Muslim Dunya Eid Aur Bachay

Muslim Dunya Eid Aur Bachay

مسلم دنیا، عیداور بچے

دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے عیدا لفطر ایک بڑا مذہبی تہوار ہے۔ تمام اسلامی ممالک میں عید کادن اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ یہ ایک لحاظ سے درست بھی ہے۔

نسرین شاہین:
دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے عیدا لفطر ایک بڑا مذہبی تہوار ہے۔ تمام اسلامی ممالک میں عید کادن اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ یہ ایک لحاظ سے درست بھی ہے۔
آدھار رمضان ختم ہوتے ہی بچوں میں جوش وخروش شروع ہوجاتا ہے۔ بچے عید سے پہلے ہی تصور میں خود کو رنگارنگ کپڑے اور نئے جوتے پہنے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ساتھ ہی بڑوں سے ملنے والی عیدی سے بھری اپنی جیب کو دیکھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔

دنیا کے تمام مسلمان عید بھر پور طریقے سے مناتے ہیں۔ مختلف اسلامی ممالک میں عید بچے کیسے مناتے ہیں، یقینا آپ یہ جاننا چاہیں گے۔ بچے اپنی خوشی کااظہار کرنے میں دیر نہیں لگاتے ۔ آئیے! آپ کو بتائیں کہ مختلف اسلامی ممالک میں بچے کیسے عید مناتے ہیں۔

(جاری ہے)


انڈونیشا اس ملک میں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ دوسرے ممالک کے مسلمانوں کی طرح وہ بھی رمضان المبارک کے بعد عید الفطر اہتمام سے مناتے ہیں۔ عید سے دو دن پہلے سرکاری طور پر چھٹیاں ہوجاتی ہیں جو ایک ہفتے تک جارہی رہتی ہیں۔
ان چھٹیوں میں انڈونیشی بچے اپنے والدین کے ساتھ نئے کپڑے، جوتے اور رشتے کے ہم عمر بہن بھائیوں کے لیے تحفے خریدتے ہیں۔ عید کے دن نماز پڑھ کر سب دوست ایک دوسرے کے گھر جمع ہوکر عید کی خوشیوں کالطف اٹھاتے ہیں۔ بچے نئے کپڑے پہن کر عید کے خصوصی کھانوں کا مزہ لیتے ہیں۔

مصری کے مسلمان بھی بڑے جوش سے عیدمناتے ہیں ۔ وہاں عید کی چار، پانچ چھٹیاں ہوتی ہیں۔ مساجد اور کھلے میدانوں میں لاکھوں مسلمان عید کی نماز ادا کرتے ہیں۔ غریب مصری بچے بھی نئے کپڑے ضرور پہنتے ہیں۔ عید کے دنوں میں خاندان کے تمام لوگ جمع ہوتے ہیں، اس لیے بھی نئے کپڑے ضرور پہنے جاتے ہیں۔
ننھے منے معصوم بچے گلیوں اور باغوں میں اپنے من پسند کھیل کھیلتے ہیں۔ سب بچے صبح بہت جلد جاگ جاتے اور بڑوں کے ساتھ نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں۔ خواتین عید کے خصوصی کھانے تیار کرتیں ہیں اور بچے عید کے کپڑے پہن کر دوسرے رشتے داروں سے ملنے چلے جاتے ہیں۔
خاندان کے بڑے ، بچوں کو” عیدی“ پہلے بھی دیتے تھے اور آج بھی یہ روایت مصر میں قائم ہے۔ عیدی کی وجہ سے بچوں کے لیے کشش رکھتی ہے۔
ملائیشیائی لوگ عید پر ملایا کے روایتی لباس پہنتے ہیں۔ کرتا یاقمیض کے ساتھ پتلون یاشلوار کی قسم کالباس پہنتے ہیں۔
یہ جناح کیپ جیسی ٹوپی ہوتی ہے۔ ان کاخاص لباس کین سامپنگ (Kain Samping کہلاتا ہے۔ یہ رنگین کپڑاکمر کے گرد لپیٹا جاتا ہے۔ ویاں کے مرد یہ لباس پہن کر مسجد میں نماز عید ادا کرتے ہیں۔ ملائیشین خواتین اور چھوٹی بچیاں رنگ برنگے اور خوبصورت لباس پہن کر عید کاتہوار مناتی ہیں۔
بچے نئے کپڑے پہن کر عید کادن کھیلتے ہوئے گزارتے ہیں۔ ملائیشین لوگ بوں کو ” عیدی“ بھی دیتے ہیں، یہ رواج ہر اسلامی ملک میں ہے، کیوں کہ کہ اگر عیدی نہ ہوتو بچوں کی عید بے مزہ ہوجائے۔ ملائیشین بچے عیدی پاکر خوشی کااظہار کرتے ہیں۔

عراقی بچے خاص طور پر عید کاانتظار کرتے ہیں۔ اس دن جہاں انھیں نئے کپڑے، نئے جوتے اور دوسری نئی چیزوں کے استعمال کی خوشی ہوتی ہے، وہیں والدین سے ملنے والی عیدی ان کی خوشیوں کو دوبالا کردیتی ہے۔ والدین بچوں کو عیدی دینے کے علاوہ تحفے بھی دیتے ہیں۔
دیگر رشتے دار بھی بچوں کو عیدی دیتے ہیں، تاکہ وہ یہ رقم اپنی مرضی سے خرچ کرسکیں۔ عراقی بچے عیدی کی رقم سے زیادہ ترکھانے پینے کی چیزیں یا کھلونے خریدتے ہیں۔
دیگر مسلم ممالک کی طرح ترکی میں عیدکااہتمام ، جوایشیائی یاافریقی اور خلیجی ممالک کی پہنچان ہے، نظر نہیں آتا۔
البتہ بچے عید کی کوشی سے سرشار ہوتے ہیں۔ صبح سویرے نئے کپڑے پہن کربڑوں کے ساتھ عید کی نماز اداکرنے جاتے ہیں۔ عوامی تفریح کے لیے سرکاری طور پر تقریبات کاانعقاد کیاجاتا ہے۔ جگہ جگہ میلے اور روایتی لوک کہانیوں پر مبنی کٹھ پتلی کے تماشے پیش کیے جاتے ہیں۔
ترکی میں بھی بچوں کو عیدی دینے کی روایت ہے ۔ تحفوں کابھی تبادلہ کیاجاتا ہے۔ ترک بچوں کے لیے عید کادن بہت خاص دن ہوتا ہے۔ فلسطین ان بدقسمت اسلامی خطوں میں سے ایک ہے، جہاں خراب سیاسی حالات نے ہر فلسطینی کے چہرے سے خوشی کااحساس چھین لیاہے، پھر بھی اس مذہبی تہوار کو احترام سے منانے میں وہ پیچھے نہیں خاص طور پر فلسطینی بچے عید کادن اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ مل کر مناتے ہیں۔
اگر نئے کپڑے نہ بناسکیں توپرانے صاف ستھرے کپڑے پہن کرعید کی خوشیں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ فلسطین میں عید کی خوشی کاسلسلہ تین روز تک جاری رہتا ہے۔

Your Thoughts and Comments