Nonehaloon Main Watan Se Muhabbat Ka Jazba

Nonehaloon Main Watan Se Muhabbat Ka Jazba

نونہالوں میں وطن سے محبت کا جذبہ

قومی تہواروں کے موقع پر بچوں کا جوش و جذبہ قابل دید ہوتا ہے۔یہی جوش وجذبہ 6ستمبر1965ء کوہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران اس وقت کے بچوں میں تھا،گو یہ جذبہ آج کے بچوں میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے

مظہر حسین شیخ:
قومی تہواروں کے موقع پر بچوں کا جوش و جذبہ قابل دید ہوتا ہے۔یہی جوش وجذبہ 6ستمبر1965ء کوہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران اس وقت کے بچوں میں تھا،گو یہ جذبہ آج کے بچوں میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے لیکن اس وقت کے بچے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے 6ستمبر کی جنگ دیکھی ان میں سے اکثر بچوں نے فوج میں جانے کا عہد کیا وہ بچے اپنے نیک مقصد میں کامیاب ہوئے اور وہ آج فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔
ان میں سے کوئی ڈاکٹر ہے،کوئی سائنسدان تو کوئی انجینئر بن کر ملک وقوم کی خدمت کررہا ہے۔آج کے بچے بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو نے کی خواہش رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ نئی نسل تعلیمی میدان میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔
آج کے بچے پاک بھارت جنگ کے واقعات پڑھتے یا سنتے ہیں تو ان کا جوش قابل دید ہوتا ہے ان کی وطن سے محبت اس بات کی گواہ ہے کہ ان کے بس میں ہو تو وہ دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیں اور اپنے پیارے ملک پاکستان کی طرف ہر میلی آنکھ دیکھنے والوں کوعبرت ناک انجام تک پہنچا کر دم لیں۔

(جاری ہے)

مسلمان امن پسند قوم ہے اوریہاں کا بچہ بچہ امن چاہتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ مسلمان قوم اینٹ کا جواب پتھر سے دیناجانتی ہے،تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان نے کبھی چھپ کر وار نہیں کیاکیونکہ بزدل چھپ کر وار کرتے ہیں، جس کا سب سے بڑا ثبوت 6 ستمبر1965ء کو پاک بھارت جنگ ہے۔
5اور6ستمبر کی درمیانی شب کوبھارت نے پاکستان پر اچانک حملہ کر دیاسترہ دن کی اس جنگ میں بھارت بْری طرح ذلیل ورسوا ہوا۔یقیناً آپ اپنی نصابی کتابوں میں اسے تفصیل سے پڑھ چکے ہوں گے۔ہندو ازل سے ہمارا دشمن ہے۔مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی دشمنی کوئی آج سے نہیں بلکہ کئی سال سے ہے، بھارت کا یہی رویہ رہا تو یہ دْشمنی تاقیامت چلتی رہے گی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جنگ وجدل سے مسائل حل نہیں ہو سکتے آخر کار مذاکرات کی میز پرآنا ہی پڑتا ہے۔ پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی شب کو ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں نہ صرف پاک فوج بلکہ پاکستانی قوم کا بچہ بچہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔

ہندو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور اس فکرمیں رہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو کس طرح سے نقصان پہنچائے۔ تحریک پاکستان کے دوران جو ظلم ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پر ڈھائے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہندو مسلمانوں کی الگ اسلامی ریاست کو برداشت نہ کرسکا یہی وجہ تھی کہ پاکستان بننے کے تقریباً ایک سال بعد ہی ستمبر 1948 میں کشمیر پر حملہ کردیاگیا تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جاسکے۔
پاکستان اس وقت ابھی ایک سال کا تھا اس کے پاس جنگی سازو سامان کی انتہائی کمی تھی اور وسائل نہ ہونے کے برابر تھے مگر ہندو اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا بعدازاں پاکستان تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا۔ ہندو بنیا اس ترقی کو برداشت نہ کرسکا لہٰذا اس نے اچانک 5اور6ستمبر1965 کی درمیانی شب کو پاکستان پر حملہ کردیا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان کے پاس اتنی بڑی فوج تھی اور نہ ہی اتنااسلحہ مگر جو قوت و طاقت جوش وجذبہ اس قوم اور فوجی جوانوں میں تھا وہ ہندووٴں میں نہ تھا اورمسلمانوں کے پاس اگر طاقت تھی توایمان،اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ محبت اور یقین کی تھی۔
65ء کی اس جنگ میں قوم کا جذبہ قابل دید تھا پاکستانی طیارے جب بھارتی طیاروں کا پیچھا کرتے تو پاک وطن کے شہری بڑے جوش وجذبے کے ساتھ سڑکوں اور گلیو ں میں نکل آتے اور نعرہ تکبیر بلند کرتے وہ یہ چاہتے تھے کہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ابھی اور اسی وقت بارڈر پر پہنچ جائیں لیکن یہ کام پاک وطن کی بہادر،دلیر اورنڈر فوجی بخوبی سر انجام دے رہے تھے۔
یہاں تک کہ بچے بھی بالکل بے خوف وخطر سڑکوں پر نکل آتے حالانکہ دشمن کی گولا باری کے دوران ان کا سڑکوں پر آنا خطرے سے خالی نہ تھالیکن بچوں میں بھی قومی جذبہ دیکھنے کے قابل تھا۔ بچے ٹولیوں کی صورت میں پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے اور ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اٹھائے دیوانہ وار اِدھر اْدھر بھاگ رہے ہوتے۔
وہ بچے جو اس وقت آٹھ یا دس برس کے ہوں گے آج الحمد للہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ کے ہوچکے ہیں۔ان بچوں میں لا تعداد بچے اسی قومی جوش و جذبے کے تحت فوج میں بھرتی ہوئے۔کوئی ائر فورس میں گیا تو کوئی پاک نیوی میں، کوئی کرنل ہوکر ریٹائر ہوا تو کوئی جنرل۔
آج بھی بچوں کے اندر وہی جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے جب بھی کہیں سے کوئی فوجی گاڑی یا فوجی قافلہ گزرتا ہے بچے انہیں دیکھ کر ہاتھ ہلاتے اور سیلوٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں،ان کے اندر پاک فوج میں جانے کی خواہش مزید اْبھرتی ہے ۔آج بھی قومی تہواروں کے دوران واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب ہوتی ہے تو نعرہ تکبیر اللہ اکبرکی اثر انگیزآواز سے دْشمن کا دل کانپ اْٹھتا ہے۔

اس موقع پر فوجی پریڈکو بچے انتہائی شوق اور جذبے سے دیکھتے ہیں اور پھرکئی بچے اپنے والدین سے کہتے ہیں کہ پاپا میں بھی فوج میں جاؤں گا اور ہندوؤں کو مار بھگاؤں گا۔اکثر بچے اسی شوق اور جذبے کے تحت کیڈٹ سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں تاکہ ان کے جسم پر فوجی وردی ہو۔
بچے سالانہ تقریبات کے دوران ٹیبلو شو پیش کرتے ہیں خاص طور پر جب فوجی وردی پہنتے ہیں تو خود کو فوجی افسر یا جوان سمجھتے ہیں اور بڑے پْر وقار طریقے سے چلتے اور بات چیت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بچو! 6ستمبر کی جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔
بھارت کا خیال تھا کہ پاکستان نیا نیا وجود میں آیا ہے ،اس کے پاس کوئی اسلحہ ہے نہ بڑی فوج، نہ کوئی ٹینک ہیں نہ توپیں نہ طیارے ہیں نہ بحری جہاز، لہٰذا ہم پاکستان فتح کرلیں گے یہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی کیونکہ بھار ت اس وقت بھی ایک بڑی طاقت تھا اور یہی غرو اور گھمنڈ اسے اکسا کر جنگ کی طرف لایااور بھارت نے اس جنگ میں منہ کی کھائی۔
بھارتی جرنیلوں اور سیاستدانوں کا کہنا تھا کہ صبح کا ناشتہ اسمبلی ہال لاہور میں کریں گے یعنی پاکستان کو فتح کرکے پنجاب اسمبلی میں فتح کا جشن منائیں گے لہٰذا بھارت نے یہ سوچتے ہوئے پاکستان پر تین اطراف سے حملہ کرکیا،لیکن جلد ہی ان کا یہ خواب چکنا چور ہو گیاکیونکہ رات کے اندھیرے میں ہمارے فوجی جوان سوئے نہیں جاگ رہے تھے اور پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کررہے تھے۔
اس وقت کے صدرپاکستان جنرل ایوب خان نے بھارتی حملے کے پیش نظر فوری طورپر ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”دس کروڑ پاکستانی شہریوں کیلئے آزمائش کا وقت آن پہنچا ہے تیار ہوجاؤ ضرب لگانے کیلئے ،کاری ضربیں لگانے کیلئے کیونکہ جس بلا نے تمہاری سرحدوں پر اپنا سایہ ڈالا ہے اس کی تباہی یقینی ہے۔
ان الفاظ نے پوری قوم کا لہو گرمادیا اور پھر پہلے ہی روز بھارت کے سینکڑوں سپاہی ہلاک جبکہ درجنوں جہاز تباہ کردئیے گئے۔پاکستان نے اسلحہ اورفوج کی کمی، ٹینک اور توپیں اور نہایت کم تعداد میں جنگی طیارے ہونے کے باوجود بھارتی افواج کو ناکوں چنے چبادئیے۔

Your Thoughts and Comments