Azaadi Ki Qeemat

آزادی کی قیمت

حافظ مظفر محسن جمعرات دسمبر

Azaadi Ki Qeemat
میں نے دادا جان سے پوچھا۔یہ الماری اتنی بڑی اور اس قدر حسین ہے۔یہ ہمارے گھر کہاں سے آئی تھی؟یہ کسی راجہ مہا راجہ کی معلوم ہوتی ہے؟میرے اس سوال پر دادا جان تھوڑے پریشان ہوئے اور ان کے منہ سے نکلا۔اللہ اکبر!کہا بیٹا میں نے دس روپے میں شیر محمد سے خریدی تھی۔
دادا جان صرف دس روپے میں اتنی بڑی الماری ۔میں حیرت زدہ انداز میں ہنسنے لگا۔
بیٹا!یہ شیر محمد ایک بہت بڑا ٹھیکیدار تھا۔

پاکستان کے قیام سے دس بارہ سال پہلے وہ لاکھوں میں کھیلتا تھا اور وہ بندہ بھی بڑے تعلقات والا تھا۔جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو اسے ایک بہت بڑا ٹھیکہ مل گیا میں نے بھی شیر محمد کے ہاں ملازمت کر لی۔اس کے پاس سینکڑوں ملازم شیر محمد کے پاس شفٹوں میں کام کرتے تھے اس وقت شیر محمد کے ٹھاٹ باٹ ہی اور تھے اور بڑا رحم دل آدمی تھا راتوں رات بہت زیادہ امیر ہو جانے کے باوجود بھی وہ عاجز سا بندہ تھا۔

(جاری ہے)


اس وقت پاکستان کی تحریک بھی تقریباً اپنے آخری مراحل میں تھی۔وہ کام کے دوران ہمارے پاس بھی آکر بیٹھ جاتا۔اس وقت بے ایمانی بہت کم ہوتی تھی۔اس لئے وہ ہمارے پاس اس لئے نہیں بیٹھتا تھا کہ ہم اس کے ڈر سے کام پر زیادہ توجہ اور محنت کرنے لگیں گے بلکہ وہ ہمارے ساتھ سیاسی افق پر تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں پر بات چیت کرتا اور ہمیں دوسری جنگ عظیم کے بارے میں نئی نئی اور حیرت انگیز خبریں بھی دیتا۔


باتوں باتوں میں ایک دن میں نے پوچھا کہ شیر محمد صاحب اگر ہمیں اپنی نسلوں کی آزادی کیلئے اپنی جانوں کی نذرانہ پیش کرنا پڑا تو آپ بھی کیا ساتھ ہوں گے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور جذباتی انداز میں ہاتھ ہلا کر اس نے کہا کہ”بھائی دین محمد ہم انگریزوں کے مقابلہ میں قائداعظم کی قیادت میں پاکستان بنانے کیلئے امیر غریب اپنی جان اپنا دھن دولت سب اپنی آزادی پر قربان کرنے سے بالکل دریغ نہیں کریں گے۔

دوسری جنگ عظیم ختم ہوگئی کام ختم ہو گیا شیر محمد نے ہمارا حساب بے باک کیا اور اپنے سب ملازموں کو خوشی خوشی اور بڑے پیار سے رخصت کیا اس دوران قائد اعظم کی قیادت میں ہمیں آخری راؤنڈ آزادی کیلئے کھیلنا پڑا۔ہندو سکھ اور انگریز گویا کہ جانی دشمنوں کا ایک غول تھا اور نہتے مسلمان۔واقعی ہمیں جانوں عزتوں اور دھن دولت کا بھی نذرانہ پیش کرنا پڑا۔

کیا کیا اذیتیں ہمیں آزادی کیلئے برداشت کرنا پڑیں۔وہ جذباتی منظر صرف تصور ہی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔آخری لمحہ تک ہندو نے سازش کی کہ کسی طرح پاکستان معرض وجود میں نہ آئے ہر حربہ استعمال کیا گیا مگر خدا نے قائداعظم جیسا ایک پاک صاف رہنما دیدیا کہ جس نے ہر لالچ‘خوف اور سازش کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ کے حکم سے ہمیں منزل تک پہنچایا۔
ہمیں بھی بے یارومددگار سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہجرت کرکے خوشی خوشی آنکھوں میں نئے خواب لئے پاکستان آنا پڑا۔

ہم نے لاہور کے کیمپوں میں ڈیرے ڈال لئے اور کچھ عرصہ بعد ہمیں ایک پانچ مرلہ کا گھر الاٹ ہو گیا اور حالات کچھ کچھ معمول پر آگئے۔ایک دن میں لاہور کے کشمیری بازار سے گزررہا تھا کہ ٹھٹک کررک گیا۔پھٹے پرانے کپڑوں میں شیر محمد میرے پاس سے گزرا۔مجھے آنکھوں پر یقین نہ آیا وہ پچاس سالہ شخص بہت بوڑھا لگ رہا تھا میں واپس مڑا اور تیز تیز قدم اٹھاتا شیر محمد تک پہنچ گیا۔


شیر محمد صاحب!وہ چونکا اور پھر ہم دونوں بازار میں ہی بغل گیر ہو گئے۔وہ رونے لگا اور میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے”دیکھا بھائی دین محمد․․․․․․․شکر الحمد اللہ ․․․․․․ہمیں خدا نے آزادی عطا فرمائی۔مگر واقعی ہمیں تن من دھن سب کی قربانی دے کر آزادی نصیب ہوئی۔“اس نے بتایا کہ سکھوں نے ہجرت سے پہلے ہی ہمارے گھر پر حملہ کر دیا۔سب کچھ لے گئے اور جاتے جاتے میرے بڑے بھائی کو بھی شہید کر گئے میں نے بھی اپنی بیٹی کو وفات کا سنایا تو پھر ہم دیر تک ایک تھڑے پر بیٹھ کر آنسو بہاتے رہے۔


جب میں نے شیر محمد سے اجازت مانگی تو اس نے مجھے روکا اور التجا کی کہ اسے بہت ضروری دس روپے درکار ہیں۔میں نے کہا کہ شیر محمد صاحب آپ میرے ساتھ گھر چلیں میرے پاس بیس روپے گھر میں ہیں ان میں سے دس روپے آپ کو دے سکتے ہیں۔نہیں نہیں دین بھائی(اس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا)میں خیرات نہیں مانگ رہا ۔ناں ․․․․․․․ناں شیر محمد صاحب آپ مجھ سے دس روپے ادھار لے لیں میں جب ہوں گے تو واپس کر دینا۔


شیر محمد صاحب کے ضمیر نے ادھار بھی لینا مناسب نہ سمجھا۔وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے تقریباً ڈیڑھ مرلے کا ٹوٹا پھوٹا گھر تھا۔وہاں ان کے کمرے میں یہ الماری پڑی تھی۔شیر محمد صاحب نے وہ الماری ایک ریڑھے پر لادی‘ہم دونوں بھی ریڑھے پر بیٹھ گئے اور وہ ہمارے گھر آگئے۔الماری کے بدلے میں نے انہیں دس روپے ادا کئے اور وہ شکریہ ادا کرتے ہوئے چلے گئے۔

جاتے وقت میں نے ان سے التجا کی کہ جب آپ کے پاس ہوں آپ دس روپے ادا کرکے یہ قیمتی اور تاریخی نوعیت کی الماری ضرور لے جائیے گا۔مجھے خوشی ہو گی۔مگر کئی سال تک وہ نہ آئے۔
ایک دن میں ان کا گھر تلاش کرتا کرتا شیر محمد صاحب کے گھر پہنچا تو دستک دینے پر ایک نوجوان باہر آیا۔میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ دو سال پہلے فاقہ کشی کے ہاتھوں بیمار ہو کر شیر محمد صاحب وفات پا گئے اور ان کی بیوی یہ مکان چھوڑ کر حیدر آباد اپنے کسی عزیز کے ہاں چلی گئی۔


وہ تاریخی الماری آج بھی میرے پاس ہے۔دادا جان بھی وفات پا چکے ہیں۔ہر سال چودہ اگست کو یہ الماری مجھے یاد دلاتی ہے کہ لاکھوں شیر اپنا تن من دھن قربان کرکے ہمیں آزادی سے ہمکنار کرگئے کاش ہر پاکستانی کو آزادی کی قیمت کا اندازہ ہو سکے۔

Your Thoughts and Comments