Pyaray Nabi Ka Bachpan

پیارے نبیﷺ کا بچپن

اللہ تعالی نے اپنے محبوب آخری نبی حضرت محمدؐ کو ایسی صفات سے نوازا جس کی ازل سے لے کہ ابد تک کوئی نظیر نہیں ملتی، رسول پاکؐ اپنی اعلیٰ صفات و خوبیوں کی بنا پر بچپن ہی سے عرب کے باقی بچوں سے جدا دکھائی دیتے تھے۔

ہفتہ دسمبر

pyaray nabi ka bachpan

عیشتہ الراضیہ

ماہ ربیع اوّل کا چاند نظر آتے ہی گلیوں بازاروں میں رونق اتر آئی ہے۔ ہر سو مسلمان خوشیاں مناتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اس ماہ مبارک میں اللہ پاک نے اپنا آخری نبی بھیج کر نبوت کا سلسلہ حضرت محمدؐ پر ختم کر دیا۔

اللہ تعالی نے اپنے محبوب آخری نبی حضرت محمدؐ کو ایسی صفات سے نوازا جس کی ازل سے لے کہ ابد تک کوئی نظیر نہیں ملتی، رسول پاکؐ اپنی اعلیٰ صفات و خوبیوں کی بنا پر بچپن ہی سے عرب کے باقی بچوں سے جدا دکھائی دیتے تھے۔ آپؐ اپنے بچپن میں باقی بچوں کی طرح کھیل کود میں وقت صرف نہیں کرتے تھے بلکہ چھوٹی عمر سے ہی سنجیدگی و متانت آپؐ کی آنکھوں سے عیاں تھی ۔
لہذا آپ زیادہ وقت غور و فکر میں بسر کرتے اور کائنات کے رموز پر غور فرمایا کرتے، آپؐ کے والد کا انتقال آپؐ کی ولادت سے قبل ہو چکا تھا۔

(جاری ہے)

آپؐ یتیم تھے، باپ کے سائے سے محروم تھے، ابھی اس یتیمی کا شعور ہو رہی تھا کہ ماں بھی داغ مفارقت دے گئیں۔

آپؐ کی والدہ کے انتقال کے بعد دادا عبدالمطلب نے آپؐ کو سینے سے لگا کر پرورش کرنے کا ارادہ باندھ لیا۔ مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آپؐ کی ابھی عمر آٹھ سال ہی تھی کہ دادا چل بسے۔ دادا کا غم ماں باپ سے بھی زیادہ تھا کیونکہ آپؐ جس عمر میں تھے اس میں شعور بیدار ہو رہا تھا۔
جذبات و احساسات میں وسعت آرہی تھی۔ نوازش و پیار کو محسوس کر رہے تھے۔ دادا کی وفات پر دل غم سے چور ہو گیا۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ دادا کی وفات کے بعد آپؐ اپنے چچا ابو طالب کی سرپرستی میں آگئے۔ چچا ابو طالب آپ سے بے مناہ میار کرتے تھے۔
ایک دفعہ آپؐ اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ شام کے تجارتی سفر پر روانہ ہوئے۔ اس وقت آپؐ کی عمر 12 سال تھی۔ شام کی سر زمین پر پہنچ کر وہاں کے ایک مشہور شہر بصریٰ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ بصریٰ میں بحیرہ نامی ایک راغب تھا۔ اس کے گرجا گھر کے پاس ہی ایک سایہ دار جگہ تھی قریشی تاجر جب بھی بصریٰ جاتے وہیں اس درخت کے نیچے ٹھہر جاتے۔
یہ قافلہ بھی اسی جگہ ٹھہرا۔ کوئی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ایک قاصد بحیرا کا پیغام لے کر آیا کہ آپ لوگوں کو بحیرا نے کھانے پر دعوت دی ہے۔ بحیرا نے اس سے قبل ان لوگوں کو کبھی کسی قسم کی دعوت نہیں دی تھی۔ لہذا قافلے کے لوگ حیران ہو گئے۔
ہر حال میں دعوت قبول کر لی گئی اور قاصد کی رہنمائی میں روانہ ہو گئے۔ مگر محمدؐ نہیں گئے، کیونکہ آپؐ اس وقت بچے تھے۔ بحیرا نے سب کا استقبال کیا اور کہا کہ آج آپ سب میرے مہمان ہیں میں چاہتا ہوں کہ تم سب میرے ساتھ کھانا کھاؤ اور کوئی بھی باقی نہ رہ جائے۔
اہل قافلہ بولے کہ ہم سب آگئے ہیں سوائے ایک بچے کے کیونکہ وہ ابھی چھوٹا ہے تو بحیرا نے کہا کہ بچہ ہے تو کیا ہوا اسے بھی بلا لو۔ اس بات پر اہل قافلہ حیران ہوئے۔ پھر قاصد ابو طالب کے ڈیرے پر گیا اور محمدؐ کو ساتھ لے آیا۔ بحیرا کی نظریں رسولؐ پر جمی رہ گئیں، وہ ٹکٹکی لگائے آپؐ کو دیکھتا ہی رہا۔
کھانا کھانے کے بعد لوگ چہل قدمی کرنے لگے اور بحیرا کا گرجا گھر دیکھنے لگے۔ بحیرا آپؐ کے پاس آیا اور بولا:
بیٹے تمھیں لات و عزی کی قسم، جو کچھ پوچھو بتا دینا،
آپؐ نے کہا کہ لات و عزی کی قسم نہ دیجئیے۔
بحیرہ نے کہا اچھا خدا کی قسم جو پوچھوں بتا دینا۔

آپؐ نے کہا کہ پوچھیے کیا پوچھنا ہے؟
پھر اس نے آپؐ کی عادات و اطوار، مصروفیات، رجحان، طبعیت، مزاج کے بارے میں مختلف سوالات کیے۔ آپؐ سب کا جواب دیتے رہے اتنے میں ابو طالب آگئے تو بحیرا نے ان سے کہا کہ بچہ کیا لگتا ہے تمہارا؟ ابو طالب نے کہا کہ ’’بیٹا‘‘ بحیرا بولا یہ کیسے ہو سکتا ہے، یہ تمہارا بیٹا نہیں۔
اس لڑکے کا باپ زندہ ہو، ممکن نہیں ہے۔ راہب کی بات سن کر چچا ابو طالب دنگ رہ گئے۔ ابو طالب نے کہا کہ ہاں یہ میرا بھتیجا ہے۔ بحیرا نے کہا کہ ’’ اور اس کا باپ‘‘ ؟
ابو طالب بولے،

ابھی یہ پیدا نہیں ہوا تھا کہ اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔

بحیرا نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ اپنے بھتیجے کو گھر لے جاؤ اور یہودیوں سے بچا کر رکھنا، خدا کی قسم اگر انہوں نے اسے دیکھ لیا اور جس حد تک میں نے پہچان لیا ہے اگر وہ پہچان گئے تو اس کی جان کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ تمہارا یہ بھتیجا ایک عظیم انسان بنے گا۔

پھر وہ واپس ہو گیا اور زیرلب کہتا جا رہا تھا کہ ’’میرا اندازہ بالکل صحیح نکلا‘‘۔
اسی طرح جب آپؐ اپنی رضائی ماں حضر ت حلیمہ کے گھر رہائش پذیر تھے تو تب بھی بی بی حلیمہ نے آپؐ کو اتنا جان لیا تھا کہ آپ کوئی عام بچے نہیں ہیں کیونکہ جب سے آپؐ بی بی حلیمہ کے پاس آئے، بی بی حلیمہ کے گھر میں موجزات کی برسات ہو گئی۔

رسول پاکؐ تمام بچوں سے مختلف طبیعت کے مالک تھے، آپؐ میں باقی بچوں کی طرح شرارتیں اور شوخیاں نہ تھیں بلکہ آپؐ بچپن ہی سے اسرار کائنات پر غور و فکر کرتے رہتے۔ آپؐ کی دانائی اور دانشوری بچپن ہی سے آپؐ کے آنکھیں سے چھلکتی تھی۔
اگر آپؐ کے نام کو دیکھا جائے تو ان جیسا نام پورے عرب میں کسی کا نہ تھا۔ آپؐ کے دادا کا رکھا یہ تین حروف پر مشتمل نام جو کوئی بھی سنتا حیران ہو جاتا کہ اس سے پہلے اتنا خوبصورت نام کسی نے کبھی نہ سنا تھا۔ آج ہم اپنے بچوں کی تربیت اگر رسولؐ کی شخصیت کو سامنے رکھ کر کریں تو یقیناً ہمارے نو نہال ایک بہترین معاشرہ بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
اسوۂ رسولؐؐ صرف بڑوں کے لئے ہی نمونہ نہیں ہے بلکہ یہ بچوں کے لئے بھی نمونہ ہے کہ ہمیں ان جیسی عادات و اطوار، اپنا کر تمام بڑائیوں سے بچنا ہے۔ اپنے بچوں کا رجحان سیرت طیبہ کی کتابیں پڑھنے کی طر ف بڑھائیںیا کہانی کی صورت میں بچوں کو نبی پاکؐ کی سیرت اس طرح بیان کریں کے
سیرت طیبہ ان کے لئے رول ماڈل بن جائے۔

Your Thoughts and Comments