Big Ban Ki Awaz Akhar Bund Kuo Hogai

بگ بین کی آواز‘خاموش کیوں ہوگئی؟

ہر 60 منٹ بعد بجنے والے گھنٹے کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے لندن کے بگ بین ٹاور کو بھی لندن کی چلتی نبض اور دل کی دھڑکن سمجھا جاتا ہے عالمی شہرت یافتہ یہ بڑا گھڑیال اگرچہ اپنی عمر پوری کرچکا ہے

ہفتہ فروری

big ban ki awaz akhar bund kuo hogai

محمد ابو بکر ساجد
کسی شہر کے مرکزی چوک پر بجنے والے گھڑیال کی ٹک ٹک کرتی دیو قامت سوئیوں اور ہر 60 منٹ بعد بجنے والے گھنٹے کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے لندن کے بگ بین ٹاور کو بھی لندن کی چلتی نبض اور دل کی دھڑکن سمجھا جاتا ہے عالمی شہرت یافتہ یہ بڑا گھڑیال اگرچہ اپنی عمر پوری کرچکا ہے تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے کڑی دیکھ بھال اور باقاعدہ مرمت کے نظام کے باعث اسکی سوئیاں وقت پر اپنی گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہیں اور اس کا گھنٹہ اب بھی لندن کے باسیوں کو احساس دلاتا رہتا ہے کہ ان کی عمر کا ایک گھنٹہ ان کی زندگی سے الگ ہوچکا ہے یہ گھڑیال مرمت کے لئے ہر سال بند کیا جاتا ہے اور چند دن بعد دوبارہ اسکو فعال کردیا جاتا ہے اس بار اسے چار برس کے لیے خاموش کردیا گیا پیر21 اگست کو اس گھنٹے کی سوئیوں نے 11 چکر لگائے اوپر نصب بڑے سے گھنٹے نے شہریوں کو 11 مرتبہ اپنی ٹن ٹن کی آواز سنائی اور اسکے ساتھ ہی اسے چار سال کے لئے خاموش کردیا گیابرطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ جب یہ گھڑیال اپنے آپریشن کے بعد دوبارہ فعال ہوگا تو پہلے سے زیادہ گونج دار آواز میں وقت کی چاپ سنائے گا اس مشہور زمانہ گھڑیال کی عمر 157 سال ہے اس طویل عرصے کے دوران اس میں خرابیاں بھی پیدا ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ اس میں دراڑیں بھی پڑ گئیں برطانوی حکومت کئی برس سے اس گھڑیال پر لگے گھنٹے کو د س ٹن کے لٹل جان گھنٹے سے تبدیل کرنے پر غور کررہی تھی حکومت کی جانب سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اپنے ہر دلعزیز بگ بین کی تاریخی آواز کو سننے ضرور جمع ہوں کیونکہ اب وہ اس آواز کو دوبارہ نہیں سن سکیں گے تاہم دس ٹن کا نیا گھنٹہ ایک نئی گرج کے ساتھ انہیں وقت کی رفتار بتائے گا مرمت کا کام مکمل ہونے کے بعد یہ گھڑیال طویل مدت تک مزید کام کرسکیں گا۔

(جاری ہے)

لندن میں قائم برطانوی پارلیمنٹ کی عمارت میں واقع اس گھڑیال کا ٹاور96 میٹر بلند ہے 137 ٹن وزنی اس گھڑیال کو بگ بین کانام دیا گیا ہے اسکی سوئیاں متبادل مشین کے ذریعے متحرک رہیں گی تاہم اسکا بلند آواز گھنٹہ مرمت کے لیے بند رہیگا یہ گھڑیال گزشتہ 157 سال سے لندن کے شہریوں کو بلاتوقف ہر گھنٹے بعد اپنی آواز میں وقت کی رفتاری کا احساس دلاتارہا ہے عام طور پر اسکی مرمت نئے سال کی آمد پر کی جاتی ہے،گھڑیال کو بگ بین کا نام دینے کی روایات مختلف بتائی جاتی ہے کہا جاتا ہے کہ اسکا نام بنجمن ہال نامی اس انجینئر کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے اسکا منصوبہ تیار کیا تھاایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ یہ گھڑیال عالمی باکسر بن کاﺅنٹ سے موسوم ہے لندن کی انتظامیہ نے چار سال کی طویل مدت تک اس عظیم گھڑیال کی بندش کا سبب بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس مرتبہ گھڑیال کی مرمت پر اکتفا نہیں کیا جارہا بلکہ ساتھ ساتھ اسکی تزئین و آرائش کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے جسے مکمل کرنے کے لئے چار سال کی مدت درکار ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گھڑیال اہم مواقع پر لندن کے باسیوں کو اپنی آواز سنائے گا تاہم لوگ اسکی جدید شکل اور طاقتور آواز 2021 میں ہی سن سکیں گے عالمی شہرت یافتہ اس دیوہیکل گھڑیال کو دیکھنے کے لیے لاکھوں سیاح ہر سال لندن پہنچتے ہیں لندن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بگ بین کی مرمت اور مکمل تزئین و آرائش کے بعد اس گھڑیال کو دیکھنے کے لیے لندن آنے والے سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

Your Thoughts and Comments