نافرمانی کی سزا!

نافرمانی کی سزا!

بدھ مئی

نافرمانی کی سزا!

فضلو ایک غریب لکڑ ہا را تھا سارا دن لکڑیاں کاٹ کاٹ کر مشکل سے ایک آدھ روپیہ کماتا مگر اس کی بیوی نصیبن بہت فضول خرچ، نافرمان، ضدی اور بدزبان تھی اس لیے ان کا گزارہ مشکل سے ہوتا تھا ۔ نصیبن ہمیشہ فضلو سے لڑتی جھگڑتی رہتی، ذرا ذرا اسی بات پر اسے ڈانتی اور تقریباََ ہر وقت شوروغل سے گھر سر پر اٹھائے رکھتی، ہمسائے اس سے تنگ اور محلے والے اس سے بیزار تھے، اس کی زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔

خاوند کی ہر بات سے انکار کرنا اس کی عادت داخل ہو چکا تھا، جب کبھی وہ کوئی بات کہتا تو وہ ہمیشہ اس کا الٹ کرتی، اگر وہ روٹی مانگتا تو وہ اسے روٹی نہ دیتی، ہاں اگر وہ کہتا کہ مجھے بھوک نہیں اور میں روٹی نہیں کھاو¿ں گا، تو اسے زبردستی روٹی کھلاتی ۔لہٰذا اسے جس چیز کی خواہش ہوتی وہ ہمیشہ اس سے الٹ کہتا تب کہیں جا کر اسے وہ شے ملتی، چنانچہ فضلو اس سے بہت تنگ آچکا تھا۔

(جاری ہے)

آخر کار اسے ایک بات سوجھ ہی گئی اور اسے کہنے لگا، دیکھو بیوی ہم باہر کبھی نہیں جائیں گے کیونکہ جو آرام گھر میں ہے وہ باہر نہیں مل سکتا۔ یہ سن کر وہ ضدی عورت باہر جانے کے لیے تیار ہو گئی اور وہ دونوں باہر چل پڑے۔ راستے میں ایک تالاب پڑتا تھا۔فضلو تالاب دیکھ کر کہنے لگا ” ہم اس وقت بالکل نہیں نہائیں گے ۔“ نصیبن ایک دم نہانے کو تیار ہو گئی۔

جب وہ تالاب میں اتری تو فضلو نے آواز دی۔”بیوی آگے مت جانا، پانی گہرا ہے ڈوب جاو¿ گئی، مگر نصیبن اپنی ضد پر اڑی رہی، وہ جونہی آگے بڑھی، گہرے پانی میں غوطے کھانے لگی اور ڈوب گئی!
پیارے بچو! بے جاضد کرنا ٹھیک نہیں ۔ اس سے انسان نقصان اٹھاتا ہے۔
دیکھا ہم نے آپ کو کسی خوب صورت اور سبق آموز کہانی سنائی ہے چونکہ یہ کہانی بچوں کے لیے ہے لہٰذا ممکن ہے کہ بڑوں کو اس کی سمجھ نہ آئی ہو، چنانچہ ہم اس کی تھوڑی سی تشریح کئے دیتے ہیں۔

اس کہانی میں دو کردار ہیں ایک ظام ہے ، ایک مظلوم ہے۔ ظالم نصیبن ہے، جسے اس کا خاوند گھر کے خرچ کے لیے روزانہ مبلغ ایک روپیہ دیتا تھا۔ جو یہ فضول خرچ عورت اللوںتللوں میں اڑا دیتی تھی یعنی اس ایک روپے میں روٹی کپڑے اور لتے کے بعد جو رقم بچتی تھی وہ اس سے بے جاشاپنگ کرتی تھی، آئس کریم کھاتی تھی اور گھر پر پارٹیاں وغیرہ دیتی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہر وقت دولت میں کھیلتے رہنے کی وجہ سے اس کا مزاج بھی بگڑ گیا تھا اور وہ انتہائی ضدی بھی بن گئی تھی۔

یہ تو ہوا کہانی کا ظالم کردار۔۔۔ کہانی کا مظلوم کردار بیچارہ فضلو ہے۔ جو ایک روز اس ظالم عورت کی فضول خرچی اور نافرمانی کی وجہ سے اسے ہلاک کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ حالانکہ کہانی کے مطابق وہ اسے یہ کہہ کر بھی راہ راست پر لا سکتا تھا کہ ” دیکھو بیوی“ آئندہ تم کفایت شعاری سے کام نہیں لو گی اور میرا کوئی حکم نہیں مانو گی “ مگر یہ مظلوم اسے بہلا پھسلا کر تالاب پر لے جاتاہے جہاں وہ گہرے پانی میں غوطے کھانے لگتی ہے اور حتیٰ کہ اس میں ڈوب جاتی ہے جس پر یہ مظلوم سکھ کا سانس لیتا ہے۔

اس فضول خرچ اور نافرمان عورت کی لاش دو تین دنوں بعد تالاب سے برآمد ہو ئی ہو گئی اور گاو¿ں کی دوری فضول خرچ اور نافرمان عورتوں نے اس کے انجام سے عبرت پکڑی ہوگی اور اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ بے جا ضد کرنا ٹھیک نہیں اس سے انسان نقصان اٹھاتا ہے۔
مگر اس کہانی سے کچھ نتیجے اس کے علاوہ بھی نکلتے ہیں مثلاََ یہ کہ نافرمانوں کو قتل کرنا ہو تو اس طرح کرو کہ جس طرح کہانی میں بتایا گیا ہے یعنی
دامن پر کوئی چھینٹ نہ خجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
چنانچہ فضلو کی جگہ کوئی اور ہوتا تو سارے شہر میں اس کے ظلم کی ڈھنڈ یاپٹ جاتی، مگر یہ اس کے صبر ، شرافت اور پلاننگ کا نتیجہ تھا کہ اس نے راستے کے پتھر کو بھی ہٹا دیا اور اس کی نیک نامی پر کوئی حرف بھی نہیں آیا۔

اس کہانی میں ایک سبق اور بھی پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ اگر کم آمدنی یا زیادہ آمدنی کی وجہ سے انتشار کا شکار ہو جائیں تو نظام زرکے درپے ہو جانے کی بجائے ہمیں ایک دوسرے کے درپے ہونا چاہیے۔ کبھی زبان کے مسئلے پر ایک دوسرے کی گردن کاٹنی چاہیے ،کبھی شیعہ ، سنی اور دیوبندی ، بریلوی کا جھگڑا کھڑا ہو نا چاہیے، کبھی نہری پانی کے مسئلے پر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہونا چاہیے اور کبھی ملک توڑ دینے کی باتیں کرنا چاہئیں۔

کیونکہ نظام زرکا خاتمہ مشکل کام ہے ۔ جب کہ ایک دوسرے کا خاتمہ بہت آسان ہے چنانچہ مسئلے کا فوری حل ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں اس طریقہ کار کو خاصی مقبولیت بھی حاصل ہے۔!
تاہم یہ کہانی جو ہمارے اور آپ کے لیے سبق آموز ہے دنیا کی سپر پاورز کے لیے ایک گائیڈ لائن کی حیثیت بھی رکھتی ہے بلکہ ہمیں یقین ہے کہ انہوں نے بہت عرصہ پہلے سے یہ کہانی پڑھ رکھی ہے اور اس میں ضمیر گائیڈلائن پر پہلے ہی سے عمل کر رہے ہیں۔

گائیڈ لائن یہ ہے کہ جس نافرمان قوم کو مارنا ہو ، اسے اس کے ہاتھوں سے مارو، اگرچہ کبھی کبھار بجرواکڑ افغانستان، چیکو سلواکیہ اور گرنیڈا ور گرنیڈا وغیرہ پر خود بھی چڑھ دوڑنا پڑتا ہے ۔ مگر اصولی طور پر ہونا یہی چاہیے کہ جس قوم کو قتل کرنا مقصود ہو پہلے اسے اس کے گھر سے اتنا بیزار کر دو کہ اسے درودیوار تک سے نفرت ہو جائے اور مکین ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار بھی نہ رہیں۔

اس کے بعد اسے موت کے تالاب پر لے جاو¿ اور پھر اس کے غوطے کھانے اور ڈوبنے کا منظر پوری دلجمعی سے دیکھو۔۔۔ اس عمل کے نتیجے میں ظالم کہلانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ الٹا سپر پاورز نہ صرف یہ کہ خود مہذب کہلاتی ہیں بلکہ دوسری قوموں میں بھی تہذیب کے سرٹیفکیٹ بانٹتی ہیں۔ فضلو چھوٹی عقل کا آدمی تھا، سپر پاورز بڑی عقل کی حامل ہوتی ہیں۔ چنانچہ فضلو نے چھوٹی سطح پر نافرمان کو اس کی ضد کی سزا دی۔ سپرپاورز بڑی سطح پر نافرمانوں کو ان کی ضد کی اسی طرح سزا دیتی آرہی ہے۔
پیارے بچو! بے جاضد کرنا ٹھیک نہیں، اس سے انسان نقصان اٹھاتا ہے۔

Your Thoughts and Comments