Mazdoori Ka Endhan Bannay Walay Nau Nihaal

Mazdoori Ka Endhan Bannay Walay Nau Nihaal

مزدوری کا ایندھن بننے والے نونہال

ہمارا اشارہ ان بچوں کی طرف ہے جوتعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اور محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

بچوں کو دیا گیا وقت اور توجہ ہمارے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے،وسائل سے محروم بچوں کواپنی خوشیوں میں شامل کرنا ہمارا اولین اوراخلاقی فرض ہے،انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لئے ہر صاحب حیثیت کو اپنا اپنا حصّہ ڈالنا چاہئے۔
ہمارا اشارہ ان بچوں کی طرف ہے جوتعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اور محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔پاک وطن کے بچے بے پناہ صلاحیتوں سے مالامال ہیں،ہماری زرا سی توجہ ان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔بے شک حکومت بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے، لیکن محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے ہماری بھی کچھ زمہ داریاں ہیں،ایسے بچے جو کسی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ہمیں انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے کیونکہ یہ مستقبل کے معمار ہیں،پاکستان کا روشن مستقبل ہیں،انہیں چائلڈ لیبر سے آزاد کرنا یا کروانا ہمارا فرض ہے۔

(جاری ہے)


بچوں کی فلاح و بہبودکے عالمی ادارہ یونیسف بچوں سے مشقت نہ لینے پر بھر پور کردار ادا کررہا ہے۔ بچوں کی بھلائی اور بہتری کے لیے نت نئے منصوبے بنانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی مناسبت سے ان کے حقوق کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے غرضیکہ ان کے روشن مستقبل کے لئے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس میں ان سے مزدوری نہ کروائی جائے اور بچوں سے مشقت لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاک وطن میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام ہورہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ کہ یہاں خیالی پلاؤ تو بہت بنائے جاتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ بے شک وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی طرف سے بچوں میں تعلیم عام کرنے کی ٹھان رکھی ہے لیکن یہ فرد واحد کا کام نہیں، اس کے لئے پوری چین کوصدق دل اور ایمانداری سے اپنا کام سرانجام دینے کی ضرورت ہے،بچوں کی بہتری اور ان کے روشن مستقبل کے لیے ہر ایک کوجوتعلیم کے شبہ سے وابستہ ہیں ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا چاہئے۔
بچوں کے بہتر مستقبل،قوم کی ترقی اور خوشخالی کے لیے ان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔لیکن بات وہی کہ ان سے مشقت کون چھڑوائے گا۔
یکم مئی کو ملک بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔جہاں مزدور اپنی روزی روٹی کمانے کے لئے مزدوری کرتے ہیں وہاں ”چھوٹے “ مزدوروں کی بھی کمی نہیں ہمارا اشارہ ان بچوں کی طرف ہے جو پڑھنا توچاہتے ہیں لیکن وہ اس عمر میں جب ان کے ہاتھ میں پڑھنے لکھنے کے لئے کتابیں اورکاپیاں ہونی چاہیئیں مختلف قسم کے اوزار ہیں جہاں ان سے زبردستی اوران کی طاقت سے زیادہ کام لیا جاتا ہے، بعض بچے بہن بھائیوں کا پیٹ پالنے کے لیے مزدوری کرتے ہیں اور بعض بچوں سے زبردستی مزدوری کروائی جاتی ہے اور زبردستی بھی کوئی غیر نہیں بلکہ ان کے والدین ہیں اینٹوں کے بھٹوں پر والدین اپنے بچوں کو زبردستی ساتھ لے جاتے ہیں وہ اپنے بچوں سے مشقت اس لئے کرواتے ہیں کہ اْ نہوں نے بھٹہ مالکان سے ایڈوانس رقم اتنی زیادہ لی ہوتی ہے کہ قرض لی گئی رقم کی ادائیگی ان کے بس سے باہر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بچوں سے مشقت کروانے پر مجبور ہیں۔
چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے بہت سی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں لیکن عملی سطح پر کوئی کام نہیں کیا گیا،مزدور بچے آج در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں،چائلڈ لیبر کے خاتمہ کی زمہ داری بے شک حکومت پر عائد ہے لیکن ان مالکان کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو ننھے منے ہاتھوں کو مشقت پر مجبور کرتے ہیں جبکہ ذرا سی غلطی یا کا م میں تاخیر اور چھٹی کی صورت میں انہیں ماراپیٹا بھی جاتا ہے۔

تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد، عورت پر لازم قراردیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے تعلیم حاصل کرو اس کے لئے چاہے آپ کو چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہزاروں سال پہلے ہی لگایا جا چکا ہے۔ تعلیم کی اہمیت و فوقیت ہر دور میں رہی اس لیے تعلیم کو انسان کی اخلاقی ڈھال کہا گیا ہے۔
کوئی وقت ایسا نہیں گزرا جس دور میں تعلیم یا علم کی ضرورت کو محسوس نہ کیا گیا ہو۔ قوموں کی ترقی کا راز بھی تعلیم میں پنہاں ہے۔یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی بچوں سے مشقت کیوں لی جاتی ہے؟جس ملک کے بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں وہ قوم یا ملک کیسے ترقی کر سکتے ہیں؟ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں زیادہ تر بچے محنت مزدوری اس لئے کررہے ہیں کہ وہ تعلیمی اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔

گھروں میں کام کرنے والے زیادہ تر بچے اور بچیاں ہی ہوتی ہیں۔ قالینوں کے کارخانوں میں بچے ہی کام کرتے ہیں۔ موٹر مکینک ہو یا ہیوی ٹرانسپورٹ مکینک یہاں بھی ”چھوٹوں“ سے کام لیا جاتا ہے اور بچوں کا نام چھوٹا ہی رہتا ہے۔
چائے کے ہوٹلوں میں ننھے منے نو نہال کام کرتے ہیں۔ظلم کی بات یہ کہ گرمیوں کی تپتی دھوپ میں اینٹوں کے بھٹوں پر بھی زیادہ تر بچے ہی کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے بچے ایسے ہیں جنہیں ان کے والدین زبردستی محنت مشقت کرواتے ہیں۔
بلکہ یہاں تک بھی دیکھا گیا ہے کہ جب وہ کام پر نہیں جاتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ اور مارا پیٹا بھی جاتا ہے۔
ایک نظرخانہ بدوشوں پر ڈالی جائے۔ جہاں کھلے میدانوں میں آپ کو جھگیاں ہی جھگیاں نظر آئیں گی۔ وہاں بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے وہ تعلیم سے ناآشنا ہیں۔
ان میں سے کچھ بچے لوگوں کے گھروں میں کام کرتے ہیں کچھ بچے عادتاً بھیک مانگتے ہیں اور کچھ گدھا گاڑی چلاتے ہیں یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر بچوں کے والدین کام نہیں کرتے وہ فارغ رہتے ہیں۔ بچوں کو روزی روٹی کمانے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہ بچے جب زیر تعلیم بچوں کورنگ برنگا یونیفارم پہنے کندھے پر بیگ لٹکائے سکول جاتے دیکھتے ہیں توان کا بھی جی چاہتا ہوگا کہ وہ بھی سکول جائیں اور تعلیم حاصل کریں،لیکن مجبوری ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
یہی سنتے آئے ہیں کہ بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
بچے پھول کی مانند ہیں اور یہ حقیقت ہے۔ بچے پھول کی مانند ہی ہوتے ہیں انہیں جس کام پر بھی لگایا جائے چند ماہ میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں۔ خوش قسمتی سے پاک وطن کے بچے اپنی ذہانت کا لوہا منواچکے ہیں۔ اگر پانچ سال کا بچہ گدھا گاڑی چلانے میں مہارت حاصل کر سکتا ہے۔
دس یا بارہ سالہ بچہ موٹر سائیکل یا موٹر مکینک بن سکتا ہے۔ تووہ نصابی سر گرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکتا ہے یقیناً پڑھائی میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرسکتا ہے۔ بچوں کی ابتدائی عمر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ وہ کتنی صلاحیتوں کا مالک ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں سے مشقت نہ لینے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں اور جو بھی ننھے منے ہاتھوں سے مشقت لے، حکومت اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائے اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ان علاقوں کا سروے کرنا انتہائی ضروری ہے جہاں بچے کام کرنے پرمجبورہیں۔

Your Thoughts and Comments