قریب فوجیں بڑھاتا رہا ۔کنٹرول لائن کے ساتھ تقریبا ً ڈیڑھ لاکھ فوج پہنچ چکی تھی پاکستان نے اس کے جواب میں اپریشن جبرالٹر کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے 14جولائی 65ءکو مجاہدین کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کر دیا ۔
7اگست کو مقبوضہ کشمیر میں زبردست کاروائی سے بھارتی حکومت اور فوج بری طرح بوکھلا کر سرینگر کی طرف چل دوڑی ۔ پاکستانی فوج یکم ستمبر کو چھمب کے راستے جنگ بندی لائن عبورکرکے دریائے توی تک پہنچے ۔ بھارتی غرور کو ملیا میٹ کرتے ہوئے جوڑیاں پر قبضہ کرلیا ۔
ہماری وزارت خارجہ نے آخری وقت تک یقین دہانی کرائی کہ بھارتی بین الاقوامی لائن عبور نہیں کریں گے مگر بھارت نے 5اور 6ستمبر رات کی تاریکی میں غیر اعلانیہ طور پر لاہور کے تین اطراف سے حملہ کیا تاکہ لاہور پر آسانی سے قبضہ ہو سکے ۔
ان فرعون زادوں نے لاہور کی جانب رخ کرتے ہوئے اپنے ذرائع ابلاغ پر اعلان داغ دیا کہ لاہورپر قبضہ ہو چکا ۔ بی بی سی نے بھی تصدیق کے بغیر خبر جاری کردی کہ بھارتی فوجیں لاہورمیں داخل ہوگئیں ۔ ٹینکوں جہازوں اور بارود کے بل پر انہیں یقین تھا کہ چند گھنٹوںمیں لاہور ہمارا ہوگا بلکہ بھارتی وزیراعظم اور کمانڈر چیف جنرل چوہدری نے اپنی کابینہ کے چند ارکان کے علاوہ دیگر اہم بھارتی عہدیداروں کو ڈنر کی دعوت لاہور جم خانہ میں جشن فتح منانے کے لئے دے چکے تھے مگر وہ تاریخ کے سبق بھول گئے تھے انہیں ادراک ہی نہ تھا کہ لاالہ الا اللہ کے کلمہ میں کتنی قوت ہے اب اس ارض پاک کی حفاظت اسلحہ اور بارود سے زیادہ شوق شہادت کے ذریعے ہوگی ۔
اس کشور حسین کے محافظ غازیوں شہیدوں اور سرفروشوں سے مقابلہ ٹڈی دل لشکر کے بس کی بات نہیں ۔ لاہور محاذ پر ایک جانب میجر آفتاب اللہ اور ان کے مختصر ساتھیوںنے بر وقت بی آربی نہر پر واقع تمام پل توڑ ڈالے دوسری سمت میجر حبیب اللہ نے ہڈیارہ گاﺅں کے نزدیک ایک کمپنی کی مدد سے دشمن کے سات ڈویژن کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا ۔
تیسری طرف میجر عزیز بھٹی شہید کی کمپنی نے لہوکی دیوار سے بھارتیوں کا رستہ دشوار کر ڈالا ان کی بہادری اور کامیاب حکمت عملی کے اعتراف میں جناب میجر عزیز بھٹی کو نشان حیدر کا اعزاز دیا گیا ۔ محاذ پر توفوج کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے گلشن کے تحفظ کی قسم کو نبھارہے تھے دوسری جانب لاہور کے عام شہری ڈنڈے کلہاڑیاں اور گنڈاسے لیکر سرحد کی جانب جوق در جوق رخ کئے تھے ہر بندہ خدا رضائے الٰہی کے لئے شوق شہادت نوش کرنے کو بیتاب و بے قرار نظر آرہا تھا ۔
منظر دینی تھا زندہ دلان لاہور ہوائی حملوں سے بے خوف لطف اندوز ہو رہے تھے کسی محاذ پر بھی جذبہ ایمانی میںکمی نہیں دکھائی دی ۔ صوبہ سندھ میں حر مجاہدین پاک فوج کے شانہ بشانہ شجاعت کی داستانیں رقم کر رہے تھے کشمیر اور سیالکوٹ کے محاذ پر پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی فوج کے کئی ڈویژنوں کو ناکارہ کر رکھا تھا ۔
سیالکوٹ کے محاذ چاونڈا ٹینکوں کی لڑائی کے حوالے سے اپنی تاریخ رکھتا ہے بھارتی اور مغربی ذرائع کے مطابق چھ سو ٹینکوں کا حملہ پسپا ہونا ناممکن ہے جسے اللہ کے سپاہیوں نے اپنے سینے پر بم باندھ کر دنیائے حرب میں نئی تاریخ رقم کر ڈالی ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی پیدل انسانو ں نے جیتی ۔ بھارتی کمانڈرمیجر جنرل نارنجن اس محاذ سے زخمی حالت میں پیدل فرار ہوا ۔1965کی جنگ ستمبر شہیدوں غازیوں شہ سواروں کے خون سے لکھی وہ دبستان ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو ہمیشہ تمانت اور سرفرازی عطا کرتی رہے گی ۔
برےگیڈیئر احسن رشید شامی ، خواجہ یونس حسن اور ایم ایم عالم کے کارنامے عالم حرب میں ہمیشہ پاکستان کو سرخر و اور سرفراز رکھیں گے ۔
1965ءکی جنگ نے پاکستانی قوم اور فوج کو بے انتہا خوداعتمادی قوت مدافعت اور احساس تفاخر عطا کیا تو ہنود یہود کو مزید قریب لانے کا سبب بھی بنی اس جنگ کے بعد اسلام دشمن قوتیں اس نکتہ پر اتحاد و اتفاق کر چکیں ہیںکہ اگر پاکستان کو پھلنے پھولنے کا موقع میسر آگیا تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو دنیا میں پھیلنے سے نہیں روک سکتی لہذا جمیعت کفار مشترکہ طور پر اس مشن میں تمام وسائل جھونک رہی ہے جس کے بیشمار ثبوت افغانستان صوبہ سرحد سندھ خصوصاً کراچی اور بلوچستان میں نظر آنے والی انارکی نفاق انتشار اور خلفشار سے مہیا ہو چکے ہیں فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ ہم نے اغیار کی غلامی کرنی ہے یا لاالہ الا اللہ کا پرچم بلند رکھنا ہے ؟

Your Thoughts and Comments