Motor Chor

Motor Chor

موٹر چور

شیخ صاحب یہ اچھی بات نہیں کہ آپ کہ بغیر پوچھ گچھ کیے اس آدمی سے پانی کی موٹر خرید لیتے ہیں۔ کیا پتا وہ کہیں سے چوری ہی کرکے لاتاہو۔

روہنسن سیموئیل گل:
شیخ صاحب یہ اچھی بات نہیں کہ آپ کہ بغیر پوچھ گچھ کیے اس آدمی سے پانی کی موٹر خرید لیتے ہیں۔ کیا پتا وہ کہیں سے چوری ہی کرکے لاتاہو۔
محمود! تو بھی بڑا بھولا بھالا ہے، بھلا اتنے کم پیسوں میں ہمیں کہیں سے موٹر مل سکتی ہے۔
یہ تومیری سمجھ داری ہے کہ میں اسے قائل کرکے اس سے اونے پونے داموں یہ موٹریں اور دیگر سامان خرید لیتا ہوں اور اچھے منافعے پر بک بھی جاتا ہے۔ویسے ہمیں آم کھانے سے مطلب ہونا چاہیے، پیڑ گننے کا کیا فائدہ !
وہ بات ٹھیک ہے شیخ صاحب ! لیکن اگر وہ چوری کرکے لاتا ہے تو ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

لو، بھلا وہ ہمیں آکر کبھی بتاتا ہے کہ اس نے یہ سامان چوری کیا ہے۔ جب ہمیں پتا ہی نہیں کہ یہ سامان چوری کا ہے یا نہیں، تو خواہ مخواہ پریشان ہونے کی کیا ضرورت ؟ جرم کرتا ہوگا یہ گناہ اسی کے سرلگے گا، ہمیں کیا؟
شیخ صاحب کو بھی اس بات کااحساس تھا کہ ہو نہ ہوہر تھوڑے عرصے بعد یہ شخص جوموٹریں اور پرانے نلکے یاپائپ وغیرہ فروخت کرنے آجاتا ہے تو ضرو یہ چوری ہی کرتا ہوگا، مگروہ خود ہی بات کی تہ میں جانے کی خواہش مند نہ تھے۔

(جاری ہے)

آخریوں آسانی سے آتی ہو آمدنی کوکون چھوڑتا ہے؟ یہ تو اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنے والی بات تھی۔
ریٹائرڈ صوبیدار صاحب کے ہاں سے تو کوئی چور سرشام ہی موٹر اُتار کر لے گیا۔ ان کا بیٹا ملازمت کے سلسلے میں دوسرے شہر میں تھا۔
گھر میں بیٹی، بہواور ایک پوتا، ایک پوتی ہی تھے۔نہ جانے ان سب کی موجودگی میں کس طرح کوئی شام کے وقت دیوار پھلانگ کرآیااور موٹرکے نٹ وغیرہ کھول کر دیوار کے ذریعے ہی اسے لے کر بھاگ نکلا۔ محلے والوں میں سے بھی کسی نے اسے بھاگتے نہیں دیکھا۔
خود صوبیدار صاحب کے گھر والوں پر بھی اُس وقت انکشاف ہواجب انھوں نے ٹنکی میں پانی بھرکے لیے موٹر چلانی چاہی۔
اسی محلے میں رہنے والے سلیمان صاحب نے ایک فالتو موٹر یونہی گیراج کے کونے میں رکھی ہوئی تھی۔ جب کبھی ایک موٹر خراب ہوتی تو فوری طور پر دوسری نکالی جاتی۔
ایک دن جب دوسری موٹر کی ضرورت پڑی تو معلوم ہوا کہ وہ غائب ہوچکی ہے اور گھروالوں میں کسی کو خبر نہ ہوئی۔
سلیمان نے محلے کے چوکیدار سے بھی معلوم کیا کہ رات جب گشت کے لیے آتے ہوتو کبھی کسی چور اُچکے کو نہیں دیکھا۔
نہیں جناب! ویسے یہ چور اچکوں کانہیں، بلکہ کسی نشے باز کاکام ہے وہی ایسی حرکتوں میں ملوث ہوتے ہیں۔

چلو جو بھی ہے ، ہمارا تو نقصان ہوگیا ہے۔ شکرہے کہ دوسری موٹر کے نٹ اس بدبخت سے کھل نہ سکے، اس لیے وہ بچ گئی۔
چند روز کے بعد سلیمان صاحب نے اپنی موتر پر احتیاطاََ ایک زنجیر اور تالا بھی لگوالیا، تاکہ اگر کوئی چاروں نٹ کھولنے میں کامیاب بھی ہوجائے توکم ازکم تالے اور زنجیر کے باعث موٹر نہ چرالے جائے۔

غرض لیاقت کالونی کے مکینوں کے لیے یہ ایک مشکل بنی ہوئی تھی کہ موٹریں اکثر چرالی جاتی تھیں۔ کوئی تو کہتا کہ یقینا یہ ایک بڑا گروہ ہے، جودہشت گردی پھیلارہاہے۔ کسی کاکوئی اور خیال ہوتا۔ خیر جو کچھ بھی تھا، موٹریں چرانے والا بہت محتاط اور ہوشیار تھا۔
ایسی چالاکی اور ہوشیاری سے کام کرتا تھا کہ آج تک پکڑا نہیں گیا تھا۔
لیاقت کالونی سے چند کلومیٹر آگے ایک نئی آبادی میں سلطان سینٹری کے شیخ صاحب کا نیامکان زیر تعمیر تھا اب تو کام تکمیل کو پہنچ چکا تھا اور وہ جلدہی وہاں منتقل ہونے والے تھے۔

صبح صاحب اُن کا ملازم محمود دکان پر پہنچا تو چہرے پرپریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ گھبرائی ہوئی آواز میں وہ تقریباََ چلاتے ہوئے بولا: شیخ صاحب ! شیخ صاحب! غضب ہوگیا، غضب ہوگیا۔
شیخ صاحب نے اپنے ہاتھوں میں پکڑی رسیدوں سے نگاہیں اوپر اُٹھاتے ہوئے پوچھا: ارے تجھے ہر وقت کوئی نہ کوئی مصیبت ہی پڑی رہتی ہے۔
نہ سلام نہ دعا اور صبح صبح بری خبر دینے آگیا۔ کون فوت ہوگیا ہے۔
محمود نے اپنے اوسان بحال کرتے ہوئے جواب دیا، شیخ صاحب! وہ، وہ تھانے دار صاحب بری حکمت اور سمجھ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا: شیخ صاحب اگر آپ کو پتا تھا کہ یہ شخص چوری کی اشیا فروخت کرتا ہے تو آپ خریدتے کیوں تھے؟
شیخ صاحب کا حلق خشک ہوا تو وہ تھوک نگلتے ہوئے بولے: وہ ، وہ میں تویہی سمجھتا تھا کہ یہ ردی یاکباڑ کی اشیاء ہوئی تھیں۔

تب وہ مجرم بول اٹھا: تھانے دار صاحب! میں غربت اور اپنے معاشی حالات کے ہاتھوں تنگ آکر گزشتہ تین چار ماہ سے چوریاں کررہاتھا، مگر میرے جرم میں یہ برابر کے شریک ہیں۔ میں نے سامان ہمیشہ ان ہی کے ہاتھ بیچا۔ انھوں نے اچھا بلا اورستھری حالت والا سامان مجھ سے بہت ہی کم پیسوں میں خریدا۔
میں نے کئی اور دکانوں پر بیچنا چاہاتو کسی نے میرا اعتبار نہ کیا۔ ان کی وجہ سے میں اس راستے پر چل نکلا اور مجھے اور زیادہ دلیری حاصل ہوگئی۔ میں نے ملازمت کی کوشش کی، مگر کوئی میری ضمانت دینے والا نہیں تھا۔
تھانے داری صاحب کو اس نوجوان کی آنکھوں میں سچائی کی جھلک واضح طور پر دکھائے دے رہی تھی۔
وہ شیخ صاحب کو اس نوجوان کے ساتھ آپ کو بھی اندر کردوں، لیکن آپ باعزت شہری ہیں۔ میرا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ جوان عادی مجرم نہیں، بلکہ مجبور ہے۔ اس کی مجبوری نے اسے غلط کام کے لیے اکسایااور آپ نے اپنے نفع کے لیے اس کی مجبوری کا مزید فائدہ اٹھایااور اس راہ پر اس کی حوصلہ افزائی کی۔
اب میں چاہوں گاکہ آپ ہی اس نوجوان کو سیدھے راستے پر لانے میں میری مدد کریں۔
شیخ صاحب نے حیرانی سے تھانے دار صاحب کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگے: میں اس نوجوان کی نگرانی کروں گا۔ آپ اسے اپنے اس ملازمت دے دیں اور سینٹری کاکام بھی سکھائیں۔
اگرچہ سبھوں کے لیے یہ ایک حیرن کن تجویز تھی، مگر جب کی نگاہیں شیخ صاحب کی جانب لگی ہوئی تھیں گویا وہ سب متمنی تھے کہ ہاں میں ان کاجواب حاصل کرسکیں۔
وہ نوجوان بھی سکتے کے عالم میں تھانے دار صاحب کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔
اسے یقین تھا کہ اب جیل کی سزا کے علاوہ اس کے مقدر میں کچھ نہیں۔ اگرچہ اس نے پکڑے جانے کے فوراََ بعد ہی توبہ کرلی تھی اور یہ کام کرتے ہوئے کئی بارخدا سے معافی بھی مانگتا۔
شیخ صاحب نے کچھ دیر غور وخوض کرنے کے بعد اس نوجوان کے کندھے پرہاتھ رکھا اور کہا بیٹا !مجھے معاف کردینا، مجھے پہلے بھی تمھاری آنکھوں میں سچائی نظر آتی تھی، مگر لالچ نے میری آنکھوں کو اندھا کر دیا تھا۔

پھر تھانے دار کو مخاطب کرکے بولے: ٹھیک ہے تھانے دار صاحب! مجھے خوشی ہوگی کہ اس نوجوان کو اپنے پاس ملازمت دے دوں۔
تھانے دار صاحب بولے: شاباش! مجھے آپ سے یہی اُمیدتھی۔ مبارک ہو آپ کے تعاون سے ایک شخص نیک راہ پر آگیا۔
شیخ صاحب مسکراتے ہوئے بولے: ایک نہیں دو کیوں کہ آپ کی نصیحت کے باعث میں بھی راہ راست پر آگیا۔

Your Thoughts and Comments