jara lout aaya

Jara Lout Aaya

جاڑا لوٹ آیا

قدرت نے کرہ ارض کو مختلف اوقات میں مختلف موسم عطا کئے ہیں۔ زمین کے کچھ حصے ایسے بھی ہیں جہاں سارا سال ایک سا موسم رہتا ہے۔ یعنی اگر ہم قطبی علاقوں کی طرف جیسے جیسے جائیں ویسے ویسے

عیشۃ الرّاضیہ
قدرت نے کرہ ارض کو مختلف اوقات میں مختلف موسم عطا کئے ہیں۔ زمین کے کچھ حصے ایسے بھی ہیں جہاں سارا سال ایک سا موسم رہتا ہے۔ یعنی اگر ہم قطبی علاقوں کی طرف جیسے جیسے جائیں ویسے ویسے سورج میاں کی گرمی کی حدت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور بالکل قطبی علاقوں پر پہنچ کر گرمی کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔

یہاں ہر طرف سردی راج کرتی دکھائی دیتی ہے۔ روس کے کچھ علاقے جو قطب شمالی سے نزدیک ہیں وہاں چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہی رہتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ زمین کے وسط پر خط استواء ہے۔ سورج کی پوزیشن خط استواء کے سامنے واقع ہے۔
دسمبر سے لے کر جون تک سورج خط استواء سے اوپر کی جانب سفر کرتے ہوئے خط سرطان کے قریب پہنچ جاتا ہے جس کی وجہ سے شمالی نصف کرہ یعنی خط استواء کی شمالی حصے میں گرمی بڑھ جاتی ہے اور خط استواء کے جنوبی جانب میںسردی اپنے ڈیرے ڈال لیتی ہے۔

(جاری ہے)

لہذا جب ہم جون جولائی کی سخت گرمی میں سورج میاں کو برداشت کر رہے ہوتے ہیں اس وقت آسٹریلیا والے سردی کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ مگر پھر 21 جون سے دسمبر تک سورج خط استواء سے نیچے کی جانب رخت سفر باندھتا ہے تو جنوبی نصف کرے سے سردی اپنا بوریا بستر باندھ کر سورج میاں کی چھوڑی گئی جگہ پر قبضہ کرنے کے لئے سفر شروع کر دیتی ہے۔

گرمی اور سردی کی ان آمدورفت کے درمیان معتدل آب و ہوا جس میں نہ زیادہ سردی نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے جنم لیتی ہے۔ ایسا موسم اگر سردیوں کے بعد آئے تو اسے بہار کہتے ہیں اور اگر گرمیوں کے بعد آئے تو اسے خزاں کہتے ہیں۔ دنیا میں کچھ علاقے جو خط استواء پر قائم ہیں سارا سال گرم رہتے ہیں جبکہ قطبی علاقے سارا سال سردی کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔
مگر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اپنے چار موسموں سے نوازا ہے۔ یہاں کے باسی ان چاروں موسموں کا لطف اٹھاتے ہیں۔ چاروں موسم میں اگنے والے اجناس، پھل، سبزیاں سب سے بھرپور لطف اٹھایاجاتا ہے۔ یہ گرمیوں میں آم اور سردیوں میں مالٹوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ماہ دسمبر کا آغاز ہو نے کو ہے اور پاکستان میں شدید سردی کے دسمبر اور جنوری کے مہینے ہیں۔ ایسے موسم میں سردی کی شدت کو کم کرنے اور جسم میں حرارت برقرار رکھنے کے لئے خشک میوہ جات کا خاص استعمال رکھا جاتا ہے۔ خشک میوہ جات کی دکان میں بیٹھا پٹھان بھائی منہ مانگی قیمت پر اس سوغات کو فروخت کرتا ہے۔
بچے موسم سرما کی سوغاتوں میں مونگ پھلی سب سے زیادہ شوق سے کھاتے ہیں۔ اکثر سکول جاتے ہوئے یونیفارم کی جیب میں چھلی ہوئی مونگ پھلیاں ڈال لیتے ہیں جسے وہ سارا دن سکول میں وقتاً فوقتاً کھا کر لطف اندوز ہوتے ہیں مگر والدین کو اس بات کا خاص دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ مونگ پھلیاں کھانے کے بعد بچے پانی نہ پئیں، کیونکہ انہیں کھانے کے بعد پانی پی لینے سے کھانسی لگ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ دھوپ میں مالٹے کھانے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ بچے، بڑے ہر کسی کی خواہش رہتی ہے کہ مالٹے دھوپ میں بیٹھ کر کھائے جائیں۔ سکول میں بریک ہوتے ساتھ ہی بچے دھوپ کی طرف لپکتے ہیں اور وہیں کھیلتے ہیں جہاں سورج میاں اپنی کرنیں بکھیر رہا ہو۔
سردیوں میں عموماً سورج انکل کم کم ہی حاضری دیتے ہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے سورج گرمیوں میں لوگوں کی اسے سنائی باتوں کا چن چن کر بدلا لے رہا ہو۔ ایسے میں اگر لمبے عرصے تک بارش نہ ہو تو موسمی بیماریاں بھی سر اٹھا لیتی ہیں۔ مگر ماہ دسمبر میں اکثر بارش ہو جاتی ہے۔
اسی لئے دسمبر کو ’’بھیگا بھیگا دسمبر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ رات کو اگر گھر سے باہر نکلیں تو ہر طرف سناٹا دکھائی دیتا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ لوگ جلدی اپنی اپنی رضائیوں میں دبک جاتے ہیں۔ موسم سرما میں صبح بچوں کو سکول بھیجنا بھی والدین کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں۔
گرم رضائی یا کمبل سے صبح سویرے باہر نکلنا نونہالوں کو کڑا امتحان معلوم پڑتا ہے۔ ایسے میں والدین کو انہیں جگانے کے لئے اضافی محنت درکار رہتی ہے۔ نو نہالوں کو ٹھنڈ سے محفوظ رکھنے کے لئے والدین مختلف احتیاطی تدابیر اپناتے ہیں۔
ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بچے کو زیادہ سے زیادہ گرم کپڑے پہنائے جائیں جس کے سبب ایک دبلا پتلا بچہ سردیوں میں غبارہ بنے پھرتا دکھائی دیتا ہے،اور جیسے ہی گرمیوں کی آمد ہوتی ہے اس غبارے سے ہو ا بھی نکل جاتی ہے،بچہ ایک دم سے کمزور دکھنے لگتا ہے۔
اس کے علاوہ والدین نونہالوں کو گرم ابلے ہوئے انڈے بھی روز کھلاتے ہیں تاکہ انڈے کی گرم تاثیر سے نونہالوں کے بدن سردی کا مقابلہ کر سکیں۔ گھروں میںشام کی گرما گرم چائے اور کافی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے جس میں اکثر بچے بھی براجمان دکھائی دیں گے۔
بڑوں کو چائے پیتے دیکھ کر نونہالوں کا بھی چا ئے پینے کو دل للچاتا ہے۔ ان کی اس معصوم فرمائش کو اکثر والدین کبھی کبھی پوری بھی کر دیتے ہیں مگر کبھی کبھی کی یہ چھوٹ ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے۔ماہرین اطفال کا خیال ہے کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر بچے چائے کا استعمال رکھیں تو یہ ان کی صحت پر برے اثرات مرتب کر تی ہے۔ لہذا جاڑا پھر سے لو ٹ آیا ہے اپنی سوغاتوں کے ساتھ ،چنا نچہ والدین بچوں کو ٹھنڈ کے مضرا ثرات سے بچائو کے لئے چاق و چو بند ہو جائیں۔

Your Thoughts and Comments