Maan Ko Mere Aane Ki Khabar Kiase Ho Jati Hai - Article No. 818

ماں کو میرے آنے کی خبر کیسے ہو جاتی ہے

بہت عرصہ مجھے اس راز کا پتہ ہی نہ چل سکا کہ ماں کو میرے آنے کی خبر کیسے ہو جاتی ہے۔ میں سکول سے آتا تو دستک دینے سے پہلے دروازہ کھل جاتا۔ کالج سے آتا تو دروازے کے قریب پہنچتے ہی ماں کا خوشی سے دمکتا چہرہ نظر آ جاتا

بدھ جولائی

Maan Ko Mere Aane Ki Khabar Kiase Ho Jati Hai
بہت عرصہ مجھے اس راز کا پتہ ہی نہ چل سکا کہ ماں کو میرے آنے کی خبر کیسے ہو جاتی ہے۔ میں سکول سے آتا تو دستک دینے سے پہلے دروازہ کھل جاتا۔ کالج سے آتا تو دروازے کے قریب پہنچتے ہی ماں کا خوشی سے دمکتا چہرہ نظر آ جاتا۔وہ پیار بھری مسکراہٹ سے میرا استقبال کرتی، دعائیں دیتی اور پھر میں صحن میں اینٹوں سے بنے چولہے کے قریب بیٹھ جاتا۔
ماں گرما گرم روٹی بناتی اور میں مزے سے کھاتا۔جب میرا پسندیدہ کھانا پکا ہوتا تو ماں کہتی چلو مقابلہ کریں۔یہ مقابلہ بہت دلچسپ ہوتا تھا۔
ماں روٹی چنگیر میں رکھتی اور کہتی اب دیکھتے ہیں کہ پہلے میں دوسری روٹی پکاتی ہوں یا تم اسے ختم کرتے ہو۔
ماں کچھ اس طرح روٹی پکاتی .. ادھر آخری نوالہ میرے منہ میں جاتا اور ادھر تازہ تازہ اور گرما گرم روٹی توے سے اتر کر میری پلیٹ میں آجاتی۔

(جاری ہے)

یوں میں تین چار روٹیاں کھا جاتا لیکن مجھے کبھی سمجھ نہ آئی کہ فتح کس کی ہوئی!ہمارے گھر کے کچھ اصول تھے۔

سب ان پر عمل کرتے تھے۔
ہمیں سورج غروب ہونے کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے لاھور میں ایک اخبار میں ملازمت ایسی ملی کہ میں رات گئے گھر آتا تھا۔
ماں کا مگر وہ ہی معمول رہا۔
میں فجر کے وقت بھی اگر گھر آیا تو دروازہ خود کھولنے کی ضرورت کبھی نہ پڑی۔لیٹ ہو جانے پر کوشش ہوتی تھی کہ میں خاموشی سے دروازہ کھول لوں تاکہ ماں کی نیند خراب نہ ہو لیکن میں ادھر چابی جیب سے نکالتا، ادھر دروازہ کھل جاتا۔
میں ماں سے پوچھتا تھا… آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں آ گیا ہوں؟
وہ ہنس کے کہتی مجھے تیری خوشبو آ جاتی ہے۔

پھر ایک دن ماں دنیا سے چلی گئی !
ماں کی وفات کے بعد ایک دفعہ میں گھر لیٹ پہنچا، بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑا رہا، پھر ہمت کر کے آہستہ سے دروازہ کھٹکٹایا۔ کچھ دیر انتظار کیا اور جواب نہ ملنے پر دوبارہ دستک دی۔ پھر گلی میں دروازے کے قریب اینٹوں سے بنی دہلیز پر بیٹھ گیا۔
سوچوں میں گم نجانے میں کب تک دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا رہا اور پتہ نہیں میری آنکھ کب لگی۔ بس اتنا یاد ہے کہ مسجد سیاذان سنائی دی، کچھ دیر بعد سامنے والے گھر سے امّی کی سہیلی نے دروازہ کھولا۔ وہ تڑپ کر باہر آئیں۔
انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور بولی پتر! تیری ماں گلی کی جانب کھلنے والی تمہارے کمرے کی کھڑکی سے گھنٹوں جھانکتی رہتی تھی۔
ادھر تو گلی میں قدم رکھتا تھا اور ادھر وہ بھاگم بھاگ نیچے آ جاتی تھیں۔ وہ بولی پتر تیرے لیٹ آنے، رات گئے کچن میں برتنوں کی آوازوں اور شور کی وجہ سے تیری بھابی بڑی بڑ بڑ کیا کرتی تھی کیونکہ ان کی نیند خراب ہوتی تھی۔پھر انہوں نے آبدیدہ نظروں سے کھڑکی کی طرف دیکھا اور بولیں "پتر ھن اے کھڑکی کدے نیئں کھلنی"۔

کچھ عرصہ بعد میں لاھور سے اسلام آباد آ گیا جہاں میں گیارہ سال سے مقیم ہوں۔سال میں ایک دو دفعہ میں لاھور جاتا ہوں۔میرے کمرے کی وہ کھڑکی اب بھی وہاں موجود ہے۔لیکن ماں کا وہ مسکراہٹ بھرا چہرہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا۔
باپ کے سایہ کی ناقدری مت کر اے نادان
دھوپ بہت کاٹے گی جب شجر کٹ جائیگ

مزید متفرق مضامین

Computer Ka Musbad Istamal

کمپیوٹر کا مثبت استعمال بچوں کی ذہنی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے

Computer Ka Musbad Istamal

Jhooti Kahaniyaan

جھوٹی کہانیاں

Jhooti Kahaniyaan

Eid Ul Aazaaha Qurbani Or Esaar Ka Sabq Sikhati Hai

عیدالاضحی ایثارو قربانی کا درس دیتی ہے

Eid Ul Aazaaha Qurbani Or Esaar Ka Sabq Sikhati Hai

Pyaray Nabi Ka Bachpan

پیارے نبیﷺ کا بچپن

Pyaray Nabi Ka Bachpan

Choroon Ka Ustad

چوروں کا اُستاد

Choroon Ka Ustad

Raaste Ka Pathar

راستے کا پتھر

Raaste Ka Pathar

Cycle Cycle Hai

سائیکل ،سائیکل ہے

Cycle Cycle Hai

Sabz Hilali Parcham

سبز ہلالی پرچم

Sabz Hilali Parcham

Achi Taleem O Tarbiyat Bohat Zaroori Hai

اچھی تعلیم وتربیت بہت ضروری ہے

Achi Taleem O Tarbiyat Bohat Zaroori Hai

Roghni Bua Ki Rooh

روغنی بُوا کی روح

Roghni Bua Ki Rooh

Tum Kon Ho

تم کون ہو؟

Tum Kon Ho

Saneha Public Army Shool Peshawar Ke Chaar Saal

سانحہ پبلک آرمی سکول پشاور کے چار سال

Saneha Public Army Shool Peshawar Ke Chaar Saal

Your Thoughts and Comments