Sabz Hilali Parcham

Sabz Hilali Parcham

سبز ہلالی پرچم

اس خوب صورت ودل کش پرچم کو جناب محترم اقبال احمد صاحب نے ڈیزائن کیا تھا۔

اُمِ عادل:
قومی پرچم کسی بھی قوم کی شان و شوکت اور اس ملک کی آزادی کی پہچان ہوتا ہے۔ہرآزاد ملک کا کوئی نہ کوئی پرچم ضرور ہوتا ہے۔ پرچم کا رنگ ڈیزائن اور سائز اس قوم کے عزائم واُمنگوں کا ترجمان ہوتا ہے۔
قوموں کے پرچموں سے ان کے نصب العین کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ مثلاََ اسلامی ملک سعودی عرب کے پرچم پر تحریر کلمہ طیبہ اس بات کا اظہار ہے کہ سعودی حکومت کا نصب العین دینِ اسلام اور توحید کی سر بلندی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کا سبز رنگ جہاں مسلمانوں کی اکثریت کا ظاہر کرتا ہے وہیں یہ رنگ ترقی وخوش حالی کی علامت بھی ہے ۔
اس میں موجود سفید رنگ کی پٹی اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس خوب صورت ودل کش پرچم کو جناب محترم اقبال احمد صاحب نے ڈیزائن کیا تھا۔

(جاری ہے)

اس کا رنگ گہرا سبز، شکل مستطیل ہے اور لمبائی چوڑائی 3,2 نسبت سے ہے۔

سبز حصے کے وسط میں پانچ کونے والے سفید ستارے کے ساتھ45 ڈگری زاویے سے چاند دکھایا گیا ہے۔ پرچم پر موجود سفید پٹی پرچم کا چوتھائی حصہ ہے۔ اس پرچم کی تشکیل کے لئے جو کمیٹی بنی اس کے اراکین میں قائداعظم محمد علی جناح، خان لیاقت علی خاں اور سردار عبدالرب نشتر شامل تھے۔
پاکستانی پرچم کایہ پیارا ڈیزائن 11 اگست 1947 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کراچی میں منظور ہوا۔ اس پرچم کو پہلی مرتبہ تیار کرنے کا اعزاز دوبھائیوں ٹیلر ماسٹر الطاف حسین اور افضال حسین کو حاصل ہوا۔ تیاری کے بعد اس ہلالی پرچم کو پہلی بار قیام پاکستان کے اعلان کے بعد14 اگست1947 رات بارہ بج کر ایک منٹ پر لہرایا گیا اور اسے لہرانے کا اعزاز تحریکِ پاکستان کی نامور اور معتبر علمی شخصیت” علامہ شبیر احمد عثمانی“ کو حاصل ہوا۔

اللہ کی خاص رحمت سے یہ ہمیشہ ہواوٴں سے دوش پر لہراتا رہے گا۔ یہ صرف بانیِ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے دستِ راست محترم خان لیاقت علی خاں کی برسی کے موقع 11 ستمبراور 16 اکتوبر کو سرنگِوں رہتا ہے۔ ہمارے شاعروں نے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اس پرچم کی شان میں بہت کچھ لکھا۔
قومی ترانے کے خالق جانب حفیظ جالندھری نے قومی ترانے میں نہایت خوب صورت الفاظ میں پرچم کی شان بیان کی ہے ۔ خدا ہمارے سبز ہلالی پرچم کو تاابدسر بلند اور لہراتا رکھے آمین۔
اپنے پرچم تلے ہر سپاہی چلے
جیسے تاروں کے جُھر مت میں چنداچلے
اپنے پیارے وطن کو سجائیں گے ہم
ذرّے ذرّے کو سورج بنائیں گئے ہم
کوئی دشمن جو روکے ہمارے قدم
ساری دنیا کا تختہ اُلٹ دیں گے ہم
اپنے پرچم تلے ہر سپاہی چلے
جیسے تاروں کے جھرمٹ میں چنداچلے

Your Thoughts and Comments