Allama Iqbal Ki Saadgi

علامہ اقبال کی سادگی

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں ،جنھیں مصورِ پاکستان بھی کہاجاتا ہے ۔علامہ اقبال ایک ایسے عظیم مفکر اور بڑے فلسفی تھے ،جن کے مزاج میں شگفتگی ،رحم دلی اور عاجزی جیسی صفات موجدد تھیں ۔

جمعرات نومبر

allama Iqbal ki saadgi

نسرین شاہین
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں ،جنھیں مصورِ پاکستان بھی کہاجاتا ہے ۔علامہ اقبال ایک ایسے عظیم مفکر اور بڑے فلسفی تھے ،جن کے مزاج میں شگفتگی ،رحم دلی اور عاجزی جیسی صفات موجدد تھیں ۔

ان کی محفل ہر ایک کے لیے عام تھی ۔طالب علم ،استاد ،جج ،بڑے بڑے افسران ،یہاں تک کہ ہندوستان سے باہرکے لوگ بھی بڑے ذوق شوق سے ان کی محفل میں شریک ہوتے اور علامہ کے علم سے فیض اُٹھاتے تھے ۔علامہ اقبال کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو سادگی بھی ہے ۔

علامہ اقبال کی زندگی سادگی کا مکمل نمونہ تھی ۔ان کے گھر میں غیر سازوسامان اور شان وشوکت نہیں تھی ۔حال آنکہ بڑے بڑے افسران وحکام اور اربابِ علم وفن اکثر علامہ اقبال کے پاس آتے تھے ۔وہ عموماً نواڑ کی چارپائی پر تکیہ لگائے نیم دراز حالت میں حقہ پیتے تھے ۔

(جاری ہے)

سادگی کا یہ عالم تھا کہ اکثر جسم پر صرف بنیان اور تہ بند ہوتا تھا ۔اسی حالت میں وہ مختلف مرتبے کے لوگوں سے ملاقات کرتے تھے ۔کسی سے ملتے وقت کبھی تو چار پائی پر بیٹھ جاتے اور کبھی تکیے کے سہارے ایک کروٹ لیے لیٹے لیٹے گفتگو کرتے تھے ۔

روایت ہے کہ پنجاب کے ایک دولت مند شخص نے ایک قانونی مشورے کے لیے علامہ اقبال اور سر فضل حسین کے ساتھ کے دو اور مشہور قانون داں حضرات کو اپنے گھر بلایا اور اپنی شان دار کوٹھی میں ان کے قیام کا انتظام کیا۔رات کو جس وقت اقبال اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے گئے تو ہر طرف عیش وآرام کے سامان دیکھ کر ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ جس نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم اُمت ہیں ،انھوں نے بوریے پر سوسو کر زندگی گزاری تھی ۔
یہ خیال آنا تھا کہ آنسو بہنے لگے ۔اقبال اُٹھے اور ایک کرسی پر بیٹھ گئے اور روتے رہے ۔جب دل کو ذرا قرار آیا تو ایک چار پائی بچھوائی اور اس پر لیٹے ۔
اقبال کی سادگی کے حوالے سے بیر سٹر مرزا جلال الدین لکھتے ہیں :”معاشرتی بحثوں میں وہ ہمیشہ سادہ زندگی اختیار کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے ،بلکہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی کو اپنا اسلوب بنانا چاہتے تھے ۔
جب وہ میری درخواست پر انار کلی سے میکلوروڈ پر اُٹھ آئے تو ان سے مکان کی آرایش کے لیے کہا کہ وہ اس کے مردانہ کمروں کو ڈرائنگ اور ڈائننگ کی صورت میں تقسیم کردیں ،مگر اس پر انھوں نے یہی فرمایا کہ وہ کسی قسم کے بے معنی تکلفات میں اُلجھنا نہیں چاہتے ۔
چناں چہ کوٹھی میں رہایش اختیار کرنے کے باوجود انھوں نے اپنا رہن سہن کا طریقہ وہی رکھا ،جو انار کلی کے بازار کے قیام کے دوران میں تھا ۔“
سادگی ،قناعت اور تو کل علامہ اقبال کی فطرت تھی ۔ان کے مزاج میں نفاست پسندی حددرجہ موجود تھی ،لیکن خوش ذائقہ غذائیں پسند تھیں ۔
اقبال کے خاص ملازم علی بخش نے ایک بار بتایا :”اب تو میں خدا کے فضل سے اچھا خاصا باورچی ہوں ،لیکن اس زمانے میں جب مجھے کچھ واجبی ہی کھانا پکانا آتا تھا ،پھر بھی جیسا کچھ پکاکر ڈاکٹر صاحب کے سامنے رکھتا ،وہ صبر وشکر کرکے کھالیتے تھے ۔

علامہ اقبال جب بھی کہیں اپنا نام تحریر کرتے تو ہمیشہ محمد اقبال لکھتے تھے ۔اقبالیات کی کتابوں میں جتنے بھی خطوط شائع ہوئے ہیں ،ان کے نیچے محمد اقبال لکھا ہوا ہے ۔جب کہ انگریز کے دور میں بہت سے لوگ محمد کی جگہ ایم لکھا کرتے تھے ،لیکن اقبال کا دل رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سر شار تھا ۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ مبارک زبان پر آتے ہی ان کی آنکھیں اشک بار ہو جاتیں ۔قرآن پاک سے اقبال کی محبت بھی دیکھنے والی تھی ۔تلاوت کرتے وقت اتنا روتے تھے کہ قرآن کے اوراق آنسوؤں سے بھیگ جاتے تھے ،جنھیں خشک کرنے کے لیے ہوا میں رکھ دیا جاتا تھا ۔

صغرا ہمایوں مرزا ایک معروف ادیبہ اور شاعرہ تھیں ۔وہ اپنے شوہر کے ساتھ علامہ اقبال سے اپنی ملاقات کا حال یوں بیان کرتی ہیں کہ 1928ء میں جب ہم کشمیر گئے تو راستے میں چند دن لاہور ٹھیر نا پڑا۔میرے شوہر بیر سٹر صاحب ،سر محمد اقبال سے ملنے گئے ۔
اس کے بعد علامہ کی بیگم صاحبہ نے موٹر بھیج کر مجھے بلوایا۔میں نے ایک نظم نور جہاں کے مزار پر پیش کرنے کے لیے لکھی تھی ،وہ سر محمد اقبال کو دکھائی ۔اس میں انھوں نے اصلاح دی ۔اس طرح وہ میرے استاد بھی ہوئے ۔میری آٹو گراف البم میں سر محمد اقبال صاحب نے انگریزی میں ایک جملہ لکھا ،جس کا اردو ترجمہ یہ ہے :
”اسلام کی تعریف چند الفاظ میں ظاہر کرتا ہوں ،یعنی ذاتِ باری پر پورا بھروسا ہے اور میں موت سے مطلق نہیں ڈرتا ۔
“محمد اقبال ،لاہور ،11 /جولائی 1928ء
علامہ محمد اقبال نے ہمیشہ سادہ اور شان وشوکت کے بغیرزندگی بسر کی ۔سرر اس مسعود کو ایک خطہ میں لکھتے ہیں :”میں کوئی امیرانہ زندگی کا عادی نہیں ۔بہترین مسلمانوں نے سادہ اور درویشانہ زندگی بسر کی ہے ۔
ضرورت سے زیادہ کی ہوس کرنا،رپے کا لالچ کرنا ،کسی طرح بھی مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہے ۔آپ کو میرے اس خط سے یقینا تعجب نہ ہوگا ،کیوں کہ جن بزرگوں کی آپ اولاد ہیں ،وہ ہم سب کے لیے زندگی کا نمونہ ہیں ۔ان کا شیوہ ہمیشہ سادگی اور قناعت رہا ہے ۔“

Your Thoughts and Comments