Allah Muaffi

اللہ معافی

عطاالحق قاسمی منگل اگست

Allah Muaffi
اللہ معافی‘کیا زمانہ آگیا ہے ابھی کل کی بات ہے ہم شام کو یونیورسٹی کمیپس کی طرف سے نکلے تو طلبہ وطالبات کے جھنڈ کے جھنڈ ایک سڑک پر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آتے جاتے تھے جس طرح مری کی مال روڈ پر چند منٹوں کے بعد چہرےREPEATہونا شرو ع ہو جاتے ہیں۔اسی طرح اس چھوٹی سی سڑک پر بھی بار بار وہی چہرے دکھائی دیتے تھے جو چند منٹ پہلے دکھائی دیتے تھے اور ہر بار فقرے اچھا لتے ہوئے گزرتے چلے جاتے تھے۔

تقریباً آدھ گھنٹے تک اسی سڑک پر چہل قدمی کرنے کے بعد ہم متجسس ہوئے کہ معاملہ کیا ہے‘چنانچہ ایک مرد نوجوان سے کہ اس نے مونچھیں پالی ہوئی تھیں اور چادر کی بکل ماری ہوئی تھی۔ماجرا پوچھا۔اس مرد قوی ہیکل نے مونچھیں مروڑتے ہوئے بتایا کہ اس چھوٹی سی سڑک پر تین گر لز ہاسٹل ہیں تو یہ نوجوانان قوم یہاں کیا کررہے ہیں ۔

(جاری ہے)


یہ سن کر اس مرد گستاخ نے ایک نظر ہماری طرف دیکھا اور کہا پہلے یہ بتاؤ تم یہاں کیا کررہے ہو؟ہم نے نا پسند کیا اس سوال کو اور کہا ہم تمہارے اس سوال سے ناخوش ہیں۔

تم نوجوانوں کی آنکھوں میں حیانہیں رہی۔چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں رہی‘مگر خیر!یہ بتاؤ یہ لڑکیاں تم نوجوانوں کی فقرے بازیوں کا برا نہیں مانتیں۔یہ سن کر اس بے حیا نے تبسم کیا اور کہا پتہ نہیں‘لیکن ہم تو ان کے فقرے بڑے تحمل سے سہتے ہیں! سواس نا نہجار کی گفتگو سے ہم پر یہ بھید کھلا کر پانی سر سے گزر چکا ہے اور اس شخص سے افہام وتفہیم کی کوئی گنجائش نہیں!
تھوڑی دیر بعد اس سڑک پر ایک نوجوان ہمیں مل گیا کہ شکل وصورت سے نیک لگتا تھا‘اس مجمع میں آنکھیں جھکا کر چلتا تھا سوجس سے ٹکرانا ہوتا اس سے جا ٹکرا تا۔

ہم تھے کہ محض قوم کی زبوں حالی دیکھنے کے لئے اس سڑک پر بادل نخواستہ چہل قدمی کر رہے تھے اپنے ایسے شریف انسان کو دیکھ کر خوش ہوئے اسے روک کر گلے سے لگایا‘اس کی بلائیں لیں اور پوچھا۔اے عزیز!تم یہاں کیا کررہے ہو؟اس بر خور دار نے نظریں زمین میں گاڑے ہوئے کہا۔میں روزانہ شام کو اس طرف آنکلتا ہوں اور پھر واپس ہاسٹل پہنچ کر خون کے آنسو روتا ہوں۔

ہم نے پوچھا”اے جان حیا تم کون سے ہاسٹل جاتے ہو؟“اس نے اسی طرح نظریں زمین میں گاڑے ہوئے روہا نسا ہو کر جواب دیا۔”جناب اپنے ہی ہاسٹل جاتا ہوں جو لڑکیوں کے ہاسٹل کے قریب ہی ہے جناب!میں اس صورت حال سے بہت پریشان ہوں اور اس کے تمام پہلوؤں کا بغور مطالعہ کرتا رہتا ہوں میں نے ایک دور بین خریدی ہوئی ہے ۔آپ بھی مجھے اہل دل لگتے ہیں کبھی وقت ملے تو میرے ہاسٹل میں تشریف لائیں!“ہم نے اس نوجوان کو تھپکی دی اور دعائیں دے کر رخصت کرتے ہوئے کہا”اے عزیز!ہم تمہاری طرف ضرور آئیں گے‘تم نے اگر اپنی دور بین کسی اور اہل دل کو مستعاری دی ہوتو اس سے واپس لے رکھنا!“
قریب تھا کہ ہم اس صورت حال سے دل برداشتہ ہو کر واپس لوٹتے کہ ناگاہ ہماری نظر ایک پرانے شنا سا پر پڑی کہ چودہ برس پیشتر اورینٹل کالج میں وہ ہمارے ساتھ ایم اے اردو کا طالب علم تھا ہم نے بڑھ کر اسے گلے لگایا زور سے بھینچا اور یہ شعر پڑھا۔


اے دوست کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا وخضر سے
اس نے بھی ہماری اس گر مجوشی کا جواب اس گرمجوشی سے دیا اور پیشتر اس کے کہ ہم پوچھتے‘اس نے پوچھا تم یہاں کیا کررہے ہو مگر ہم نے اس سوال کو گول کیا اور کہا میری چھوڑو‘تم بتاؤ تم کیا کررہے ہو؟جس پر اس نوجوان نے کہ بال جس کے سفید ہو چکے تھے کہ ”ایم اے اردو کے بعد میں نے ایم اے فارسی ‘عربی‘اسلامیات‘معاشیات ‘نفسیات اور سوشیالوجی کیا اور ان دنوں پولٹیکل سائنس میں ایم اے کر رہا ہوں۔

“ہم نے کہ اردگرد کی صورت حال سے تاحال پریشان تھے اس کے جواب سے صرف نظر کیا اور کہا”تم یہ ڈاریں دیکھ رہے ہو؟“
اس مرد بزرگ نے دیدے ادھر ادھر گھماتے ہوئے پوری ڈھٹائی سے جواب دیا۔یہی دیکھنے کے لئے تو میں بھی روزانہ شام کو یہاں مٹر گشت کرتا ہوں اور پھر اس نے ہمیں سمجھایاکہ یہ سب کچھ بہت خوش آئند ہے‘کیونکہ پوری یونیورسٹی میں یہ وہ واحد”سپاٹ “ہے جہاں لیفٹ رائٹ کی کوئی کشمکش نہیں یہاں سب شانے سے شانہ ملا کر چلتے ہیں۔

میں تو اس سڑک کو امن کی علامت سمجھتا ہوں۔ہم اس کے اس لیکچر سے بد مزہ ہو ئے اور کہا وہ تو ٹھیک ہے مگر ان جوانوں کو دیکھو ان کی آنکھیں کس طرح تارے لگی ہوئی ہیں ۔
آخر میں بھی دو سال تک یونیورسٹی میں رہے ہیں اس وقت بھی مخلوط تعلیم تھی بلکہ ہمارے شعبے میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ تھی۔تمہیں تو یاد ہو گا۔باہر کے لوگ اور ینٹل کالج کو”کڑیاں دا کالج“کہا کرتے تھے مگر ہم نے کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔

“یہ سن کر بجائے اس کے کہ اس پررقت طاری ہوتی ‘اس بے حیانے کانوں کو ہاتھ لگا کر ”اللہ معافی“کہااور پھر ہنسے ہنستے پیٹ پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا!تھوڑی دیر بعد وہ اٹھا‘ایک نظر ہم پر ڈالی‘ایک بار پڑھ کانوں کو ہاتھ لگا کر ”اللہ معافی “کہا اور ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ کر دوبارہ وہیں بیٹھ گیا۔

Your Thoughts and Comments