Nangay Paon

ننگے پاؤں

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھار ننگے پاؤں کو درست قرار دیا ہے ۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاناکھاتے وقت جوتے اُتار دیا کرو،اِس سے پاؤں کو راحت ملتی ہے ۔

پیر اکتوبر

nangay paon

حدیث شریف میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھار ننگے پاؤں کو درست قرار دیا ہے ۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاناکھاتے وقت جوتے اُتار دیا کرو،اِس سے پاؤں کو راحت ملتی ہے ۔
جوتا چونکہ بند ہوتا ہے ،اِسے پہنے رہنے سے بیشمارا مراض پیدا ہوتے ہیں۔

مغربی تہذیب میں جوتا پہننا لازمی ہے ۔امریکہ اور یورپ کی دیکھا دیکھی ماڈرن مسلمان بھی ہروقت جوتا پہنے رکھتے ہیں ۔گھر میں دفتر میں کھانا کھاتے وقت ‘پیتے وقت “حتیٰ کہ بعض لوگ آرام کرتے وقت بھی جوتوں میں جکڑے رہنا اپنے آپ کو ماڈرن تہذیب کا حصہ سمجھتے ہیں ۔
حالانکہ ایسا کرنا بہت نقصان دہ ہے ۔بعض اوقات جوتے پہنے رہنے سے گھٹن پیدا ہو جاتی ہے ۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق کھانا کھاتے یا آرام کرتے ہوئے اگر پاؤں کو جوتے سے نکال کر زمین پر رکھیں تو اُنہیں ہوا لگے گی ۔

(جاری ہے)

ہوا پھپھوندی جراثیم اور وائرس کو ختم کرتی ہے ،ننگے پاؤں کو مٹی لگے گی،مٹی جراثیم کش ہوتی ہے ،اِس طرح پاؤں ہر قسم کی بیماری سے بچے رہتے ہیں ۔


جو تا اگر ربڑیا پلاسٹک کا ہوتو وہ نقصان دہ ہوتا ہے اورچونکہ اُس جوتے کی گرمی پاؤں کو جھلسادیتی ہے ،اِسلئے ضروری ہے کہ پاؤں جوتے سے نکال کر زمین پر چلاجائے ۔
جدیدسائنس اور صحت کے ماہرین اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ روزانہ صبح سویرے مٹی اور گھاس پر ننگے پاؤں چلا جائے۔اِس سے آپ دماغی کمزوری ‘خشکی اور دوسری بیماریوں سے بچ جائیں گے۔

Your Thoughts and Comments