Choroon Ka Ustad - Article No. 1380

چوروں کا اُستاد

ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔آج اس ہال میں ہیروں کی بہت بڑی نمایش تھی ۔بہت سے قیمتی ہیرے اس نمایش میں رکھے گئے تھے ۔زیادہ تر لوگ باہر ہیروں کو دیکھنے میں مصروف تھے۔میں بھی اس نمایش میں آیا تھا کہ اچانک ایک شخص مل گیا۔

بدھ مئی

Choroon ka Ustad
علی حیدر
ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔آج اس ہال میں ہیروں کی بہت بڑی نمایش تھی ۔بہت سے قیمتی ہیرے اس نمایش میں رکھے گئے تھے ۔زیادہ تر لوگ باہر ہیروں کو دیکھنے میں مصروف تھے۔میں بھی اس نمایش میں آیا تھا کہ اچانک ایک شخص مل گیا۔
وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر ایک طرف لے گیا۔اس کے ہاتھ میں کولڈڈرنک کا گلاس تھا،جو اس نے کھڑکی کی چوکھٹ پر رکھ دیا۔
”جی فرمائیے اب؟“میں نے اُلجھن سے کہا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا۔
”میں یہاں ڈیوٹی پر ہوں ،میرا نام کمال ہے ۔
“وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
”جی تو پھر․․․․․؟“میں نے منھ بنا کر کہا۔
”مجھے آپ کی تلاشی لینی ہے؟“وہ عجیب لہجے میں بولا۔
مجھے ایک جھٹکا لگا:”کیا․․․․․کیا مطلب ؟تلاشی؟کس لیے ؟آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ․․․․․؟“میں ہڑ بڑا گیا۔

(جاری ہے)


”سیدھی سی بات ہے ۔تمھارے پاس جو کچھ ہے ،نکال دو ،ورنہ اگر میں نے تلاشی لی تو پھرتمھیں تکلیف ہو گی۔“وہ سنجیدہ لہجے میں بولا اور اب وہ مجھے آپ کے بجائے تم کہنے لگا تھا۔میرے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا۔میں خاموش تھا،میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہوں۔

”تم کون ہو․․․․․؟“میں نے دھیمی سی آواز میں کہا۔
”میرا تعلق محکمہ سراغ رسانی سے ہے اور یہاں اس نمایش میں ،میں سیکورٹی کے طور پر مامور ہوں ۔میری نظر سب پر ہے ۔مجھے تم پر شروع سے ہی شک ہو گیا تھا ،لیکن مسٹر!تم بھول جاؤ کہ تمھارے حربے یہاں کام کریں گے ۔
میری نگرانی میں تم ہیروں کی چوری تو کیا ،انھیں سونگھ تک نہ پاؤ گے،سمجھے․․․․․․“وہ تیزی سے بولا اور ساتھ ساتھ گہری نظروں سے مجھے گھورنے لگا کہ ابھی مجھے کھا جائے گا۔
”لیکن تمھارے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں چورہوں؟“میری آواز بہت مدھم تھی۔

”ثبوت․․․․․ثبوت تو ابھی مل جائے گا،جب تم تلاشی دوگے اور تمھارے پاس سے چوری کرنے کے آلات وغیرہ برآمد ہوں گے ،لیکن لگتا ہے کہ تم تلاشی دینے کے موڈ میں نہیں ہو،خیر․․․․․میرے پاس اور بھی طریقے ہیں تلاشی لینے کے۔
“وہ مسکراتے ہوئے بولا،ساتھ ہی اس کا ہاتھ اس کی جیب کی طرف رینگ گیا۔اب اس کے ہاتھوں میں ایک پستول نظر آرہا تھا ،جس کی نالی کارُخ میری طرف تھا۔پسینے کے چند قطرے میرے ماتھے پر چمک رہے تھے ،جو آہستہ آہستہ بالوں میں جذب ہورہے تھے ۔
وہ مجھے گھوررہا تھا۔
”اب نکالتے ہویا میں ٹریگر دباؤں ․․․․․“وہ دہاڑتے ہوئے بولا۔
”اچھا ،ٹھیرو،میں سب کچھ نکال رہا ہوں۔“اور اس کے ساتھ ہی میں نے خفیہ جیبوں سے مختلف آلات نکال کر اس کے سامنے ڈھیر کر دیے۔

”ہوں ،ٹھیک ہے،میں تمھیں گرفتار نہیں کر رہا،کیوں کہ میں نمایش کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتا اور فی الحال تم نے کوئی جرم کیا بھی نہیں ،اس لیے اب تم جا سکتے ہو۔ہاں ،اگر تم چاہتے ہو کہ تمھیں کوئی نقصان نہ پہنچے تو کوئی ہو شیاری مت دکھانا۔
میری نظریں تم پر رہیں گی،سمجھے؟“
اس نے سامان اِکھٹا کر لیا اور ایک تھیلے نما کپڑے میں وہ ساری چیزیں ڈال دیں۔
میں سوچ رہا تھا کہ یہ بے وقوف! کیا سمجھتا ہے ،مجھے چکمہ دے کر یہ خود ہیرے اُڑالے جائے گا․․․․نہیں، میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔
یہ سمجھتا ہے کہ اس نے مجھ سے میرے آلات لے کر مجھے بے وقوف بنادیا ہے ،لیکن میں نے تو پہلے ہی اسے پہچان لیا تھا کہ یہ بھی میری طرح ایک چور ہے۔چناں چہ میں نے نظر بچا کر اس کی کولڈڈرنک میں نشہ آور دوا ملادی تھی۔اب کچھ ہی دیر میں یہ بے ہوش ہو جائے گا اور پھر ہیرے صرف میرے ہو جائیں گے۔

یہی سوچتا ہوا میں آگے بڑھا تو اچانک ایک شخص زور سے مجھ سے ٹکرا گیا۔میں گرتے گرتے بچا۔
”معاف کیجیے گا،مجھے دھیان نہیں رہا۔“وہ شخص معذرت کرتے ہوئے بولا۔
”کوئی بات نہیں ۔“میں مسکراتا تو وہ بھی مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

میں نے منھ بنا کر اسے جاتے ہوئے دیکھا۔پھر اچانک میری نظر اپنی پتلون پر پڑی ،وہاں کھانے کا داغ لگ چکا تھا۔شاید جو شخص مجھ سے ٹکرایا تھا،اس سے ہی یہ داغ لگا تھا۔
اوہو․․․․․․یہ کیا کر دیا اس کم بخت نے ،اب یہ صاف کرنا پڑے گا۔
میں جِھلاّ گیا اور واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ابھی میں دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ میرا سر بھاری ہونے لگا۔ چکر آنے لگے اور پھر میں غش کھا کر گر پڑا۔
میرے منھ پر کسی نے پانی چھڑ کا اور میں ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھا۔میرا سراب بھی بھاری ہو رہا تھا۔
ذرا سا ہوش سنبھلا تود یکھا کہ قریب ہی کمال کھڑا تھا۔اسے دیکھ کر میں چونک اُٹھا۔اس کے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی۔
”ہیرے کہاں ہیں؟“وہ غصے سے بولا۔
”کون سے ہیرے؟“میں نے غصے سے کہا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
”سیدھی طرح سے بتادو،جو ہیرے چوری ہوئے ہیں ،وہ کہاں ہیں ؟“وہ تھوڑا سا ٹھیر کر بولا۔

”کیا کہا․․․․․؟ہیرے چوری ہو چکے ہیں ؟نہیں ،یہ کیسے ہو سکتا۔“میں نے تقریباً چِلاّتے ہوئے کہا۔
”ہاں،اب بھولے میاں بننے کی کوشش مت کرو اور سیدھی طرح سے ہیرے میرے حوالے کر دو۔“وہ زہریلے لہجے میں بولا۔

”میں نے کہا:”بھولا بننے کی کوشش تم کررہے ہو۔ہیرے تم نے چرائے ہیں اور الزام مجھ پر لگا رہے ہو۔“
”ہیرے میں نے بھی نہیں چرائے۔میں تو خود ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ہوش میں آیا ہوں ،تب مجھے ساری صورتِ حال کا پتا چلا کہ ہیرے چوری ہو چکے ہیں ۔
باہر سب کی تلاشی لی جارہی ہے ۔میں بھی اپنی تلاشی دینے کے بعد تمھیں ڈھونڈتا ڈھونڈتا یہاں پہنچا تو دیکھا تم بے ہوش پڑے ہو۔میں نے تمھاری تلاشی لی ،لیکن مجھے ہیرے نہیں ملے ،اس لیے میں تمھیں ہوش میں لے کر آیا کہ ہیروں کے بارے میں پوچھ سکوں اور تم نے مجھے بے ہوش کیا تھا،اس لیے میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا۔
“وہ غصیلے لہجے میں بولا۔
میں ہنسا:”ہاں تمھیں بے ہوش کرنے کے لیے میں نے ہی تمھاری کولڈڈرنک میں نشہ آور دواملائی تھی۔“
”کیا کہا؟کولڈڈرنگ ؟لیکن میں نے توتم سے ملنے کے بعد کولڈڈرنک نہیں پی۔“و ہ حیرت سے بولا۔

”ہیں ․․․․․․․اگر تم نے کولڈڈرنک نہیں پی تو تم بے ہوش کیسے ہو گئے تھے؟“میں نے بھی حیرت زدہ لہجے میں کہا۔
”ہاں،میں آخربے ہوش کیسے ہو گیا․․․․․․؟“وہ سوچتے ہوئے بولا۔
”لیکن تم نے بھی تو مجھے بے ہوش کر دیا تھا۔
“میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”کیا ․․․․․․؟نہیں میں نے تمھیں بے ہوش نہیں کیا،میں تو خود بے ہوش وحواس تھا۔“وہ فوراً بولا۔
”تو آخر پھر ہم دونوں بے ہوش کیسے ہو گئے ․․․․․؟“میں بڑ بڑا یا۔
”تمھاری پتلون پر داغ کیسا ہے ؟“وہ میری پتلون کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

”اوہ یہ ․․․․․․یہ تو میں ایک آدمی سے ٹکراگیا تھا۔“میں نے کہا ،پھر اچانک مجھے کچھ یاد آیا اور پھر میرا ہاتھ میرے کندھے کی طرف اُٹھ گیا۔ہاتھ لگایا تو تھوڑا سا درد باقی تھا۔
”کیا مطلب ،تم بھی کسی شخص سے ٹکرائے تھے؟“وہ حیرانگی سے بولا۔

”تو کیا تم بھی ․․․․․․“میرے منھ سے بس اتنا نکل سکا۔
”پیلی ٹائی والا․․․․․․“و ہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا۔
”ہاں ،بالکل وہی تھا۔“
”اوں ․․․․․․“ہم دونوں دھک سے رہ گئے۔
”اس کا مطلب تم بے ہوش میری وجہ سے نہیں ،بلکہ اس پیلی ٹائی والے شخص کی طرف سے چبھوئی گئی کسی نشہ آور سوئی کی وجہ سے ہوئے تھے۔
“میں نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔
”اور تم بھی․․․․․․“اس نے کہا اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ اپنی گردن کی طرف بڑھا اور پھر اس کی ہلکی سی سسکی بلند ہوئی۔
وہ دھیمے سے لہجے میں بولا:”میرا خیال تھا کہ نے تمھیں چکمہ دیا ہے اور تم سمجھ رہے تھے کہ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے ،لیکن اصل میں ہم دونوں کسی تیسرے چور کے ہاتھوں مار کھا گئے۔
وہ کتنی آسانی سے ہمیں بے وقوف بنا کر ہیرے اُڑالے گیا۔“
ہم دونوں حیرت اور افسوس سے ایک دوسرے کا منھ دیکھنے لگے۔

مزید متفرق مضامین

Aoo Mill Kar Mulk Sanwarain

آو مل کر ملک سنواریں

Aoo Mill Kar Mulk Sanwarain

Zalim BadShah

ظالم بادشاہ

Zalim BadShah

Qarardaad E Pakistan Kiya Hai

قرار داد پاکستان کیا ہے!

Qarardaad E Pakistan Kiya Hai

Soone Ki Chirya

سونے کی چڑیا

Soone Ki Chirya

Tehreek E Pakistan Se Qayam E Pakistan Tak

تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک

Tehreek E Pakistan Se Qayam E Pakistan Tak

Maloomaat E Pakistan

معلومات پاکستان

Maloomaat E Pakistan

Nonhalon Mein Khud Itmadi Peda Karen

نونہالوں میں خود اعتمادی پیدا کریں

Nonhalon Mein Khud Itmadi Peda Karen

Baare MiyaaN

بڑے میاں

Baare MiyaaN

Hakeem Kabotar Wale

حکیم کبوتر والے

Hakeem Kabotar Wale

Kutton K Bare Main Malomaat

کتوں کے بارے معلومات

Kutton K Bare Main Malomaat

Jhooti Kahaniyaan

جھوٹی کہانیاں

Jhooti Kahaniyaan

EIDI Kahan Gaye

عیدی کہاں‌ گئی!

EIDI Kahan Gaye

Your Thoughts and Comments