Muhammad Hussain Inoki

Muhammad Hussain Inoki

محمد حسین اِنوکی

ان کا قد چھے فیٹ تین انچ ہے۔ دورانِ مقابلہ وہ باکسنگ ، جوڈوکراٹے، کنگ فو، سوموریسلنگ کے ماہر نظر آتے تھے۔

محمد راحیل وارثی :
عالمی شہرت یافتہ سابق ریسلر اور جاپانی پارلیمنٹ کے رکن محمد حسین اِنوکی 20 فروری 1943 ء کو ”یوکوہاما“ میں ایک بااثر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام ”کانجی اِنوکی“ رکھا گیا۔
ان کے والد سجیرواِنوکی تاجر اور سیاست دان تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو اِنوکی محض پانچ برس کے تھے وہ جب اسکول کے ساتویں گریڈ میں تھے تو باسکٹ بال ٹیم میں شامل ہو گئے تھے۔ بعد میں وہ اس سے علیحدہ ہو گئے۔
جنگِ عظیم دوم کے بعد ان کے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، لہٰذا 1957 میں ان کے خاندان جاپان سے برازیل منتقل ہو گیا۔
محمد حسین اس وقت چودہ برس کے تھے۔ جب وہ سترہ سال کے تھے تو واپس جاپان آگے اور جاپان کی ریسلنگ ایسوسی ایشن میں ”رکیڈوزن“ کے شاگرد بن گئے۔

(جاری ہے)


ریسلنگ میں انھوں نے بڑا نام کمایااور ان کا شمار نامی گرامی پہلوانوں میں ہوتا تھا۔

انھوں نے ریسلنگ کی دنیا میں 30 ستمبر 1960 کو قدم رکھا اور 37 سال بعد 4اپریل 1998 کو ریٹائر ہوئے۔ انھوں نے والڈ ریسلنگ فیڈریشن کے کئی اعزاز جیتے۔
ان کا قد چھے فیٹ تین انچ ہے۔ دورانِ مقابلہ وہ باکسنگ ، جوڈوکراٹے، کنگ فو، سوموریسلنگ کے ماہر نظر آتے تھے۔
انھوں نے 1971 میں اداکارہ ”مٹسو کوہیشو“ سے شادی کی۔ ان کی ایک بیٹی ”ہیروکو“ ہے۔
دسمبر 1971 میں انطونیوانو کے ہاتھوں پاکستانی پہلوان اکرم کی شکست کے بعد بھولوبر ادران اس سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے بے تاب تھے۔
چنانچہ انھوں نے 1978 میں اسے دوبارہ مقابلے کا چیلنچ دیا ۔ اس مرتبہ مقابلے کے لئے اسلم پہلوان کے بیٹے زیبر عرف جھارا پہلوان کو میدان میں اُتارا گیا۔
جون1979 کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں دونوں پہلوان مقابل آئے۔ ابتداہی سے جھارا پہلوان انوکی پر چھایا رہا۔
پانچ منٹ کے پانچ راوٴنڈ تک کوئی پہلوان پوائنٹ نہ لے سکا۔ چھٹا اور آخری راوٴنڈ دس منٹ تک جاری رہنا تھا، چھٹا روانڈ شروع ہوتے ہی انوکی نے جھارا کا ہاتھ پکڑ کر بلند کر دیا اور اپنی شکست تسلیم کر لی۔
محمد حسین انوکی نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 1979 میں سیاست میں قدم رکھا اور پھر جاپان کے ایوانِ بالا میں پہنچ کر پارلیمنٹ کے رکن بنے۔

Your Thoughts and Comments