Kutton K Bare Main Malomaat - Article No. 1856

کتوں کے بارے معلومات

بھئی چائنہ کے بارے مشہور ہے کہ میز،کرسی کے علاوہ ہر چار پائے والی چیز کھائی جاتی ہے

منگل دسمبر

Kutton K Bare Main Malomaat
ساجد کمبوہ
تسمیہ اپنی ماما کے ساتھ سیر کے لئے گئی اسے سنڈے کا بڑا انتظار تھا کیونکہ سردی کچھ کم ہو گئی تھی اس کی ماما چار پانچ دن سے سیر کے لئے جا رہی تھی وہ دو تین دن نزدیکی پارک میں گئی دو دن ٹینکی والے پارک میں گئی اس پارک میں گھر اسی گراؤنڈ تھا وہاں جھولے وغیرہ نہ تھے اب تیسرا پارک کچھ دور تھا اسے لیڈیز پارک کہتے ہیں وہاں تین چار قسم کے جھولے لگے ہوئے تھے وہ بھی فری،وہاں چھوٹے بچے،عورتیں اور بچیاں جاتی تھیں۔

تسمیہ نے اپنی فرینڈز طیبہ،نور،اقصیٰ،کو بھی تیار کر لیا تھا۔لیڈیز پارک دو ڈھائی برس پہلے بنایا گیا تھا۔وہاں پھولوں کی کیاریاں،رنگ برنگ پھول لگے ہوئے تھے۔ریفریشمنٹ کے لئے ایک شاپ بھی بنی تھی آٹھ بجے کے بعد بچیوں کو ہنرمند کرنے کے لئے چھ ماہ کے مختلف کورسوں کا اہتمام تھا۔

(جاری ہے)

مزے کی بات یہ کہ Tveta کی جانب سے انہیں وظیفہ بھی ملتا تھا۔اور سرٹیفکیٹ بھی دیا جاتا۔
اس دن تسمیہ معمول سے پہلے اٹھ گئی نماز کے بعد پارک جانے کے لئے اپنی ماما کے ساتھ سیر کے لئے کم اور جھولوں کے لئے زیادہ گئی تھی طیبہ،نور،اقصیٰ بھی ٹائم سے آگئی تھیں۔
مگر خلاف توقع جلدی آگئیں اس کے پاپا بڑے حیران ہوئے اور کہا”بھئی اتنے دن تیاری اور اتنی جلدی واپسی۔خیر تو ہے۔کیا پارک بند تھا“؟
نہیں پاپا جان پارک تو کھلا تھا کچھ لیڈیز اور چھوٹے بچے بھی تھے مگر وہاں درجن بھر کتے اور ان کے بچے بھی اِدھر اُدھر پھر رہے تھے۔
لگتا ہے وہ بھی اس کے لئے آئے ہیں۔کیا کہا؟کتے اور بچے بھی وہاں چوکیدار ہوتا ہے جب دو ڈھائی سال پارک کا افتتاح ہوا تھا میں بھی اتفاقاً ادھر تھا پھر ایک بار گیا تھا وہاں پھولوں کی کیاریاں،بیٹھنے کے لئے بنچ،درختوں پر لگے قمقمے عجیب منظر بیان کر رہے تھے۔

پاپا جان وہ پرانا پاکستان تھا اب نیا پاکستان ہے اب وہاں کے جھولے زنگ آلود ہیں یہ دیکھیں میرے کپڑے زنگ آلود ہو گئے ہیں آج کے بعد ہماری توبہ،سنا سارا دن پارک کھلا رہتا ہے نہ کوئی چوکیدار نہ کوئی سیفٹی وہاں سگریٹ کے بے شمار ٹوٹے،ماچس کی جلی تیلیاں،سگریٹ، ماچس کی خالی ڈبیہ،کہیں نمکو،لیٹر بسکٹ کے ریپڑ اور بس۔

انکل ہمیں تو راستے میں بھی بہت سے کتے نظر آئے۔خبر نہیں اتنے کتے کہاں سے آئے۔اقصیٰ نے کہا بھئی کتے ہیں تو اللہ کی مخلوق۔مگر ان کے نقصانات بہت ہیں۔سندھ میں کئی باؤلے کتوں نے کئی افراد کو کاٹا وہ انتقال کر گئے۔وہاں ویکسین دستیاب نہ تھی۔
پاپا جان سنا ہے چائنہ میں کتے شوق سے کھاتے ہیں۔تسمیہ نے کہا۔چھی چھی چھی تسمیہ کچھ خیال کرو اتنا گندا جانور اور اسے کھانا․․․․․․نہیں بھئی نہیں دل نہیں مانتا۔بیٹی تسمیہ کی بات سچ ہے چائنہ میں بہت سے جانور کھائے جاتے ہیں ان میں کتے بھی شامل ہیں․․․․․
”انکل کیا خنزیر یا سور بھی کھایا جاتا ہے“؟
نور نے کہا۔

بھئی چائنہ کے بارے مشہور ہے کہ میز،کرسی کے علاوہ ہر چار پائے والی چیز کھائی جاتی ہے ان کے علاوہ کیڑے مکوڑے،لال بیگ،بچھو وغیرہ بھی شامل ہیں۔انکل کیا یہ سچ ہے؟نور نے حیرانگی سے پوچھا۔ہاں بھئی!ہر قوم کی کھانے پینے کے معاملے میں الگ الگ روایت ہیں لوگ مختلف قسم کے کھانے اور پکوان کھاتے ہیں مگر دنیا میں کچھ ایسے کھانے ہیں جو کسی کے لئے ناپسندیدہ اور غلیظ ہوتے ہیں۔
مگر چائنہ وہ ملک ہے جہاں کھانے پینے کے معاملہ میں کوئی نخرہ نہیں کیا جاتا روئے زمین کا ہر جانور کھایا جاتا ہے چائنہ کی بڑی مارکیٹ میں ہر قسم کا گوشت فروخت ہوتا ہے کن کھجورے،بچھو،ہر قسم کے حشرات بلکہ اژدھا،چوہے،سانپ،کتے،خنزیر ہر قسم کی مچھلیوں کے علاوہ مگرمچھ کا گوشت بھی فروخت ہوتا ہے۔
مگر ان سب میں کتے کے گوشت کو کھانا مرغوب غذا سمجھا جاتا ہے۔
21 جون کو چائنہ میں گرمیوں کے آغاز میں ایک میلہ ”ڈاگ فیسٹیول“ منایا جاتا ہے۔جنوبی چین والے کتوں کے گوشت کے زیادہ شوقین ہیں اس ایک مہینے میں تقریباً دس ہزار کتے کاٹے جاتے ہیں۔
انکل انہیں کوئی روکتا نہیں ایک تو کتا اور دوسرا گوشت کھانے پر طیبہ نے کہا۔ بھئی جانوروں کی عالمی تنظیم نے کئی بار آواز اٹھائی مگر ان کا کہنا ہے کہ یہ ہماری صدیوں سے روایات چلی آرہی ہے ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔ اس وقت سے لے کر آج تک چائنہ میں تین مقاصد کے لئے کتے پالے جاتے ہیں۔
رکھوالی کے لئے،شکار کے لئے اور کھانے کے لئے۔ جنوبی چائنہ والے جب شمالی چائنہ آئے اپنے ساتھ اپنی روایات بھی لیتے آئے یوں سارے چائنہ میں کتے کے گوشت کو پسند کیا جانے لگا۔ اور صدیوں سے کتے کو مردے کے ساتھ قبر میں زندہ دفن کرنے کا بھی رواج رہا ہے کیونکہ کتا ان کے نزدیک اچھا دوست ہوتا ہے۔

پاپا جان!انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان سے معاہدہ کر لیں یہاں اتنے تگڑے کتے پھر رہے ہوتے ہیں انہیں سستے بھی ملیں گے اور یہاں کٹنے سے لوگ بچ جائیں گے․․․․․KPK میں گدھوں کی خریداری کا معاہدہ ہوا ہے دیکھیں یہ تجارت کب شروع ہوتی ہے۔
انکل کیا کتے صرف چائنہ میں کھائے جاتے ہیں؟
نور نے پوچھا۔
نہیں بھئی کچھ صدی سے امریکہ،افریقہ اور یورپ میں بھی اسے پسند کیا جانے لگا ہے تیسری صدی سے یہ غیر مسلموں کی پسندیدہ غذا تھی۔ پھر 1996ء سے تاحلا سوئٹزر لینڈ کے ہوٹلوں میں بھی اس کی فروخت شروع کی گئی تاحال کامیابی سے جاری ہے اس کے علاوہ شمالی کوریا، جنوبی کوریا،ویت نام میں بھی بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے صرف چائنہ میں سالانہ ڈیڑھ کروڑ کتے کاٹے اور کھائے جاتے ہیں۔
”انکل آپ کا شکریہ ہمیں بڑی اچھی اور مفید معلومات ملیں۔چلو سیر نہ سہی انفرمیشن ہی سہی“اقصیٰ نے کہا۔

مزید متفرق مضامین

Hamdardi Or Qurbani

ہمدردی اور قربانی

Hamdardi Or Qurbani

Uncle Dehshatgard K Naam

انکل دہشت گرد کے نام

Uncle Dehshatgard K Naam

Afaat

آفت

Afaat

Saneha Public Army Shool Peshawar Ke Chaar Saal

سانحہ پبلک آرمی سکول پشاور کے چار سال

Saneha Public Army Shool Peshawar Ke Chaar Saal

Maan Ki Muhabbat

ماں کی محبت

Maan Ki Muhabbat

Achi Taleem O Tarbiyat Bohat Zaroori Hai

اچھی تعلیم وتربیت بہت ضروری ہے

Achi Taleem O Tarbiyat Bohat Zaroori Hai

Bacchoon Ki Nashr U Nama

بچوں کی نشوونما اور بلوغت کا زمانہ

Bacchoon Ki Nashr U Nama

Sanp Or Chohe Ki Larai

سانپ اور چوہے کی لڑائی

Sanp Or Chohe Ki Larai

Wajid Ali Gur Ki Dali

واجد علی گُڑکی ڈلی

Wajid Ali Gur Ki Dali

Soone Ki DaaliyaaN

سونے کی تین ڈالیاں

Soone Ki DaaliyaaN

Waqt Ki Pitai

وقت کی پٹائی

Waqt Ki Pitai

Manshiat Ka Smaglor

منشیات کا اسمگلر

Manshiat Ka Smaglor

Your Thoughts and Comments