Nirali Tarkeeb - Article No. 1161

نرالی تر کیب

کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا ۔تمام رعایا بہت خوش حال تھی ۔اللہ کا دیا ملک میں سب کچھ تھا ،اس کے باوجود ملک میں چور بہت تھے ،جس کی وجہ سے تمام رعایا بہت پریشان تھی ۔

بدھ اگست

nirali tarkeeb

پرو فیسر ڈاکٹر ایف ۔ایچ فاروقی
کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا ۔تمام رعایا بہت خوش حال تھی ۔اللہ کا دیا ملک میں سب کچھ تھا ،اس کے باوجود ملک میں چور بہت تھے ،جس کی وجہ سے تمام رعایا بہت پریشان تھی ۔

بادشاہ نے چوری ختم کرنے کے لئے سخت قانون بنائے اور چوروں کو سخت سزائیں دیں ،مگر بے سود ۔آخر بادشاہ کو ایک تر کیب سو جھی ۔اس نے ہر چوک میں دودو سپاہی کھڑے کر دیے ،جو تما م رات پہر ہ دیتے ۔تمام لوگوں کودس بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پانبدی لگا دی ،مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ پھر بھی اِکا دُکا چوری کی وارداتیں ضرور ہوجاتیں ۔
ایک رات کا ذکر ہے کہ جب چوک پر دو سپاہی ڈیوٹی دے رہے تھے کہ ایک شخص وہاں سے گزرا ۔اس شخص نے بتلا یا کہ ا س کا لڑکا بیمار ہے اور وہ حکیم صاحب سے دوا لینے جا رہا ہے ۔

(جاری ہے)

سپاہیوں نے اس آد می کو چھوڑ دیا کہ بے چارہ مجبور ہے ۔دوسرے دن بادشاہ نے دونوں سپاہیوں کو دربار میں طلب کیا اور کہا :”جب میں نے تمھیں حکم دیا ہے کہ کسی شخص کور ات دس بجے کے بعد نہ چھوڑا جائے تو تم نے اس آدمی کو کیوں چھوڑدیا ،پکڑا کیوں نہیں ؟“دونوں سپاہی اور درباری حیران ہوئے کہ بادشاہ کو کس طرح معلوم ہو گیا کہ انھوں نے ایک شخص کو چھوڑ دیا ہے ۔

بادشاہ نے کہا کہ وہ علمِ نجوم جانتا ہے ۔اس کو تمام چوروں کا بھی علم ہے ،لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمام چور اس بُری عادت کو ترک کر دیں اور حلال روزی کمائیں ۔بادشاہ کی اس پیش کش سے کچھ چوروں نے تو بہ کرلی اور بادشاہ نے شاہی خزانے سے ان کو معقول رقم دے دی ،تا کہ وہ اپنا کوئی کاروبار کرسکیں ،مگر اس کے باوجودچوری کا سلسلہ جاری رہا ۔
دوچار روز کے بعد دو سپاہیوں نے ایک بوڑھی عورت کو پکڑا اور کہا کہ بادشا ہ کا حکم ہے کہ کوئی بھی رات دس بجے کے بعدگھر سے باہرنہ نکلے ۔پھر وہ رات کو کیوں پھر رہی ہے ۔بڑھیا نے کہا کہ اس کی بکری گم ہوگئی ہے ۔اور اس کے بچے بھوکے ہیں ،بچے بکری کا دودھ پی کر سوتے ہیں ۔
میں بکری کو تلاش کر رہی ہوں سپاہیوں نے تر س کھا کر بوڑھی عورت کو چھوڑدیا ۔دوسرے دن بادشاہ نے ان دوسپاہیوں کو دربار میں بلایا اور دریافت کیا کہ انھوں نے گزشتہ رات بوڑھی عورت کو کیوں چھوڑ دیا ۔سپاہی اور تمام درباری بڑے حیران تھے کہ بادشاہ کو ان باتوں کا کس طرح علم ہو جاتا ہے ۔
اب تو ہر شخص کو یقین ہو چکا تھا کہ بادشاہ علمِ نجوم جانتا ہے اور تمام ملک میں یہ بات مشہورہو گئی کہ بادشاہ علمِ نجوم جانتا ہے ۔لہٰذا سپاہی جو پہلے اپنے فرائض ذمے داری سے ادا نہ کرتے تھے ،وہ سب ہو شیار اور چوکس ہوگئے ۔آخر تمام ملک میں امن و سکون ہو گیا ۔
بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ ملک میں جو شخص بھی بے روزگارہے ،اس کو شاہی خزانے سے رقم دی جائے ،تاکہ وہ اپنا کوئی کام کرسکے ۔لوگوں نے اس پیش کش کا فائدہ اُٹھا یا اور چوروں نے چوری کر نا چھوڑدی ۔جب تمام ملک میں چوری کا خاتمہ ہوگیا اورلوگ سکون اور اطمینان سے رہنے لگے تو ایک دن وزیر نے دریافت کیا :”حضور ! جان کی امان پاؤں تو آپ سے ایک عرض کرنا چاہتا ہوں ۔
“بادشاہ نے اجازت دے دی ۔وزیر نے پوچھا :” آپ نے علمِ نجوم کب اور کہاں سے سیکھا ؟“ بادشاہ مسکرایا اور وزیر سے اس بات کا حلف لیا کہ وہ یہ بات کسی کو نہیں بتلائے گا ۔وزیر نے قسم کھائی کہ وہ بادشاہ کا راز کبھی بھی ظاہر نہیں کرے گا ۔
بادشاہ نے بتایا :” میں علمِ نجوم با لکل نہیں جانتا ،اصل بات یہ ہے کہ میں خود بھیس بدل کر شہر کا چکر لگاتا اور رعایا کا حال معلوم کرتا تھا ۔وہ شخص نے دوا لینے کا بہانہ کیا تھا ،وہ میں ہی تھا ۔وہ بوڑھی عورت بھی میں ہی تھا ،تا کہ سپاہیوں کو چوکس رکھ سکوں او روہ اپنی ذمے داری صحیح طور پر انجام دے سکیں ۔“وزیر بادشاہ کی عقل مندی اور نرالی ترکیب پر اَش اَش کرنے لگا ۔

مزید متفرق مضامین

Roshan Ankhain

روشن آنکھیں

Roshan Ankhain

Azee Quaid Rehmat Ullah Alaihi

عظیم قائد رحمتہ اللہ علیہ

Azee Quaid Rehmat Ullah Alaihi

14 August Yome Azadi Ka Din

14اگست یوم آزادی کا دن

14 August Yome Azadi Ka Din

Parosaan Khala

پڑوسن خالہ

Parosaan Khala

Sign Board Ki Kahani

سائن بورڈ کی کہانی

Sign Board Ki Kahani

Sacha Ustaad

سچا استاد

Sacha Ustaad

Khofnaat Jangal

خوفناک جنگل

Khofnaat Jangal

Abbu Ali Ki Topi

ابو علی کی ٹوپی

Abbu Ali Ki Topi

Dobara Milne Wali Degree

دربارہ ملنے والی ڈگری؟

Dobara Milne Wali Degree

Bhooki Billi

بھوکی بلی

Bhooki Billi

Diya Jalaye Rakhna

دیا جلائے رکھنا

Diya Jalaye Rakhna

Ab Pachtawe Kiya Howat

اب پچھتائے کیا ہووت

Ab Pachtawe Kiya Howat

Your Thoughts and Comments