Dunya Ki Haqeeqat

Dunya Ki Haqeeqat

دنیا کی حقیقت

مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ۔۔۔

خدیجہ مغل:
مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر آرہا ہے وہ بھاگا جب تھک گیا تو دیکھا کہ سامنے ایک گڑھا ہے اس نے چاہا کہ گڑھے میں چھلانگ لگا کر جان بچائے لیکن گڑھے میں ایک خوفناک سانپ نظر آیا اب آگے سانپ اور پیچھے شیرکا خوف اتنے میں ایک درخت کی شاخ نظر آئی وہ درخت پر چڑھ گیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ درخت کی جڑ کو کالا چوہا کاٹ رہا ہے وہ بہت خائف ہوا کہ تھوڑی دیر میں درخت کی جڑ کٹے گی پھر گر پڑوں گا پھر شیرکا لقمہ بننے میں دیر نہیں۔
اتفاق سے اسے ایک شہد کا چھتہ نظر آیا۔وہ اس شہد شیریں کو پینے میں اتنا مشغول ہوا کہ نہ ڈر رہا سانپ کا اور نہ شیر کا۔

(جاری ہے)

اتنے میں درخت کی جڑ کٹ گئی وہ نیچے گر پڑا۔شیر نے اسے چیر پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا اور وہ سانپ کی خوارک بن گیا۔


جنگل سے مراد یہ دنیا ،شیر سے مراد یہ موت ہے جو انسان کے پیچھے لگی رہتی ہے،گڑھا قبر ہے ،چوہا دن اور رات ہیں،درخت عمر ہے اور شہد دنیا ئے فانی سے غافل ہو کر دینے والی لذت ہے۔
انسان دنیا کی لذت میں اعمال بد اور موت وغیرہ بھول جاتا ہے اور پھر اچانک موت آجاتی ہے۔

اقولِ زریں!
مسلمان بھائی بھائی ہیں ایسی بات نہ کہو جس سے تمھارے بہن بھائی کو دکھ ہو۔اچھا انسان وہ ہے جو مصیبت کے وقت کام آئے۔
نماز وہ راستہ ہے جو سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے۔
ماں باپ کی قدر کرو ان کے بڑھاپے کا سہارا بنو۔

بچوں سے شفقت سے پیش آؤ۔یہ پھول کسی کسی آنگن میں کھلتے ہیں۔
تین چیزیں انسان کو برباد کر دیتی ہیں
حسد۔قرض۔غرور
علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی تہہ نہیں ۔
دل ایک ایسا آئینہ ہے ۔اگر بدی سے پاک ہو تو اس میں خدا بھی نظر آجاتا ہے۔

عزت دنیا مال سے ہے اور عزت آخرت اعمال سے ہے۔
تعجب ہے اس پر جو شیطان کو دشمن جانتا ہے پر اسکی اطاعت کرتا ہے۔
معاف کردینا سب سے اچھا انتقام ہے۔
ہمیں ہر اس چیز سے محبت کرنی چاہیے جو محبت کروانے کے لائق ہو
اور ہر اس چیز سے جفرت کرنی چاہیے جو نفرت کے قابل ہو۔
لیکن اس صورت میں ممکن ہے جب ہمارے پاس دونوں کا فرق دیکھنے کے لیے عقل کی دولت ہو۔
پڑوسی کو ستانے والا جہنمی ہے گرچہ تمام رات عبادت کرے اور تمام دن روزہ رکھے۔
الله تعالیٰ سے اس طرح ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ۔ورنہ وہ تو تمھیں دیکھ ہی رہا ہے۔
نفس کی مثال شیطان کی سی ہے اور اسکی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔
دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے پہلے اپنی خامیاں تلاش کرو۔

Your Thoughts and Comments