Ay Hay Bekasi E Ishq Pay Rona

آئے ہے بے کئسی عشق پہ رونا

ہفتہ جنوری

Ay Hay Bekasi E Ishq Pay Rona
شفیقہ فرحت
اس گردش ایام نےکسی اورکو بگاڑا ہو یا نہ بگاڑا ہومگرعشق کوعرش سےفرش پروہ پٹخنی دی ہےکہ اگراس دورمیں آنسوؤں پراتنا شدید پہرہ نہ ہوتا تو یقیناً اس کی بےکسی پررونا آجاتا۔یوں دہائی دیتےتو پھربھی لوگ نظرآہی جاتےہیں۔
پھرتے ہیں دشت دشت دوانے کدھر گئے
وہ عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے
ہائےہائے۔ کیسےکیسےزمانےدیکھےہیں عشق نے—! جدھرنظرڈالیےبس عشق ہی عشق کا راج تھا۔

اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں کیا عوام کیا خواص، کیا شاعر، کیا طبیب سب کا پیشہ عشق تھا۔ طول وعرض میں پھیلی ہوئی اس وسیع کائنات کسی اورچیز سےدل چسپی نہیں۔کسی کام سےمطلب نہیں۔ کسی بات کی فکرنہیں۔دل پرخوں کی ایک گلابی سےعمربھرشرابی شرابی رہتےہیں اور پراہیبیشن ایکٹ کے تحت پکڑے بھی نہیں جاتے—!
درپر بن کہےگھر بنا لیتے ہیں اورنہ محبوب انھیں وہاں سے کان پکڑکرلٹکاتا ہے،نہ اسٹیٹ آفیسردعوا دائرکرتا ہے—! تیغ وکفن باندھےہوئےجاتے ہیں اورخود کشی کا الزام بھی عائد نہیں ہوتا—!!
اوراُس دورکےعاشق کوخود کوعاشق ثابت کرنےکےلیےکچھ کہنےسننے کی توخیرضرورت ہی نہیں تھی— حلیہ دیکھ کرہی لوگ سمجھ جاتےتھے۔

(جاری ہے)

جناب نحیف ونزاراتنےکہ اعضا دیدۂ زنجیرکی مژگانی کریں—کسی محفل میں بٹھا دیےجائیں تو دوربین خوردبین کی مددکےبغیرنظرنہ آئیں۔بستر پرلیٹیں تواس کی شکن میں گم ہوجائیں— اول تو بےلباسی طرۂ امتیاز—!جو بالفرض لباس ہو بھی تو گریبان چاک چاک اوردامن تار تار—چہرے پرہوائیاں—پاؤں میں چھالے— ایک ہاتھ میں دل —دوسرےمیں جگر—آنکھوں سےجوئےخون بہہ رہی ہیں تومنہ سےآہوں کےساتھ شعلےنکل رہے ہیں— اب اس حلیےکےبعد بھلا اظہارِعشق کی ضرورت ہی باقی کہاں رہ جاتی ہے—! یہ توچلتا پھرتا اشتہارہوا— آنکھ کےاندھےاورکان کے بہرے اورگانٹھ کے پورے کوبھی آپ کے مجنوں کے بھائی بند ہونے میں ذرا شبہ نہیں رہتا— (ویسے روایت یہی ہے کہ آج تک دنیا کا کوئی محبوب اندھا بہرا یا گانٹھ کا پورا نہیں ہوا—!!
جوذرا سلیقہ مند عاشق ہوا— اورجس نےدامن وگریبان سے بغاوت نہ کی اور نہ ہی بوئے خوں اور آہ آتشیں سے کچھ زیادہ واسطہ رکھا تو پھراس کا کچھ اس قسم کا حلیہ ہوتا تھا۔


کہتا تھا کسو سےکچھ تکتا تھا کسو کا منہ
کل میرؔ کھڑا تھا یاں سچ ہےکہ دیوانہ تھا
آج یوں اگرکوئی سرجھاڑمنہ پہاڑکھڑاجس تس کا منہ تکا کرے تولوگ بجائےکوچۂ محبوب کےچندہ کرکےسیدھےرانچی پہنچا آئیں۔آب تو یہ عالم ہوش وحواس اوربصد چین وسکون عشق کرنا پڑتا ہے۔ اورعاشق غریب کی آدھی زندگی اسی الجھن کی نذرہوجاتی ہےکہ وہ اپنےعاشق ہونےکا اعلان کیسے کرے— محبوب کےزوروستم اسےگھلاتے ہوں یا نہ گھلاتےہوں،مگریہ الجھن اسےضرورآدھا کردیتی ہے—(دنیا میں ہر قسم کےکاموں میں مشورہ دینے والی کمپنیاں اور بیورو کھل چکے ہوں کاش کوئی صاحب ذوق اور ہمدرد ملک و قوم اس طرف بھی توجہ دے—!)
جانےخون سفید ہوگئےہیں یا بناسپتی چیزیں کھاتےکھاتےاوربناسپتی باتیں کرتےکرتےجسم میں خون رہا ہی نہیں۔

بہرحال آج کا عاشق خون کےآنسو نہیں روتا۔ بلکہ وہ سرے سےآنسو بہانےکےفن سے ہی ناواقف ہوتا ہے۔ موقع بےموقع قہقہےالبتہ لگا لیتا ہے— اورقہقہوں کواظہارعشق کا ذریعہ اب تک تسلیم نہیں کیا گیا—!!
وہ بطور رسید غش کھا کرگرپڑنے والی خاص ادا ہواکرتی تھی وہ آج نہ جانےکیوں روایتی سینگوں کی حیثیت اختیارکرچکی ہے—!غالباً اس لیےکہ سڑکیں آج کل پکی ہونےلگی ہیں—!اگرابتدائےعشق میں ہی اسے یوں سر پکڑ کررونا پڑے (بلکہ بہت ممکن ہےکہ مرہم پٹی بھی کروانی پڑے—!) تو آگے آگےجوکچھ بھی ہوگا اسےدیکھنے کی ہمت اس میں کہاں باقی رہ جائے گی—!
توعاشق آج نہ روسکتا ہےنہ غش کھا کرگرسکتا ہے۔

نہ پاؤں میں آبلے ہوتے ہیں۔ نہ آہیں بال عنقا کوجلا دینے والی—! اوردامن وگریبان کو تارتار کرنا کیا معنی ایک ذراسی کھونچ کپڑوں میں لگ جائےتو قیمت کاخیال آتے ہی عاشق کےٹوٹےٹٹائےدل پرایک بال اور پڑجاتا ہے۔ اسی لیےتوآج کا شاعرکہتا ہے۔
وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی ان کا جگر تو دیکھو
اب ظاہرہےجگرڈاکٹرکےسواکوئی نہیں دیکھ سکتا۔

اورہرایک کامحبوب ڈاکٹرتوہوتا نہیں۔ لیجئے۔ حضرت عشق اپنا سا منہ لےکر رہ گئے—!
عاشق قدیم کوکھانےکمانےکی توکوئی فکرہوتی نہیں۔عالباً وہ غم ہی کومن وسلویٰ سمجھ کرکھا لیا کرتا تھا۔ اورخون جگرکوشربت روح افزا سمجھ کرپی لیتا تھا۔ لہٰذا جب دیکھے وہ حضرت کوچۂ دلدار ہی میں پائےجاتے تھے۔
جیتے جی کوچۂ دلدار سے جایا نہ گیا
اُس کی دیوار کا سر سے میرے سایہ نہ گیا
آج کا عاشق دن بھرتوکوچۂ افسردہ دفترمیں جان گنواتا ہےشام کوجوذرا بن سنورکرکوچۂ دلدار کی نیت باندھ کےدروازےکےباہرقدم رکھااورگھرکےسب خورد و کلاں نےشک وشبہ کی نظروں سےدیکھا اورمعنی خیزاندازمیں مسکرانےلگے۔


باواجان نے کڑک دارآوازمیں پوچھا۔
‘‘حضور کی سواری اس وقت کہاں تشریف لےجارہی ہے۔’’
لیجئےاب کوئی فی البدیہ بہانہ گھڑیئے—! جس میں یہ شاعرانہ صلاحیت اورتخیل کی بلند پروازی نہ ہوئی وہ ہکلاتےنظرآنےلگے۔
‘‘وہ —وہ—عمران کے پاس جارہا ہوں۔’’
‘‘میاں صاحب زادے عمران خود آپ کی اطلاع کے مطابق آج صبح جبل پور گیا ہے۔’’
‘‘جی ہاں۔

جی ہاں۔ تو ذرا سنٹرل لائیبریری ہی چلا جاؤں گا۔’’
‘‘یہ تمہاری لائیبریری پیرکوکب سےکھلنے لگی—؟’’
اوراب عاشق بیچارہ بال بگڑجانے کےڈرسےسرتک نہیں پیٹ سکتا—!!
جانے پرانےزمانےکےعاشقوں پر یہ روک ٹوک کیوں نہیں تھی۔ شاید اس زمانےمیں عاشق کا کوئی رشتہ دارکوئی والی وارث ہوتا ہی نہیں ہوگا۔ بس آزادی ہی آزادی تھی۔ عاشقی پرایک کا پیدائشی حق تھا۔

بلکہ کارثواب—— اور ترک عاشقی گمراہی سمجھی جاتی تھی۔
اللہ ری گری ہی بت و بت خانہ چھوڑ کر
مومن چلا ہے کعبہ کو اک پارسا کے ساتھ
لیکن آج یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ غیروں کے ناوک دشنام۔ اپنوں کی طرز ملامت۔ طعنے تشنے کانا پھوسی اور رسوائی سربازار— عشق سے پہلےعاشق کا خاتمہ یقینی—!
عمررفتہ کےمحبوب اس قدرقتل وغارت اورفتنہوشربرپاکرنےکے باوجود بھی بیچارے برے بھلےاورخداترس بندے ہوا کرتے تھے۔

گھرہمیشہ ایسے تنگ و تاریک کوچوں میں بستےتھےکہ جس میں دھوپ کا کہیں ذکرنہیں۔ ہمیشہ دیوار کا سایہ ہی رہا کرتا تھا اورتاریکی ایسی کہ ساری زندگی دیوارکےسائےکے تلے گذاردیجئےکیا مجال جوکسی راہ گیرتک کی نظرپڑجائے—!
خدا جانےآج کل وہ تنگ وتاریک کوچےکہاں جابسے۔ یہ ملبے چوڑے راستےاورجلتی ہوئی تارکول کی سڑکیں آگئیں کہ اتنابھی توسایہ نہیں ہوتا کہ عاشق دریاکےسامنےدم بھرکو سُستالے۔

اورجووہ ذرا کسی درخت کےسائے میں یادیوارکی آڑمیں امیدوبیم کی حالت میں دل کی تیزہوتی ہوئی دھڑکنوں کو گنتا۔ دروازے پرنظریں گاڑےکھڑا ہوگیا۔ یااُچک اُچک کراندرکےحالات کا جائزہ لینےکی کوشش کی۔یاسڑک کےدوچارچکرلگائےتو پولس چوراُچکا سمجھ کر پیچھے لگ گئی۔اوردریاکےبجائےحضرت عاشق درکوتوالی پرنظرآنےلگے—! وہ یہ تک نہیں کہہ سکتا۔
دیرنہیں دم نہیں در نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں راہ گزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں
اوراگرپولیس کےدست رسا سےبچ بھی گئے۔

تو ہرآن دندناتی ہوئی گزرنےوالی موٹروں کی زد میں آجانا یقینی ہے—!
چارچھ چکرلگانے کے بعد ذرا جاں باز قسم کےعاشق اندرداخل ہونےیا صدا دینے کا ارادہ بھی کرلیں توسیاست درباں تونہیں البتہ دل نعرۂ درباں سےضرورڈرجاتا ہے—!جب دربان اشرف المخلوقات میں سےہوا کرتےتھے،عاشق کبھی تو ان کےقدم لے لیا کرتے تھےاور کبھی اس کی گالیوں کےجواب میں دعائیں دے کراسے خوش کرتے تھے—— مگران فیل تن برق رفتار۔

رعد گفتارکتوں کےقدم کوئی کس طرح لے——!!!
چلیے——یہ مجنوں کےرشتہ دار منہ لٹکائے بےنیل ومرام کوچۂ جاناں سےلوٹ آئے۔
اتنا یہ نازک کہ عاشق کوچۂ جاناں کےدوایک پھیروں میں ہی گھبراجاتا ہے۔مگر ذرا پرانے عاشق کی ہمت تو ملاحظہ فرمائیے۔
اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل
میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
کوچۂ رقیب اورپھرسرکےبل——؟ داد نہیں دی جاسکتی اس بےجگری کی—!!عاشقی کاہے کو ہوئی اچھی خاصی نٹ گری ہوگئی۔

(ویسےعاشق کےلیے اس فن کا ماہرہونا یوں بھی ضروری ہے—!) آج سر کے بل کسی کوچے میں چلنے سےمحبوب تو نہیں سرکس میں نوکری ضرورمل سکتی ہے—!
بڑی آسانی کی بات تو اس دور میں یہ تھی کہ شہرمیں بس ایک ہی حسین اور ایک ہی محبوب ہوا کرتا تھا۔ کیوں کہ خیال یہ تھا کہ
جو شہر میں تم سے ایک دو ہوں تو کیونکر ہو
لیجئےصاحب— انتخاب کی ساری الجھنیں ختم— آج کل تو شہر کےجس کونےمیں چاہے حسینوں کوایک پورا قہقہے لگاتا رنگ و نور کا طوفان لیےآنکھوں کو چکا چوند کرتا گزرجائےگا اورآپ ٹریفک کےاصولوں کی اس طرح خلاف ورزی کرنےکی رپورٹ بھی کسی کوتوالی میں درج نہیں کراسکیں گے—!!
توشہر بھرا ہےحسینوں سے— اور ہرعاشق کا اپنا ایک محبوب ہے— بلکہ بیک وقت کئی کئی محبوب ہوا کرتے ہیں۔

اظہارعشق کا مسئلہ اورٹیڑھا ہوگیا—!
اس ترقی پسندی،تہذیب وتمدن اوراس ایڈیکیٹ نےتوعشق کواورڈبودیا—— اشارے کنائے،زبان بے زبانی سب ختم ہوگئے—— جب تک آپ اپنا مقصد فٹ نوٹس کے ساتھ بیان نہ کریں تب تک آپ کا کیا یا خود آپ سمجھ لیجےیا اگر خدا کو ہنگامہ ہائے شش جہت سے فرصت مل گئی تو وہ سمجھ لے گا مگر اس بیسویں صدی کا پڑھا لکھا عقل مند محبوب تو نہیں سمجھ سکتا—!
آپ نےایک لمبی سی ٹھنڈی آہ بھری—اوروہ یہ سمجھ کرکہ آپ کوسانس لینےمیں تکلیف ہورہی ہےفوراً آپ کی خدمت میں پانی پیش کردےگا۔

(خواہ مارے جھنجھلاہٹ کے آپ اس میں ڈبکیاں ہی کیوں نہ لگانے کا تہیۂ کرلیں—!)
آپ نے دل کےدرد کی شکایت کی— وہ آپ کو شہر کےبہترین ڈاکٹر کے پاس لےجاکردل کا کارڈیوگرام کروادے گا—!! شکستگی کا اظہار کیجئے۔ سرجیکل ڈپارٹمنٹ سے رجوع کرنےکا مشورہ ملے گا—!
بیماری میں اگردن کو دیکھ کرچہرے پہ رونق آجائےتواس ڈاکٹرکا تفصیلی پتہ اورشجرۂ نسب پوچھا جائے گا جس کاعلاج آپ کروا رہے ہیں—اور وہ تمام دوائیں دیکھی اورچکھی جائیں گی جواستعمال کی جارہی ہیں—!
اتفاقیہ طورپرکہیں ملاقات ہو جانےپراگرآپ کی آنکھوں سےخوشی دمکنےلگی اورہونٹوں پرمسکراہٹ ناچنے لگی تواسےرسمی اخلاق پرمحمول کیا جائےگا—!کچھ وضاحت کےخیال سے آپ نےقہقہہ لگایا اورآپ پرہتک عزت کا دعویٰ—!!
ان کی پیروی میں بلیک کافی، کولڈ کافی، مینڈک کا اچار،کچھوے کا مربہ جیسی واحیات چیزیں زہرمار کیجئے— آپ کے ذوق کا ارتقا اورنخراکی داد دی جائے گی—!
ہجر میں تارے گنیے— وہ سمجھیں گےحساب کی قابلیت بڑھائی جارہی ہے۔

گھرکےآگے مجھے چکر لگائیے۔ خیال ہوگا کہ سڑکیں ناپ کرانجینئرنگ میں کسی نئےباب زلفیں پریشاں کیجئے— فلسفی کا خطاب ملے گا۔
کھانا پینا چھوڑ دیجئے— گمان گزرے گا کچھ اورنازک اوراسمارٹ بننےکی کوشش کی جارہی ہے۔
اور جو تنگ آکرسچ مچ مرجائیے— تو دعائے مغفرت کے بعد کہا جائےگا۔ خلل تھا دماغ کا—۔

Your Thoughts and Comments