Jis Ko Bhulaya Na Ja Sakay Ga

Jis Ko Bhulaya Na Ja Sakay Ga

جس کو بھلایا نہ جاسکے گا

14اپریل 1994ء کی صبح ہم سے ایک ایسی بڑی ہستی ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئی، جس کے ہم پر بڑے احسانات ہیں اور جس کی ذات پر ہم فخر کرسکتے ہیں۔اس ہستی کانام تھا، سلیم الزماں صدیقی۔

مسود احمدبرکاتی:
14اپریل 1994ء کی صبح ہم سے ایک ایسی بڑی ہستی ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئی، جس کے ہم پر بڑے احسانات ہیں اور جس کی ذات پر ہم فخر کرسکتے ہیں۔اس ہستی کانام تھا، سلیم الزماں صدیقی۔
وہ ایک عظیم سائنس دان تھے۔
ایسے سائنس دان جن کانام پاکستان ہی میں ہیں تمام سائنسی دنیا میں بھی احترام اور عزت سے لیا جاتا ہے، سائنس میں ان کا شعبہ کیمیا تھا۔ وہ کیمائی کے علم کو ترقی دینے کے لیے عمر بھر کام کرتے رہے اور نئی نئی دریافتوں سے پاکستان کی خدمت کرتے رہے۔

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی پچھلی صدی میں یعنی 19۔ اکتوبر1897ء کو بارہ بنکی (یو۔پی، ہندستان) میں پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح زندگی نے جب ان کا ساتھ چھوڑا تو وہ 96برس سے اوپر کے ہوچکے تھے۔

(جاری ہے)

صدی پوری ہونے میں مشکل سے 4برس باقی تھے۔ یہ لمبی زندگی ڈاکٹر صاحب نے بے کار نہیں گزاری۔

1927ء میں وہ جرمنی سے کیمیا کے ڈاکٹر“ (ڈی فل) بن کر وطن لوٹے تھے۔ اس وقت مسیح الملک حکیم اجمل خاں زندہ تھے۔ حکیم صاحب بہت بڑے طبیب اور سیاسی رہ نما تھے۔ حکیم صاحب کو ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی صلاحیتیوں کا اندازہ ہوگیا اور انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو اپنے طبیہ کالج دہلی میں دواؤں پر تحقیق کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کاکام سپرد کیا۔
ڈاکٹر صاحب دل وجان سے اس کام میں لگ گئے اور اس ادارے میں دوائی پودوں پرسائنسی تحقیق کاکام شروع کردیا۔ ”چھوٹا چاند‘ ‘ ایک پودے کانام ہے۔ (سائنسی کام راولفیا سرپن ٹینا ہے) اس پر تحقیق میں لگ گئے اور اس سے کئی مفید الکائڈ نکالے، جو دل ودماغ کی بیماریوں میں بہت مفید ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے ان میں سب سے اہم الکلائڈ کانام” اجملین“ رکھ کر اجمل خاں کی بڑائی کوتسلیم کیا۔ دس سال تک ڈاکٹر صاحب طبیہ کالج کے تحقیقی ادارے کے ڈائرکٹررہے اور دوائی پودوں پر تجربات کرتے رہے۔
1940ء میں اس وقت کی حکومت ہندنے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کو کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں بلالیا، جہاں ان کو بہت سی چیزوں پر تحقیق کرنی تھی۔
اس طرح دواؤں پر ریسرچ کاکام رک گیا۔ 1947ء کے شروع میں ڈاکٹر صاحب کو ہندوستان ہی میں نیشنل کیمیکل لیبارٹریز کا ڈاکٹربنادیاگیا۔
1947ء ہی میں پاکستان بن گیا۔ یہاں سائنس کوترقی دینی تھی۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان نے ڈاکٹر صاحب سے کہلوایا کہ یہاں آپ کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر صاحب ہندستان چھوڑ کر 1951ء میں پاکستان آگئے۔پاکستان میں جو مشہور سائنس دان پہلے سے موجود تھے، وہ ڈاکٹر صاحب کے آنے سے بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے یہاں آکر سائنسی کاموں کی تنظیم کاکام شروع کردیا۔ 1935ء میں سائنسی اور صنعتی تحقیق کے لیے ایک بہت بڑا ادارہ قائم کیا۔
اس ادارے کا صدر دفتر اور تجربہ گا کراچی میں اور علاقائی تجربہ گاہیں لاہور، پشاور، ڈھاکا اور چٹاگانگ میں قائم کیں اور اچھے اچھے سائنس دانوں کو پانے ساتھ لگایا۔ اس ادارے کا نام” پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ“ ہے اور اس نے سائنسی، صنعتی اور دفاعی مسائل حل کرکے بڑی خدمت کی۔
ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی اس کے ڈائرکٹر اور بعد میں 1966ء تک صدرنشین رہے۔
1966ء میں ڈاکٹر محمود حسین خاں نے جو اس زمانے میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر تھے، ڈاکٹر صاحب کو پروفیسر اور ڈائرکٹر ریسرچ کی حیثیت سے جامعہ کراچی میں شامل کرلیا۔
ڈاکٹر صاحب کو کام کرنے کی عادت تھی۔ انھوں نے یہاں بھی ایک بہت مفیدادارے کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کانام حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری“ ہے۔ بہت جلد اس ادارے کو پاکستان میں اور پاکستان سے باہر شہرت اور اہمیت حاصل ہوگئی۔
آج کل ڈاکٹر عطاء الرحمن اس ادارے کے ڈائرکٹر ہیں۔
ڈاکٹر صدیقی کو 1961ء میں رائل سوسائٹی آف لندن کا فیلواور 1964ء میں دیٹی کن اکیڈمی آف سائنس کا ممبر منتخب کیاگیا۔ سوویت اکیڈمی نے ڈاکٹر صاحب کو ایک بڑا سونے کا تمغاپیش کیا۔
دنیا کی کئی یونی ورسٹیاں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں دے کر ڈاکٹر صاحب کی عظمت کا اعتراف کر چکی ہیں۔ 1967ء میں لیڈز ( LEEDS) یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری پیش کی۔ حکومت برطانیہ نے 1964ء میں ایم بی ای (M.B.E) کا اعزاز بخشا۔
حکومت پاکستان نے1962ء میں ستارہ امتیاز، 1966ء میں صدارتی تمغاے حسن کارکردگی اور 1980ء میں ہلال امتیاز جیسا برا اعزاز دیا۔
ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی بڑے سائنس داں ہونے کے علاوہ آرٹسٹ بھی تھے۔ ان کو طالب علمی کے زمانے ہی سے تصویریں بنانے کا شوق تھا۔
ان کی تصویروں کی پہلی نمائش 1924ء میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب شاعری بھی بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔
ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی سادہ مزاج، خوش اخلاق اور محنتی انسان تھے۔ وہ آٹھ دس گھنٹے روزانہ تجربہ گاہ میں کھڑے کھڑے کام کرتے تھے۔
بچوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ ایک بار بزم ہمدردنونہال میں تشریف لائے تھے اور بہت مزے دار تقریر کی تھی۔ بچوں کے لیے پاکیزہ ادب کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔ ہمدرد نونہال کو بہت پسند کرتے تھے اور قدردان تھے۔ حکیم صاحب بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔
حکیم صاحب نے ان کے اعزاز میں سائنسی مضامین کی ایک عمدہ کتاب انگریزی میں شائع کی تھی۔
ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کے کارنامے ہمیشہ یادرکھے جائیں گے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والوں اور ان کے شاگردوں اور سائنس کے تمام طالب علموں کے لیے ان کی زندگی علم اور عل کے ایک بہت اچھے نمونے کاکام دیتی رہے گی۔

Your Thoughts and Comments