Bachon Ki Tarbiyat Kathan Magar Azhad Zaroori - Article No. 1195

بچوں کی تربیت کٹھن مگر از حد ضروری

گزشتہ دنوں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ایمل نامی بچے نے کافی تعداد میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ مل کر ایک ریلی نکالی۔جس کا عنوان ”ماں باپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا اور موبائل فون کے بے جا استعمال سے گریز کریں “تھا ۔بچوں نے اپنے ماں باپ کے خلاف نعرے بھی لگا ئے ۔جس میں یہ بھی کہا گیا کہ ”ہمارے ساتھ کھیلو اپنے موبائل فون کے ساتھ نہیں “

ہفتہ ستمبر

bachon ki tarbiyat kathan magar azhad zaroori

عمارہ ارشد
گزشتہ دنوں جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ایمل نامی بچے نے کافی تعداد میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ مل کر ایک ریلی نکالی۔جس کا عنوان ”ماں باپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا اور موبائل فون کے بے جا استعمال سے گریز کریں “تھا ۔

بچوں نے اپنے ماں باپ کے خلاف نعرے بھی لگا ئے ۔جس میں یہ بھی کہا گیا کہ ”ہمارے ساتھ کھیلو اپنے موبائل فون کے ساتھ نہیں “۔اس احتجاج کا مقصد والدین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا تھا ،بچے کسی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں وہ جو کہ نہ صرف آنگن کے پھول ہوتے ہیں بلکہ ملک کا مستقبل بھی سنوارتے ہیں ۔
یہ بات از حد درست ہے کہ گزرتے وقت اور ٹیکنا لوجی کے ساتھ ساتھ جہاں ہر ایک کی زندگی میں تبدیلی رونما ہوئی ہے وہیں بچوں کی زندگی بھی اس ٹیکنالوجی سے بے حد متاثر ہوئی ہے ۔

(جاری ہے)

پہلے زمانے میں والدین اپنا سارا وقت بچوں کی تر بیت کرنے میں گزارتے تھے لیکن اب سائنس و ٹیکنا لوجی کی ترقی کی بدولت والدین اپنی مصروف زندگی میں سے بچوں کیلئے وقت نہیں نکا ل پاتے۔


جس کی وجہ سے بچے بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور جب والدین ان پر بھر پور توجہ نہیں دیتے تو وہ غیر ضروری سر گرمیوں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں کیونکہ انسان معاشرتی حیوان ہے اور ہمیشہ محبت ہمدردی کو پسند کرتا ہے ۔اس لئے جب بچوں کو والدین کی طرف سے توجہ نہیں ملتی تو وہ مایوسی اور غم کا شکا ر ہو جاتے ہیں ۔
پڑھائی میں توجہ نہیں دیتے اور دوست بنا لیتے ہیں جو کہ ان کو توجہ دے سکے اور والدین کی عدم تو جہی کی وجہ سے ہی بچے جو کہ بہت ذہین اور محنتی ہوتے ہیں وہ پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں یا پڑھائی کو غیر ضروری سمجھ کر کم توجہ دینے لگتے ہیں اور جب ان کا رزلٹ خراب آتا ہے توماں باپ کی طرف سے انہیں پھر ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
جس کی وجہ سے بچے کی دماغی صلاحیت بہت متاثر ہوجاتی ہے ۔اس لئے یہ والدین کا فرض ہے کہ اولاد کی بھر پور اور بہترین تربیت کی جائے ۔بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت بھر ا رویہ اختیار کیا جائے ۔ہر وقت ان پر ذہنی بوجھ نہ ڈالیں کیونکہ اس سے بچہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے ۔

والدین کو چاہئے کہ اپنی مصروف زندگی میں سے آدھا وقت اپنے بچوں کو دیں ۔ان سے کھیلیں ،انہیں اپنی زندگی کے اچھے تجربات بتائیں ،انہیں مختلف کہا نیاں سنائیں جو ان پر اچھے اثرات مرتب کر سکیں ۔بچے کے ذہن میں کسی قسم کے منفی خیالات نہ آنے دیں کیونکہ منفی خیالات اور سوچ غلط رجحانات کو جنم دیتے ہیں ۔
ان میں مثبت رویے کو فروغ دیں اور بچوں کو تھوڑی سی ذمہ داری سونپیں ۔ان کا اعتماد بحال کریں ،انہیں بتائیں کہ وہ آپ کے لئے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ۔بچوں کو خود کام کرنے کا موقع دیں اس طرح ان کا اعتماد بحال ہو گا کیونکہ عدم تو جہی معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے ۔
گھر اور بچے ہی معاشرے کی اکائی ہیں اگر یہ گرفت مضبوط ہو جائے تو معاشرہ یو نہی آگے بڑھتا ہے ۔اسی لئے بچوں کو کبھی نظر انداز مت کر یں اور انہیں اہمیت دیں کیونکہ آپ کی تربیت ہی ان کے لئے اور ملک کا بہترین کاوش ہے اور ملک کامستقبل اگر نظر انداز ہو گا تو کبھی بھی اچھا معاشرہ وجود میں نہیں آئے گا ۔

مزید متفرق مضامین

Aik Or Aik Baara

ایک اور ایک بارہ

Aik Or Aik Baara

Sacha Ustaad

سچا استاد

Sacha Ustaad

Nanhi Konplain Kaliyan Aur Kiyariyan

ننھی کو نپلیں ، کلیاں اور کیاریاں

Nanhi Konplain Kaliyan Aur Kiyariyan

Microsoft Ki Shahzadi

مائیکروسافٹ کی شہزادی

Microsoft Ki Shahzadi

Heran Kun Karnama Injaam Dainay Par 5 Sala Bachay Ko Qeemti Mercedes Ka Tohfa

حیران کن کارنامہ انجام دینے پر 5 سالہ بچے کو قیمتی مرسڈیز کا تحفہ

Heran Kun Karnama Injaam Dainay Par 5 Sala Bachay Ko Qeemti Mercedes Ka Tohfa

Zaheen Bache

ذہین بچے طویل عمر پاتے ہیں

Zaheen Bache

Or Qanoon Jeet Giya

قانون جیت گیا

Or Qanoon Jeet Giya

Ab Pachtawe Kiya Howat

اب پچھتائے کیا ہووت

Ab Pachtawe Kiya Howat

Sanobar Khan Or Nawaan NOTE

صنوبر خان اور نواں نوٹ

Sanobar Khan Or Nawaan NOTE

JadoGarni Or Shehzada Nasir

جادو گرنی اور شہزادہ ناصر

JadoGarni Or Shehzada Nasir

Shaadi Or Khana

شادی اور کھانا

Shaadi Or Khana

PooriyaaN

پوریاں

PooriyaaN

Your Thoughts and Comments