بند کریں
مزاح مزاحیہ ادبآموں سے علاج

مزید مزاحیہ ادب

- مزید مضامین

مزید عنوان

آموں سے علاج
مرحوم کا انتقال ہیضے میںہوا تھا مگر آپ جانتے ہیں کہ سپاہی اگر گھوڑے پر گولی کھائے یا پیراک کا مزار دریا کی موجوں میں بنے تو اس پر کسی کو تعجب نہیں ہوتا چاہیے، بلکہ سچ پوچھیے تو سپاہی اور پیراک کے لیے یہ نہایت شرم نام بات ہے کہ چار پائی پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مریں۔بالکل اسی طرح مرحوم نے ہیضے میں جاں بحق ہو کر گویا اپنی مٹی ٹھکانے لگا دی

شوکت تھانوی:
مرحوم کا انتقال ہیضے میںہوا تھا مگر آپ جانتے ہیں کہ سپاہی اگر گھوڑے پر گولی کھائے یا پیراک کا مزار دریا کی موجوں میں بنے تو اس پر کسی کو تعجب نہیں ہوتا چاہیے، بلکہ سچ پوچھیے تو سپاہی اور پیراک کے لیے یہ نہایت شرم نام بات ہے کہ چار پائی پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مریں۔بالکل اسی طرح مرحوم نے ہیضے میں جاں بحق ہو کر گویا اپنی مٹی ٹھکانے لگا دی۔ وہ دستر خوان کے مردِ میدان تھے۔ باورچی خانہ اُن کی زندگی کا واحد میدانِ عمل تھا۔ نعمت خانہ ان کی تمام دلچسپیوں کی جیتی جاگتی دنیا تھا۔ ایسے شخص کے لیے ہیضے کو چھوڑ کر مرنے کے لیے کسی اور مرض کا انتخاب کہاں کا انصاف ہو سکتا ہے۔؟ مرحوم کو ہونے کو تو ہیضہ متعدد مرتبہ ہوا، مگر سچ پوچھیے تو ایک مرتبہ بھی آپ کو مرعوب نہ کر سکا اور ہیضے کے بعد آپ نے ایک نئے ہیضے کی آو¿ بھگت میں اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیںکی۔ رہ گئی ہاضمے کی عام شکایت، وہ آپ کے لیے گویا روزمرہ ہو کر رہ گئی تھی اور اکثر آپ نہایت حسرت سے کہا کرتے تھے کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ انسان جی بھی کر کھا بھی نہیں سکتا اور اس حسرت کے بعد ایک مرتبہ خود ہی ”اونھ“ کہہ کر وہ بدپرہیزی فرما جاتے تھے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں۔ ایک مرتبہ بدہضمی کی وجہ سے کھانے پر پابندی تھی مرحوم بے حد پریشان تھے اچانک ایک دن خبر سنی کہ مرحوم گھر سے روٹھ کر نکل گئے اور بمشکل تمام ایک ہوٹل میں پائے گے، جہاں تمام فاقوں کی کسرپوری کر چکے تھے۔ بلکہ ایک ہفتے کے بعد جب ملاقات ہوئی تو نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ آموں کی قاب ہماری طرف بڑھا کر بولے:” حضرت! میں نے بد پرہیزی کی اور بد پرہیزی کر رہا ہوں۔ لو آم کھاو¿، بہت مفید پھل ہے۔ روزانہ آم کھا کر ایک گلاس دودھ ضرور پی لینا چاہیے خون کی کمی دور ہو جاتی ہے اور چہرہ بھی سرخ وسفید ہو جاتا ہے۔ ہم نے ہنس کر کہا: کمال ہے صاحب! سنا ہے کہ آپ نے ہوٹل میں اسی دن پلاو¿ سے لے کر شاہی ٹکڑے تک مکمل دعوت اڑائی تھی۔“آم کی ایک بڑی سی قاش منھ میں پگھلا کر بولے:” مکمل دعوت، بلکہ یوں کہو کہ مکمل سے بھی کچھ زیادہ۔ بھیا!میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ موت برحق ہے، جو پلاو¿ کھانے کی منتظر نہیں رہتی، بلکہ مونگ کی دال کا پانی پینے والوں کو بھی دبوچ لیتی ہے ۔ جب مرنا ہی ہے تو یہ کہاں کی عقل مندی ہے ک آدمی مونگ کی دال کا پانی پی کر جان دے۔ آخر پلاو¿ کھا کر کیوں نہ مرا جائے۔ آموں کی موت کیوں نہ مانگی جائے اور یاد رکھو کہ یہ پرہیز اور بدپرہیزی سب ڈھکو سلے، حکیموں اور ڈاکٹروں کے بنائے ہوئے ڈھونگ ہیں۔ ان اعتبارات کا قائل وہ ہو، جو وہیمی ہو اور تو ہمات پر ایمان رکھتا ہو۔ میں تو خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اس کی پیدا کی ہوئی کھانے کی چیزوں سے مرنے کا خیال تک میرے ذہن میں نہیں آتا۔“
اس مختصر سی تقریر کے بعد چوٹی دار آموں سے بھی ہوئی قاب خالی ہو چکی تھی اور مرحوم تخمی آم چور رہے تھے ہم کو آموں کے معاملے میں ست رفتار دیکھ کر بولے:” کیوں جوانی کو بدنام کر رہے ہو ۔ تمہاری عمر یہ عالم تھا کہ علی الحساب آم کھانے کے بعد معدے میں ان سیکڑے گنے جاتے تھے، جس کی شہادت گھٹلیاں دیا کرتی تھیں۔ اب تو یہ حال رہ گیا ہے کہ مشکل سے یہ دس پندرہ آم کھائے ہیں۔ پیٹ بھر گیا ہے لیکن نیت نہیں بھری ہے مگر آم کے سلسلے میں پیٹ کی محدود گنجائش کا خیال کرنا کفرانِ نعمت ہے لہٰذا دیکھ لو کہ کھا رہا ہوں اب تک، بھائی! چونسا اور انور ٹول آم بے حد لذیذ ہوتے ہیں، انھیں خوب کھایا کرو۔ آم بہت صحت بخش پھل ہے میں اس لذیذ شیریں اور ذائقے دار پھل کو کھانا ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔“ آخر ہم سے نہ دیکھا گیا اور ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے کہ خدارا اپنے اوپر نہ سہی اپنے معصوم بچوں پر رحم فرمائیے، جو ان آموں کی خاطر یتیم ہونے کے خطرے میںمبتلا ہیں۔ اپنی غریب بیوی پر ترس کھائیے، جس کے سہاگ کو آم لوٹنے والے ہیں بہر حال بہ مشکل تمام اس وقت انہوں نے آموں کی یا خود اپنی جان بخش دی، مگر دوسر ہی دن یہ اطلاع مل گئی کہ آپ پھر ہیضے میںمبتلا ہوگئے ہیں۔ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ عام بد ہضمی کی شکایت کا علاج آموں سے کیا گیا ، لہٰذا بدہضمی تو دور ہو گئی مگر ہیضہ شروع ہو گیا۔ آپ کا بس چلتا تو ہیضے کا علاج بھی آموں ہی سے کرتے ، مگر بیوی کی سخت گیری اور بچوں کی نگرانی کی وجہ سے پھر فاقے شروع ہو گئے اور ہیضے کا اثر کم ہونے بھی نہ پایا تھا کہ آموں کی فصل کے رخصت ہونے کا جو آپ کو خیال آیا تو خود اپنے رخصت ہونے کی طرف سے بے فکر ہو کر گھر سے نکل گئے اور اس کثرت سے آم آپ نے تناول فرمائے کہ پھر معالجوں کے بنائے کچھ نہ بن سکا۔ ہیضہ اپنی پوری شدت کے ساتھ ازسرِ نو ہوا اور عیادت کرنے والوں کی آخر میں آپ کے اعزّہ سے تعزیت ہی کرنا پڑی۔یہ سب کچھ سہی، طبّی نقطہ¿ نظر سے بد پرہیزی اور ” آموں سے علاج“ کی وجہ سے مرے، مگران کا بھی یہ کہنا غلط نہ تھا کہ موت بہرحال برحق ہے۔ لہٰذا فاقے سے مرنے کے بجائے آدمی شکم سیر ہو کر کیوں نہ مرے۔ اگر فاقے انسان کو موت سے بچاسکتے تو غذائیں فطرت کی طرف سے پیدا ہی کیوں ہوتیں اور اگر غذائیں خدانے پیدا کی ہیں تو انسان کی ہر بیماری کا علاج فاقوں میں نہیں، بلکہ یقینا انہی غذاو¿ں میں ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے