Gurbat Ke Shikaar Nonihal - Article No. 1242

غربت کے شکار نونہال

نونہال ہمارا سرمایہ ہمارے پھول ہیں۔ انھیں پھول سے اس لئے تشبیح دی جاتی ہے کیونکہ یہ پھول کی مانند نازک واقع ہوئے ہیں۔ یہ ننھی کلیاں توجہ کی طلب گار ہیں۔ عمدہ تعلیمی مواقعوں کے علاوہ یہ پیار بھری نظروں کے بھی منتظر نظر آتے ہیں۔

منگل دسمبر

gurbat ke shikaar nonihal

عیشتہ الرّاضیہ
سکول جانے کے اوقات میں ٹریفک سگنل اور ورکشاپ پر مزدوری کرنے والے اطفال کا کوئی پرسان حال نہیں
نونہال ہمارا سرمایہ ہمارے پھول ہیں۔ انھیں پھول سے اس لئے تشبیح دی جاتی ہے کیونکہ یہ پھول کی مانند نازک واقع ہوئے ہیں۔

یہ ننھی کلیاں توجہ کی طلب گار ہیں۔ عمدہ تعلیمی مواقعوں کے علاوہ یہ پیار بھری نظروں کے بھی منتظر نظر آتے ہیں۔
اپنی اولاد سے تو ہر کوئی پیار کرتا ہے مگر ایسے بچے جو والدین کے سائے سے محروم ہیں یا جو مجبوری میں گھر کے افراد کا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں وہ بھی دوسروں سے شفقت و پیار کے طلب گار رہتے ہیں۔
روز صبح دفتر جاتے ہوئے سگنل پر بچے گاڑیاں صاف کرتے یا پھول بیچتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان بچوں کو دیکھ کر ایک خیال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ان بچوں کا دوسرے بچوں کی طرح صبح اٹھ کر سکول جانے کا دل نہیں کرتا؟
کیا انہیں باقی نونہالوں کی طرح بنیادی سہولیات سے آراستہ زندگی میسر کرنا ممکن نہیں؟ سائیکل سٹینڈ پر ایسے لاتعداد بچے موٹر سائیکل کی مرمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

میل کچیل سے بھرپور، لباس زیب تن کئے یہ اطفال اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ غریب کے گھر میں اناج اتنی وافر مقدار میں میسر نہیں جتنی وافر تعداد میں بچے ملتے ہیں۔
آج کل ایک اور رجحان تیزی سے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے وہ یہ کہ گھر کے کام کاج، اور بچوں کو سنبھالنے کے لئے ماسی کے بجائے چھوٹی بچیوں کو رکھا جاتا ہے، اور ان سے جی بھر کر گھر کے تمام کام لیئے جاتے ہیں۔
اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ بچے بحث و مباحثہ سے عاری ہیں۔ انہیں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا بھی نہیں آتا۔ لہذا اگر ان سے کوئی غلطی بھی سرزد ہو جائے تو مالک انھیں تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
طیبہ تشدد کیس اور اس جیسے دیگر واقعات اس بات کی منہ بولتی دلیل ہے۔
اگر ایسے بچوں کے پس منظر کو دیکھا جائے اور ایسی وجہ تلاش کی جائے کہ وہ کونسی مجبوری تھی جس کے تحت ان بچوں کے والدین نے ان کے بنیادی حقوق کو پامال کر کے انھیں پرائے لوگوں کے حوالے کر دیا ،تو ایک ہی وجہ معلوم ہوتی ہے اور وہ ہے’’ غربت‘‘۔

غربت ایک ایسی بیماری بن چکی ہے کہ جس سے ہمارے نونہال بھی محفوظ نہیں۔ اینٹوں کے بھٹّوں پر بچوں کا کام کرنا ایک عام سی بات تھی۔ مگر سابق صوبائی حکومت نے پنجاب بھر میں بھٹّوںپر بچوں سے کام کروانے والے مالکان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی۔
لیکن پھر بھی اس لت کو جڑ سے اکھاڑنے میں ناکام دکھائی دی۔ ان بچوں سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ سکول کیوں نہیں جاتے تو اگلا جواب یہی آتا ہے کہ امّی ابّو سکول نہیں جانے دیتے۔ پھر ان سے یہ پوچھا جائے کہ پڑھنے کا دل چاہتا ہے تو یہ سرہلا کر جواب دیتے ہیں کہ بہت دل چاہتا ہے پڑھنے کا۔

خدارا ان معصوم نونہالوں کی اس خواہش کو پورا کر دیجئے۔ مری کی مال روڈ پر مجھے کچھ بچے ہاتھوں میں واٹر کولر پکڑے اِدھر اُدھر جاتے دکھائی دئیے۔ انہی میں سے ایک بچہ میری طرف بھی آیا۔ اس کے پاس کولر میں ابلے ہوئے انڈے تھے، ایک انڈہ بیس روپے کا تھا۔
یہ بچہ دس سال کا تھا اور پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ ایک سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ ابّو کی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ سارے کنبے کی اکیلے کفالت کر سکیں اس لیے بڑا بیٹا ہونے کے ناطے میں اپنے باپ کا بوجھ کم کرنے کے لیے شام کے اوقات میں مال روڈ پر سیاحوں کو ابلے انڈے بیچتا ہوں۔
میں نے جھٹ سے یہ سوال کیا کہ دن کے اوقات میں تم یہ کام کیوں نہیں کرتے تو اس نے کہا کہ مجھے پڑھنے کا شوق ہے اور میں مستقل طور پر انڈے نہیں بیچنا چاہتا ، میں چاہتا ہوں کہ پڑھ لکھ کر پولڑی فارم چلاؤں۔ اپنے عزائم بتاتے ہوئے اس بچے کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ انشاء اللہ مستقبل قریب میں وہ اپنے خوابوں کو تعبیر سے ہمکنار کر دے گا۔

تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جو غربت کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کر سکتا ہے۔ سرکاری اداروں میں تعلیم مفت ہے اس کے علاوہ ذہین طالب علموں کو وظائف بھی دیے جاتے ہیں چنانچہ غربت کے ستائے والدین اپنے بچوں کو مزدوری پر لگانے کے بجائے سکول میں داخل کروائیں۔
وقتی طور پر کنبے کی کفالت اپنے کندھوں پر رکھیں، معصوم بچوں کو اس بوجھ سے دور رکھیں۔ حکومتی سطح پر ایسے پرکشش وظائف مہیا کیے جائیں جن سے تمام حقدار طالب علم مستفید ہو سکیں اور انھیں حصول تعلیم کے لیے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید متفرق مضامین

Eid Ul Aazaaha Qurbani Or Esaar Ka Sabq Sikhati Hai

عیدالاضحی ایثارو قربانی کا درس دیتی ہے

Eid Ul Aazaaha Qurbani Or Esaar Ka Sabq Sikhati Hai

Roghni Bua Ki Rooh

روغنی بُوا کی روح

Roghni Bua Ki Rooh

Lakri Ki Kaathi Kaathi Pay Ghorha

لکڑی کی کا ٹھی ، کاٹھی پہ گھو ڑا

Lakri Ki Kaathi Kaathi Pay Ghorha

Billi Ki Taarif Main

بلی کی تعریف میں

Billi Ki Taarif Main

Soraaj Or Hawa

ہوا اور سورج

Soraaj Or Hawa

Soone Ki DaaliyaaN

سونے کی تین ڈالیاں

Soone Ki DaaliyaaN

Be Ja Dant Dapat Se Bachay

”بے جا ڈانٹ ڈپٹ سے بچے“ خوداعتمادی کھو دیتے ہیں

Be Ja Dant Dapat Se Bachay

Main Governer Kiss Liye HooN

میں گورنر کس لئے ہوں؟

Main Governer Kiss Liye HooN

Nanhi Konplain Kaliyan Aur Kiyariyan

ننھی کو نپلیں ، کلیاں اور کیاریاں

Nanhi Konplain Kaliyan Aur Kiyariyan

Computer Ka Musbad Istamal

کمپیوٹر کا مثبت استعمال بچوں کی ذہنی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے

Computer Ka Musbad Istamal

AndherNagri

اندھیر نگری

AndherNagri

Baba Bhuchakar

بوجھ بجھکڑ

Baba Bhuchakar

Your Thoughts and Comments