Bachoon Ka Aalmi Din

Bachoon Ka Aalmi Din

بچوں کا عالمی دن

سندھی،بلوچی،پنجابی اور پٹھان ہم سب کی پہچان پاکستان ہے جب ہم اس پر عمل کرتے ہیں تو بچوں کو مساوی حقوق کیوں نہیں دیتے؟ ہرسکول میں ایک نصاب کیوں نہیں؟بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں

مظہر حسین شیخ:
20نومبرکوبچوں کاعالمی دن منایا جاتاہے،اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم،صحت،تفریح اور ذہنی تربیت کے حوالے سے شعور اْجاگر کیا جائے تاکہ دنیا بھر کے بچے مستقبل میں معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔
اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کے حقوق انسانی کی حمایت کے باعث بین الاقوامی تحریک کو تقویت ملی۔1989ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے منظور شدہ حقوق کااعلان کیا جبکہ 20نومبر 1990ء کو دنیا کے تقریباً 186 ممالک نے بچوں کے عالمی دن کی منظور شدہ حقوق کے مطابق باضابطہ حمایت کر کے اسے قانونی شکل دے دی اور ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن قرار دیا۔

تاریخی حقائق کے مطابق 1950ء کے عشرے میں بچوں کے بارے میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ترقی پذیر ممالک کے بچے صحت، تعلیم اور تفریح کی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے بچے غیر معیاری کتابوں اوررسالوں کے ذریعے ذہنی آسودگی حاصل کرتے تھے۔

(جاری ہے)

بچوں کا عالمی دن ہر سال 20 نومبر کو منانے کے لئے اقوام متحدہ بچوں سے متعلق ادارہ ”یونیسیف“ ایک خاص عنوان تجویزکرتا ہے جس کا تعلق بچوں کی تعلیم و تربیت اور نشوونما سے ہوتا ہے۔
دنیا بھر کے ممالک اقوام متحدہ کے تجویز کردہ عنوان کی روشنی میں بچوں کا عالمی دن جوش وخروش سے مناتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر چائلڈ لیبر کے بارے میں عنوان دیا گیا ہو تو بچوں سے مشقت لینے پرخبارات،ریڈیو،ٹیلیویڑن مباحثوں،مذاکروں اور مختلف پروگراموں کے ذریعے جس کا مقصد بچوں اور بڑوں میں اس بْرائی کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہوتا ہے۔
ہرسال 20نومبر کوپوری دْنیا میں بچوں کا عالمی دن بڑے جوش وجذبے سے منایا جا تا ہے۔تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے،بچوں کے حوالے سے ان کی بہتری کے لئے غوروفکر کیاجاتاہے تقریریں کی جاتی ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں صرف تقریریں کی جاتی ہیں عملی سطح پر کوئی کام نہیں کیا جاتا۔

#بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
# بچے پھول ہیں بچوں سے محبت سے پیش آنا چاہئے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا ہم اور آپ بچوں کے حقوق کی طرف توجہ دے رہے ہیں؟
#کیا دیہات اور شہر کے سکولوں میں بچوں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں؟
#کیاگھروں،ہوٹلوں اوردیگرکاروباری مراکز میں مالکان کام کرنے والے بچوں سے اپنے بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں؟
#دیہی علاقوں میں بچوں کے لئے صحت کے مراکزقائم کئے گئے ہیں کیاان پر عملدرآمد ہو رہا ہے؟
#سڑکوں پر گاڑی صاف کرنے کوڑا کرکٹ اٹھانے والے بچوں کی پڑھائی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
#بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے کس حد تک کام ہو رہا ہے؟
#کیابچوں کے امورکے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر علیحدہ وزارت یا ڈویڑن نہیں بنانی چاہئے ؟یہ وہ سوالات ہیں جن کاجواب شاید کوئی بھی نہیں دے سکتا۔
ان پر عملی سطح پر کام کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ان قوموں نے ترقی کی جن قوموں نے بچوں کے حقوق کے لئے کوششیں جاری رکھیں اور ان پرعملی سطح پر کام کر کے دکھایا،بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے ہم 20 نومبر کو بچوں کا دن منا تو لیتے ہیں لیکن اس پرعمل نہیں کرتے۔
پاکستان میں اس وقت ہوٹلوں ، بڑی دکانوں اور دوسرے کاروباری مراکز میں بچوں سے مشقت لی جاتی ہے جوکہ غیر انسانی سلوک ہے۔
ایک سروے رپورٹ کے مطابق 60 فیصد بچے اس لئے تعلیم حاصل کرناچھوڑدیتے ہیں کہ سکول میں مار پیٹ اورڈانٹ ڈپٹ سے کام لیا جاتا ہے۔
بچے پھول کی مانند ہوتے ہیں انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہیں پیار سے سمجھانے کی ضرورت ہے آپ کی پیاربھری توجہ ان کی زندگی بدل سکتی ہے اورعدم توجہ بچے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
اساتذہ بچے کو نہ پڑھنے پر سزا دیتے ہیں۔اس سزا کا یہ مطلب ہے کہ اساتذہ کرام بچے کو پڑھانے میں ناکام ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں میں ایسا شعور اْجاگر کیا جائے جس سے بچے میں خود بخودتعلیم حاصل کرنے کاشوق پیداہوایسے سکول جہاں بچوں کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے وہاں وہ بڑے شوق سے پڑھنے جاتے ہیں۔سزا بچوں میں اصلاح پیدا نہیں کرتی بلکہ بچوں کو پڑھائی سے بیزار اورخود سر بنادیتی ہے۔
بچپن سے ہی اگر بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو یقیناً ان کا مستقبل بھی روشن ہوگااوراگر بچپن سے ہی مار پیٹ ڈانٹ ڈپٹ کی جائے تو بچوں میں خود اعتمادی نہیں رہے گی بلکہ ان کی جسمانی اورذہنی نشوونمامیں بھی رکاوٹ پیداہوگی۔یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر بچے مار کی وجہ سے نہیں پڑھنے جاتے۔

40 فیصد بچے ایسے ہیں کہ جن کے گھریلو حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ پڑھ لکھ سکیں حالانکہ ان میں ایسے بچے بھی موجود ہیں جو بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیں اگرہر امیر آدمی صرف ایک بچے کوپڑھانے کی ذمہ داری اٹھا لے تو بڑی حد تک چائلڈ لیبرپرقابو پایا جا سکتا ہے۔
بڑوں کی طرح بچوں کے بھی مسائل ہوتے ہیں۔اگران کے مسائل کا حل ڈھونڈ لیاجائے توہمارا پیاراوطن پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوسکتا ہے۔
ہر بچہ قدرتی طور پر کسی نہ کسی معاملے میں ضدی ہوتا ہے لیکن اگر بچے کو پیار اور محبت سے سمجھایاجائے تو کافی حد تک اس کی ضد پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچے میں اتنا شعور پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ آپ کے اشارے کوسمجھنے لگتا ہے۔سندھی،بلوچی،پنجابی اور پٹھان ہم سب کی پہچان پاکستان ہے جب ہم اس پر عمل کرتے ہیں تو بچوں کو مساوی حقوق کیوں نہیں دیتے؟ ہرسکول میں ایک نصاب کیوں نہیں؟بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
اس سرمائے کا ہم خاص خیال رکھتے ہیں؟نہیں ہرگزنہیں ورکشاپوں میں ہم اس سرمائے سے محنت مزدوری کرواتے ہیں اور ایسے کئی ادارے ہیں جو بچوں کی طاقت سے کئی گنا زیادہ محنت مشقت کرواتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے بڑوں سے اثر لیتے ہیں۔
حال ہی میں سندھ اسمبلی میں جو ہنگامہ برپا ہواوہ کسی سے ڈھکا چھپانہیں،ہمارے حکمران اور سیاستدان شاید یہ بات بھول چکے ہیں کہ آج کے بچے جنہیں ہم بچہ سمجھتے ہیں بڑی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں اور بعض اوقات تو بڑے بھی انکی عقلمندانہ سوچ پرحیران رہ جاتے ہیں۔بڑوں کو چاہئے کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے بچوں کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوں۔

Your Thoughts and Comments