Aik Africi Dost K Naam

ایک افریقی دوست کے نام

بدھ نومبر

Aik Africi Dost K Naam
 اعتبار ساجد
مائی ڈئیروکٹر لمباسہ دنداسہ!
امید ہے تم اپنے ملک پہنچ کر حسب سابق پٹرول پمپ پر ملازمت کررہے ہوگے،اور گردغبار میں اٹی ہوئی گاڑیوں میں پٹرول بھرنے کا پرانا فریضہ مستعدی سے انجام دے رہے ہو گے۔شاید تمہیں افریقہ کے اس دور افتادہ علاقے کے پٹرول پمپ پر یا اپنے کمرے میں جا کر کبھی یادنہ آئے کہ کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا۔مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا۔

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ،ایسا لگتا ہے کہ جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو کہ تم مال پر ایک ریڑھی والے سے چڑیا گھر کا پتہ پوچھ رہے تھے اور وہ ہکا بکا تمہارا منہ تک رہا تھا اور غالباً دل ہی دل میں کہہ رہا تھا یا الٰہی!بھیج کوئی ترجمان جواس افریقی سے چھرائے جان۔کہ اللہ نے اس کی سن لی اور میں وہاں پہنچ گیا۔تم نے ایکسکیو زمی کہہ کر صرف حرف مدعا بیان کیا۔

(جاری ہے)

سچ یہ ہے کہ تمہاری جناتی شکل دیکھ کر ایک دفعہ تو میراجی چاہا کہ گونگا بن جاؤں اور آں اوں کرتا ہوا آگے نکل جاؤں۔لیکن ایک تو تم غیر ملکی تھے۔پھر میرے ملک میں تھے اور پھر میرے شہر میں تھے۔لہٰذا میں نے تمہیں پتہ سمجھانا اپنا فرض سمجھا۔کیونکہ میں ایک ذمہ دار شہری ہوں۔یہ الگ بات ہے کہ جو خوشی گوری ممیوں کو پتہ سمجھاتے ہوئے حاصل ہوتی ہے۔

وہ پسینے میں شرابور ایک افریقی سے قطعاً حاصل نہیں ہوتی۔البتہ میں نے تم سے پوچھ ضرور لیا۔”آخر تم چڑیا گھر کیوں جانا چاہتے ہو ۔میرے شہرمیں تو دیکھنے کی اور بھی بہت سی جگہیں اور چیزیں ہیں۔“
”مثلاً؟“تم نے بھوئیں اچکا کر انگریزوں کے انداز میں پوچھا۔
”مثلاً پھجے کے پائے ،بھاٹی کی حلیم،لکشمی کا ہانڈی گوشت ،لاہور کے تانگے۔قدیم عمارتیں اور ان کی خستہ حالی ۔

دیواروں پر عاملوں کاملوں نجومیوں اور کھوئی ہوئی طاقت بحال کروانے کی خوشخبریاں۔ الغرض:
کہاں تک سنو گے کہا تک سناؤں
ہزاروں جگہیں ہیں میں کیا کیا بتاؤں
تم نے فوری طور پر فرمائش کی کہ بندر،لنگور ،ریچھ اور طوطے چڑیاں توتم بعد میں دیکھ لو گے سب سے پہلے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس اور اچھی سی چائے پینا چاہتے ہو۔“
اگر تمہاری جگہ کوئی یورپین بنجارن بات کرتی تومیں خدمت خلق کے جذبے سے سر شار ہو کر سیدھا اسے شیزان فلیٹیزیاپرل کان لے جاتا۔

لیکن تمہارے لئے ٹی ہاؤس بھی مجھے مہنگا لگا۔لیکن مہمان نوازی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔چنانچہ میں تمہیں ٹی ہاؤس لے گیا۔وہاں اس روز کوئی تنقیدی اجلاس تھا،لہٰذا معمول سے زیادہ گہما گہمی نظر آرہی تھی ۔تم نے اس بھیڑ بھاڑ اور دھواں دھار فضا میں داخل ہونے میں ہچکچاہٹ محسوس کی۔
میں نے تم پر واضح کر دیاکہ یہ کوئی پب بار یا کیسنو نہیں ہے۔شہر کے دانشوروں کے اکٹھا ہونے کی مرکزی جگہ ہے اور یہاں دانشور انہ رموزونکات کے علاوہ چائے وغیرہ بھی مل جاتی ہے ۔

البتہ چونکہ میری جان پہچان کے سبھی لوگ دانشورلوگ ہیں ،لہٰذا وہ میرے ہمراہ پٹرول پمپ پر کام کرنے والے ایک عام افریقی سیاح کو اس وقت تک درخور اعتناء نہیں سمجھیں گے،تاوقتیکہ انہیں یقین نہ ہو جائے کہ نو وارداجنبی مہمان بھی دانشور ہے۔لہٰذا اندر داخل ہونے سے پہلے پسینہ پونچھوہوش وحواس اور خود کوفی الفوردانشور سمجھو۔“
تم نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں اور بھاگنے کا انداز اپنانا چاہا۔

لیکن شیشے کے پار اندر بیٹھے ہوئے احباب ہمیں دیکھ چکے تھے اور اب تمہارا بھاگ نکلنا میرے لئے پریشان کن سوالات کی بوچھاڑ کا باعث بن سکتا تھا۔لہٰذامیں نے تمہارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور تم پر تمہاری زندگی کا سب سے حیران کن انکشاف کیا۔”تم افریقی جدوجہد آزادی کے سر گرم کارکن ہو اور تمہاری نظموں کا مجموعہ دنیا کی سات زبانوں میں چھپ چکا ہے۔


اس انکشاف پر تم نے ایک جھٹکے سے (افریقی جھٹکے سے)اپنا ہاتھ چھڑالیا اور ”اوہ گاڈ․․․․مائی گاڈ“کرتے ہوئے بھاگے۔میں نے لپک کر دوستانہ انداز میں تمہارا راستہ روک لیا۔اورتم سے لجاجت آمیز لہجے میں کہا”مائی ڈئیر وکٹر لمباسہ۔اب تم وکٹر لمباسہ نہیں رہے۔میں نے تمہارے ساتھ ایک تخلص لگا دیا ہے۔اب تم وکٹر لمباسہ دنداسہ ہو۔اس پروموشن پر مبارکباد قبول کرو۔

اور اندر چل کر میرے شہرکے دانشوروں سے ملو۔تمہاری روح خوش ہو جائے گی اور چائے کی ایک نہیں کئی پیالیاں تمہاری نذر کی جائیں گی۔اگر کچن میں شامی کباب یا چانپیں تیار ہو چکی ہوں گی تو وہ بھی بونس کے طور پر تمہاری لذت کام ددہن میں اضافہ کریں گی۔“
چانپوں اور کبابوں کا ذکر سن کر تمہارے چہرے سے حیرت گئی اور مسرت آگئی۔بالآخر مائی ڈئیر۔تم میرے ساتھ بطور افریقی شاعر اور دانشور اندر جانے پر بخوشی تیار ہو گئے۔

البتہ تم نے اندر قدم رکھنے سے پہلے میرے کان میں کہا۔”چانپ اور کباب․․․․․انڈر سٹینڈ۔؟“
اندر پہنچ کر جب میں نے تمہیں دانشوروں سے ملایا تو اردگرد کی تمام میزوں پر بحث میں مصروف لوگ بھی ہماری میز کے گرد اپنی کرسیاں کھینچ لائے ۔اس سے پہلے کہ تم اس بھیڑ سے گھبرا کرراہ فرار اختیار کرتے میں نے فوراً چانپ اینڈ کباب انڈر سٹینڈ کروادیا۔

تمہاری جان میں جان آئی۔جب تم چانپیں بھنبھوڑ رہے تھے۔تو دانشوروں کے سوالات تمہیں جھنجھوڑرہے تھے۔
ایک ادیب نے پوچھا۔”افریقی جدوجہد آزادی میں آپ کا کیا رول ہے؟“
تم نے ایک چانپ بھنبھوڑتے ہوئے میری طرف دیکھا۔میں نے منہ پھیر لیا۔ظاہر ہے اتنے آدمیوں کی موجودگی میں․․․․․․کیا کہنا چاہیے۔ایسے موقعوں پر نظر چرانا یا منہ پھیر لینا بے حد مفید ثابت ہوتاہے ۔

مگر ان صاحب نے پیچھا نہیں چھوڑا۔اپنا سوال دوبارہ سہ بارہ دہرایا۔تن آکر تم نے ٹشو پیپر سے اپنے ہونٹ پونچھے اور منہ چلاتے ہوئے کہا”غوں۔اوں۔غاں۔چانپیں بہت مزیدار تھیں۔ایک پلیٹ اور․․․․“
”تم سے پوچھا گیا۔“کیا آپ کبھی جیل بھی گئے ہیں؟
”تم نے بے دھڑک جواب دیا۔”کئی مرتبہ۔“
”کس لئے؟“ایک خشک مزاج ادیب نے پوچھا۔
تم نے نہایت صاف گوئی سے کام لے کر کہا۔

”تین مرتبہ تو پڑوسیوں سے مارپیٹ کی وجہ سے جیل گیا۔دومرتبہ نائٹ کلب میں پھڈا کی۔شاید تین چار مرتبہ اور بھی گیا۔وجوہات اچھی طرح یاد نہیں۔غالباً لڑکیوں کا کوئی چکر تھا۔“
ایک لمحے کے لئے دانشوروں کو سانپ سونگ گیا۔آخر ایک سٹریل مزاج شاعر نے پوچھا”آپ کی کتاب دنیا کی کن کن زبانوں میں چھپی ہے اور وہ کہاں سے دستیاب ہوسکتی ہے؟“
اس پر تم نے کانٹے سے پلیٹ بجا کر مجھے متوجہ کیا اورکہا”بڑے افسوس کی بات ہے ۔

اب تک چانپیں نہیں آئیں۔کیا یہاں بیرے بھی دانشور ہیں؟‘
”ایک بیرے نے بگڑکر کہا۔”آپ کو کوئی اعتراض ہے؟“
تم فوراً سنبھل کر مسکرائے۔بولے”اعتراض تو کوئی نہیں،البتہ بھوک سخت لگی ہوئی ہے۔براہ کرم چانپیں جلد تیار کروائیے۔اور فوراً لائیے۔“
ایک منحنی سے مدقوق صورت ادیب جو ہمیشہ غیر ملکی ادیبوں کی نایاب کتب کے مطالعے کارعب جھاڑ کر دوسروں کو اپنی علمی برتری کے زیر اثر رکھنے کے شوقین ہیں۔

ذرا قریب آئے۔کھنکھار کر گلا صاف کیا۔باریک سی آواز میں بولے۔
”وکٹر لمبا سہ دنداسہ صاحب۔آپ نے ”سلاخوں پر زنگ میں جس جیل کا نقشہ کھینچا ہے کیا وہ تخیلی ہے یا اس کا کوئی حقیقی وجود ہے۔“
”تم نے کہا۔”زیادہ تر افریقی جیلوں کی سلاخیں زنگ آلود ہیں۔ آپ کس جیل میں گئے تھے؟“
اس پر وہ مدقوق سے ادیب جھنجھلا کر پیچھے سرک گئے۔سرگوشی میں بولے۔

بڑا بدلحاظ شاعر ہے۔“
”آج کل کیا لکھ رہے ہیں۔؟“ایک نوجوان نے پوچھا۔
”تم نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔میں نے فوراً منہ پھیر لیا۔دوبارہ جب تم سے یہی سوال کیا گیا تو تم نے ترت جواب دیا۔”ابھی تک تو مجھے پٹرول پمپ کی ملازمت کے علاوہ دوسری کوئی ملازت مل نہیں سکتی۔ممکن ہے آئندہ چند ماہ میں ڈرائیونگ لائسنس مل جائے۔پھر کرائے پر ٹیکسی لے کر چلایا کروں گا۔


میں نے کھنکھار کر کہا۔”اوں ․․․ہوں ․․․․اوں ۔ہوں۔“
نوجوان افسوس کرتے ہوئے بولا۔”ان کاموں میں تو لکھنے پڑھنے کی فرصت آپ کو نہیں مل سکے گی۔“
”تم نے خالصتاً یورپین انداز میں اپنے شانے اچکائے اور پلٹ بجا کر اپنی اونچی آواز میں کہا۔”ایک پلیٹ چانپ۔“
میں محسوس کررہاتھا ۔کہ کسی بھی وقت تمہاری افریقی جدوجہد آزادی کا دانشور ہونے کا بھانڈا پھوٹ سکتا ہے۔

لہٰذا قبل اس کے کہ چانپ کی دوسری پلیٹ(غالباً تیسری)ہماری میز پر پہنچے ۔میں حاضرین سے معذرت کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور تمہارا بازو پکڑ کر تمہیں یاد دلایا۔”وکٹر لمباسہ دنداسہ ۔خدا کے لئے یہ مت فراموش کروکہ پرل کان کے ڈنر میں اطالوی دانشور تمہارے علاوہ میرے بھی منتظر ہیں۔“
تم فوراً اٹھ کھڑے ہوئے ۔باہر آتے ہی تم نے فوراً مجھ سے پوچھا۔

”پرل کان کے ڈنر میں مجھ سے اس قسم کے پریشان کن سوالات تو نہیں کیے جائیں گے۔“
میں نے مصافحہ کرتے ہوئے تمہیں یقین دلایا تھاکہ پرل کان چڑیا گھر کے قریب ہے اور اگر تم پرل کان جاؤ گے توتم سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا،البتہ جو ڈنر تم نوش کروگے ،اس کا بل بہر حال تمہاری توقع سے زیادہ ہو گا اور یہ تمہیں خود ادا کرنا پڑے گا۔کوئی اطالوی دانشوریہ خدمت سر انجام نہیں دے سکے گا۔

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اب ہمارے شہر کے چڑیا گھر کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے چڑیا گھر کی سیر کا ارادہ ملتوی کرو۔کل صبح جا کر ریچھوں اور دریائی گھوڑوں وغیرہ سے مل لینا اور میرا سلام کہنا۔امید ہے وہ تم سے میرے بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے۔
مجھے نہیں معلوم کہ تم نے میرے مطلوبہ جانوروں تک میرا سلام پہنچایا کہ نہیں ،البتہ جب میں نے تم سے رخصتی مصافحہ کرنا چاہا تو تم نے میری رفاقت کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے بڑ بڑاتے ہوئے کہا تھا۔”چانپ اینڈ چانپ۔“بہر حال جو چند لمحے تمہاری رفاقت میں گزرے،ان کے بارے میں ہمارے ایک شاعر نے اس طرح کی بات کی ہے۔“
گزاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں
انہی کی یاد میری زندگی ہے
تمہارے لئے نیک تمناؤں کے ساتھ۔
تمہارا (مسواک)

Your Thoughts and Comments