Dhindhora

Dhindhora

ڈھنڈورا

ان کا نام رستم علی خاں تھا۔ پیٹ کے ہلکے تھے یعنی کسی بات کو وہ راز نہیں رکھ سکتے تھے۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی اچھا سلوک یا نیکی کر بیٹھتے تو اس کا احسان جتانے کے لئے ڈھنڈورا بہت پیٹا کرتے تھے

ان کا نام رستم علی خاں تھا۔ پیٹ کے ہلکے تھے یعنی کسی بات کو وہ راز نہیں رکھ سکتے تھے۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی اچھا سلوک یا نیکی کر بیٹھتے تو اس کا احسان جتانے کے لئے ڈھنڈورا بہت پیٹا کرتے تھے۔ ایک بار خاں صاحب کے پڑوسی جناب مرزا صابر علی بینک میں غبن کے الزام میں گرفتار ہو گئے۔
خاں صاحب کو جیسے ہی پتا چلا، وہ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر تھانے پہنچ گئے اور کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد ان کو چھڑانے میں کامیاب ہو گئے۔ مرزا صاحب نے ان کا شکریہ ادا کیا اور درخواست کی کہ اس معاملے کا کسی سے ذکر نہ کریں۔ لیکن خاں صاحب اپنی طبیعت سے مجبور تھے۔

محلے میں ایک تقریب تھی اور تقریباََ سب ہی محلے دار موجود تھے۔ کچھ دیر میں خاں صاحب گنگناتے ہوئے اس محفل میں پہنچے اور بیٹھتے ہی کہنے لگے،” ارے صاحب ! آج کل اخلاق نام کی کوئی چیز لوگوں میں نہیں رہی۔

(جاری ہے)

کل یہ ہمارے مرزا صابر صاحب کے ساتھ اتنا افسوس ناک واقعہ ہوا اور محلے میں سے کوئی ان کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔


لوگوں نے واقعے کی تفصیل پوچھی تو خاں صاحب کہنے لگے۔” ارے صاحب ! یہ پولیس والے بھی ایسے سنگین الزامات بے سبب لگا دیتے ہیں ۔ بھلا سوچیے، مرزا صاحب جیسے شریف آدمی پر غبن کا الزام لگا دیا۔ جیسے ہی یہ بات میرے علم میں آئی میں فوراََ پہنچ گیا اور کافی دوڑ دھوپ کے بعد ان کو رہا کرانے میں کامیاب ہو گیا۔
“ یہ سنتے ہی مرزا صاحب پر گھڑوں پانی پڑگیا اور وہ بے چارے خاموشی سے اُٹھ کر چل دیے۔
ایک واقعہ تو بہت ہی دل چسپ ہے ۔ پچھلے دنوں خاں صاحب کے ماموں سادات نگر سے ان کے ہاں مہمان آئے۔ دو دن بعد خاندان میں ایک ولیمے کی تقریب تھی جس میں ماموں موجود تھے۔
کچھ ہی دن پہلے خاں صاحب کو ان کے دوست نے مردان سے ان کے لیے نہایت نفیس مخمل کی کیپ بھیجی تھی جو وہ خاص تقریبات میں استعمال کرتے تھے ۔ تقریب کے دن خاں صاحب نے ماموں سے اصرار کیا کہ آج کی تقریب میں وہ ان کی ٹوپی ضرور پہنیں۔
ماموں نے سرخ پھولوں کی ریشمی شیروانی زیب تن کر کے سر پروہ ٹوپی جمائی اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو ہر زاویے سے دیکھا اور دل ہی دل میں داد دی۔
ولیمے کی تقریب میں سب ہی قریبی رشتے دار موجود تھے اور خاں صاحب ماموں کا تعارف ہر کسی سے کروارہے تھے۔
اپنے عزیز دوست سلیم احمد پر نظر پڑتے ہی خاں صاحب موموں کا ہاتھ پکڑ کر سلیم صاحب کے قریب گئے اور ماموں کا تعارف کراتے ہوئے کہنے لگے۔” سلیم صاحب ! ان سے میلے۔ یہ ہمارے ماموں حشمت علی خاں، سادات نگر سے نامور زمینداروں میں سے ہیں۔
اچھے کپڑے پہننے کے شوقین ہیں لیکن یہ جو شان دار ٹوپی پہنے ہوئے ہیں یہ میری ہے۔“
ٹوپی والی بات سن کر ماموں بہت شرمندہ ہوئے اور خان صاحب کو ایک کونے میں لے جا کر ناراضگی سے بولے۔” میاں ! تم نے حد کر دی چھچھورپن کی۔
بھلایہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ یہ ٹوپی میری نہیں ہے یعنی آپ نے تو حد کر دی۔“
خاں صاحب بہت شرمندہ ہوئے اور اپنی غلطی تسلیم کی۔
کچھ دیر بعد مجمع میں گھومتے پھرتے خاں صاحب کو اپنے ایک اور دوست نظر آئے۔ وہ ماموں کا ہاتھ پکڑ کر ادھر لپکے۔

”شارق صاحب! ان سے ملیے یہ ہیں ہمارے پیارے ماموں حشمت علی خاں۔ سادات نگر کی نامور شخصیت ہیں۔ زمینداری کے علاوہ ان کا ٹرانسپورٹ کا کاروبار بہت وسیع ہے اور ہاں یہ جو ٹوپی پہنے ہوئے ہیں یہ بھی ان کی ہے۔“
ماموں یہ سن کر پھر بھڑک اُٹھے اور روٹھ کر جانے لگے۔
خاں صاحب کے خوشامد کرنے پر گرجے۔” بھلے آدمی ! تم نے تو واقعی حد کر دی احمق پن کی۔ میں کہتا ہوں کہ آخر اس کمبخت ٹوپی کا ذکر کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔“
خاں صاحب نے ماموں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور بڑی مشکل سے راضی کیا۔
اسی دوران دولھا کے والد مبارک باد وصول کرتے ہوئے ادھر آنکلے۔ ان کو دیکھتے ہی خاں صاحب نے پھر ماموں کا تعارف کرایا۔” عقیل صاحب ! ان سے ملیے یہ ہیں ہمارے ماموں حشمت علی خاں۔ سادات نگر سے اس بار ایم ۔ا ین اے کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔
بہت ہر دل عزیز ہیں کام یابی یقینی ہے اور ہاں، ان کے سر پر جو یہ ٹوپی رکھی ہے اس کاکوئی ذکر نہیں کروں گا۔“
اب ماموں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ انھوں نے ٹوپی اتار کر خاں صاحب کے پیروں میں پٹخی اور وہیں سے سیدھے اپنے گھر سادات نگر روانہ ہو گئے اور خاں صاحب سے ہمیشہ کیلئے تعلقات ختم کر لیے۔

Your Thoughts and Comments