MENU Open Sub Menu

Dolat mand ghareeb

Dolat Mand Ghareeb

دولت مند غریب

اپنی بڑی سی گاڑی میں بیٹھے سیٹھ فرید پلیٹ بھر کر سیخ کباب اور شامی کباب گرم روٹی سے کھارہے تھے ان کا بیٹا شہزاد کا ہم عمر ہوگا ملائی بوٹی سے لطف اندوز ہورہا تھا وہ اکثر اس ہوٹل پر آتے تھے شہزاد اس ہوٹل کے بیرونی حصے میں ویٹر کی نوکری کرتا تھا

انوارآس محمد
کباب کی خوشبو شہزاد کی بھوک میں اضافہ کررہی تھی لیکن وہ صرف حسرت سے لوگوں کباب کھاتا دیکھ سکتا تھا اپنی بڑی سی گاڑی میں بیٹھے سیٹھ فرید پلیٹ بھر کر سیخ کباب اور شامی کباب گرم روٹی سے کھارہے تھے ان کا بیٹا شہزاد کا ہم عمر ہوگا ملائی بوٹی سے لطف اندوز ہورہا تھا وہ اکثر اس ہوٹل پر آتے تھے شہزاد اس ہوٹل کے بیرونی حصے میں ویٹر کی نوکری کرتا تھا اس کا کام ہوٹل کے سامنے کھڑی گاڑیوں میں آئے ہوئے لوگوں سے آرڈر لینا اور ان کو کھانا فراہم کرنا تھا شہزاد کا دنیا میں اپنے غریب چچا کے سوا کوئی نہ تھا جن کے ساتھ وہ رہتا تھا۔

ابھی اسے ہوٹل میں کام کرتے ہوئے چند مہینے ہی ہوئے تھے اسے معمولی کی تنخواہ ملتی تھی جس سے جیسے تیسے گزارہ ہورہا تھا جس ہوٹل میں وہ کام کرتا تھا وہاں کا کھانا بہت مہنگا تھا شہزاد وہ کھانا خرید کر تو ہرگز نہیں کھاسکتا تھا البتہ کبھی کبھی ہوٹل کے مالک خوش ہوتے تھے تو تمام نوکروں کو کھانا کھلا دیتے تھے لیکن ایسا بھی مہینے میں ایک آدھ بارہی ہوا کرتا تھا،شہزاد کی خواہش تھی کہ وہ بھی امیر ہواور کھانا خرید کر کھائے کوئی ویٹر اس کو بھی بڑے ادب سے کھانا پیش کرے اس کا حکم مانے لیکن اس کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آرہی تھی وہ احساس کمتری کا شکار ہوتا جارہا تھا سیٹھ فرید کو حسرت سے دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ یہ کتنے خوش نصیب ہیں اور میں کتنا بدنصیب ہوں وہ ایسا سوچ کر اُداس ہوجاتا تھااس کے چچا اکثر کہا کرتے تھے کہ اُداس نہ ہوا کرو دنیا میں ہر انسان کی زندگی مختلف ہوتی ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس مصلحت کی وجہ سے کس انسان کو کیسی زندگی عطا کی ہے ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

وہ پوچھتا،لیکن چاچا ہم ہی غریب کیوں ہیں؟چچا سمجھاتے بیٹا دنیا میں صرف ہم ہی نہیں لاکھوں لوگ غریب ہے امیر لوگوں کے اپنے مسائل ہوتے ہیں اور غریبوں کے اپنے اللہ سب کو آزماتا ہے دنیا میں کس کو ہمیشہ رہنا ہے بھلا کام یاب وہ ہے جو اللہ کی رضا میں راضی رہے شہزاد اکثر چچا سے بحث کرتا اور کبھی کبھی اسے چاچا کی باتوں سے سکون بھی مل جاتا لیکن چند دنوں کے بعد وہ سب باتیں بھول کر پھر سے اداس ہوجاتا تھا،اس دن بھی شہزاد بہت اداسی سے لوگوں کو کھانا کھاتے دیکھ رہا تھا بارش کا موسم تھا لوگ تفریح کررہے تھے اور ہجوم بھی بہت زیادہ تھا سیٹھ فرید کی گاڑی آکر رکی دل ہی دل میں ان کی قسمت پر رشک کرکے اُداس ہونے لگا بوجھل قدموں سے وہ سیٹھ صاحب کی گاڑی کے پاس کھانے کا آرڈر لینے گیا،جی صاحب کیا کھانا پسند کریں گے؟شہزاد نے پوچھا سیٹھ صاحب کے چہرے پر اُداسی سی پھیل گئی بیٹا آئسکریم لادو شہزاد حیران ہوا کیوں کہ سیٹھ فرید جب بھی آتے تھے کچھ نہ کچھ ضرور کھاتے تھے آج ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ صرف آئسکریم کی فرمائش کررہے تھے اسی دوران ہوٹل کے مالک جو کہ سیٹھ فرید کے دوست تھے وہ بھی وہاں پہنچ گئے اور کہا فرید صاحب آج صرف آئسکریم سے پیٹ بھریں گے کیا؟سیٹھ فرید کی اُداسی میں مزید اضافہ ہوگیا اور گویا ہوئے بس بہت کھاپی لیا اب تو ہم صرف آئس کریم ہی کھاسکتے ہیں وہ کیوں خیریت قمر صاحب نے حیرت سے پوچھا کیا بتاﺅں قمر صاحب؟قمر صاحب نے حیرت سے پوچھا کیا بتاﺅں قمر صاحب مجھے گلے کا کینسر ہے فی الحال میں آئس کریم کے علاوہ کچھ نہیں کھاسکتا ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا ہے سیٹھ فرید آہستہ آہستہ بول رہے تھے شاید ان کے گلے میں درد ہورہا تھا،شہزاد نے آنکھیں پھاڑ کر حیرت سے سیٹھ فرید کی بات سنی اور آئس کریم لینے چل پڑا سیٹھ فرید اپنا حال بیان کررہے تھے اور شہزاد کے ذہن میں چچا کی باتیں گونج رہی تھی کہ اللہ سب کو آزماتا ہے شہزاد کے پاس دنیا کی سب سے بڑی دولت صحت تھی اچانک اسے لگا کہ وہ سیٹھ فرید سے بھی زیادہ امیر ہوگیا ہے۔

Your Thoughts and Comments