Hazrat Abdullah Bin Mubarak Aur Mochi Ka Hajj - Article No. 1164

حضرت عبداللہ بن مبارک اور موچی کا حج

حضرت عبداللہ بن مبارک بے حد متقی انسان تھے ۔ایک سال جب آپ حج سے فارغ ہوئے تو تھوڑی دیر کے لیے حرم شریف میں سو گئے ۔آپ نے خواب میں دیکھا کہ دوفرشتے آسمان سے نازل ہوئے اور ایک نے دوسرے سے پوچھا :” اس سال کتنے لوگ حج کو آئے ؟“

منگل 11 اگست 2020

hazrat abdullah bin mubarak aur mochi ka hajj

رئیس فاطمہ
حضرت عبداللہ بن مبارک بے حد متقی انسان تھے ۔ایک سال جب آپ حج سے فارغ ہوئے تو تھوڑی دیر کے لیے حرم شریف میں سو گئے ۔آپ نے خواب میں دیکھا کہ دوفرشتے آسمان سے نازل ہوئے اور ایک نے دوسرے سے پوچھا :” اس سال کتنے لوگ حج کو آئے ؟“ دوسرے نے جواب دیا :”چھے لاکھ ۔

“ پھر اس نے پوچھا :” کتنے لوگوں کا حج قبول ہوا ؟“ جواب ملا :” کسی کا بھی حج قبول نہیں ہوا ،سوائے دمشق کے اس موچی کے جس کا نام علی بن المو فق ہے ۔وہ حج کو نہیں آسکا ،لیکن اس کا حج قبول ہے اور اس کے طفیل اللہ نے سب (حاجیوں ) کو بخش دیا ۔
“ حضرت خواب سے بیدار ہوئے تو بہت پریشان ہوئے کہ لوگ جانے کن کن کٹھنا ئیوں ،مصیبتوں ،صحراؤں اور بیابانوں سے چل کر حج کے لیے آتے ہیں ،لیکن ان کا حج قبول نہیں ہوا اور دمشق کے اس موچی کا کیوں کر ہو گیا ،جو حج کے لیے آیا بھی نہیں ۔

(جاری ہے)

یہ سوچ کر انھوں نے دمشق جانے کا ارادہ کیا اور بڑی مشکلوں سے گھر ڈھونڈ کر موچی کے پاس پہنچے اور اپنا تعارف کرایا اور اس کے نام کی تصدیق کی ۔موچی انھیں عزت سے گھر لے گیا اور آنے کا سبب پوچھا ۔حضرت عبداللہ بن مبارک نے تفصیل سے اپنا خواب سنایا ۔
موچی ،حضرت عبداللہ کی شہرت اور نام سے واقف تھا ،اس نے دوزانوں ہوکر آپ کو تعظیم دی اور بتا یا کہ وہ تیس سال سے حج کا آرزومند تھا ،تھوڑا تھوڑا جمع کرتے کرتے تین ہزار درہم جمع کیے اور اس سال حج کا ارادہ کیا ۔ایک دن میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ پڑوس کے گھر سے گوشت پکنے کی خوشبو آرہی ہے ۔
تم جاؤ ،تھوڑا سا مانگ لاؤ ۔میں پڑوسی کے گھر گیا اور عابد بیان کیا تو اس نے نہایت عاجزی سے کہا :” تین د ن اور تین راتوں سے میرے بیوی بچوں نے کچھ نہیں کھا یا ہے ۔آج اتفاق سے ایک مردار گدھا دیکھا تو اس سے ایک ٹکڑا گوشت کا کاٹ کرلے آیا ،تا کہ بچوں کا پیٹ بھر سکوں ۔
وہی طعام پک رہا ہے ،لیکن میں آپ کو وہ نہیں دے سکتا ،کیوں کہ وہ تمھارے لیے حلال نہیں ہے ۔“جب میں نے یہ سنا تو بہت دوکھ ہوا کہ پڑوسی اور اس کے بچے تین د ن کے فاقے سے ہیں اور میں تین ہزار درہم گھر میں رکھے بیٹھا ہوں ۔فوراََ گھر آیا اور تمام رقم نکال کر پڑوسی کو دی کہ اس سے بال بچوں کا گزاراہ کرو ۔
میرے نصیب میں ہوگا تو پھر حج کے لیے جمع کر لوں گا ۔حضرت نے جب یہ ماجرا سنا تو موچی کو مبارک باددی اور فرمایا :” نیتوں کا حال خدا جانتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کی تم پرخاص عنایت ہے کہ حج کو جائے بغیر تمھارا حج اللہ نے قبول کیا ۔“ وہ رخصت ہونے لگے تو موچی نے ان کے ہاتھ چومے اور بولا :” میری یہ خوش نصیبی کہ آپ جیسے اللہ والے بزرگ نے مجھے یہ خوش خبری سنائی ،ورنہ میں کیا اور میری اوقات کیا ۔

مزید متفرق مضامین

Child Labour

چائلڈلیبر۔۔۔معاشرتی ناسور

Child Labour

Computer Ka Musbad Istamal

کمپیوٹر کا مثبت استعمال بچوں کی ذہنی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے

Computer Ka Musbad Istamal

Hum Be Murawwat Hain

ہم بے مروت ہیں

Hum Be Murawwat Hain

Aik Aqaal Mandi

ایک عقل مندی

Aik Aqaal Mandi

Maghroor Chiyoonti

مغرور چیونٹی

Maghroor Chiyoonti

Nonehaloon Main Watan Se Muhabbat Ka Jazba

نونہالوں میں وطن سے محبت کا جذبہ

Nonehaloon Main Watan Se Muhabbat Ka Jazba

Burhiyaa Ki Paan Chaki

بڑھیا کی پن چکی

Burhiyaa Ki Paan Chaki

Ju Boya Tha

جو بویا تھا

Ju Boya Tha

Raaste Ka Pathar

راستے کا پتھر

Raaste Ka Pathar

Choroon Ka Ustad

چوروں کا اُستاد

Choroon Ka Ustad

Nafarmani Ki Saza

نافرمانی کی سزا

Nafarmani Ki Saza

Billi Ki Taarif Main

بلی کی تعریف میں

Billi Ki Taarif Main

Your Thoughts and Comments

>