Baara Aadmi

بڑا آدمی

عطاالحق قاسمی جمعہ اگست

Baara Aadmi
قیامت کی طرح بڑے آدمیوں کی بھی کچھ نشانیاں ہیں۔مثلاً بڑا آدمی ہمیشہ بڑے لوگوں میں اٹھتا بیٹھا اور لیٹتا ہے۔وہ تقریبات میں صف اول کی نشستوں پر بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔بڑا آدمی جب اپنے رفقا کے ساتھ کسی اعلیٰ درجے کے ریستوران میں داخل ہوتا ہے تو بیرے اسے جھک کر سلام کرتے ہیں‘وہ بیروں کو ان کے نام سے پکارتا ہے جس سے اس کے رفقاء کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے روز وشب یہیں بسر ہوتے ہیں۔

سلام کے لئے بیرے کو ایک بار بھاری ٹپ اور انہیں نام سے پکارنے کے لئے اچھا حافظہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔بڑا آدمی سگریٹ نہیں پائپ پیتا ہے۔وہ پائپ پیتا کم ہے‘اسے جلاتا‘بجھاتا زیادہ ہے اور گفتگو کے دوران میں اس کا بیشتر وقت انہی سر گرمیوں میں بسر ہوتا ہے ۔بڑے آدمی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ ہر جملے کا آغاز انگریزی میں کرتا ہے اور لہجے کو حسب تو فیق ”آکسن “بنانے کی کوشش کرتا ہے!تاہم واضح رہے کہ انگریزی زبان کے قواعد وضوابط سے بڑے آدمی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

(جاری ہے)


بڑا آدمی ہمیشہ بڑے گھرانے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے تمام عزیز واقارب کلیدی اسامیوں پر فائز ہوتے ہیں۔یہ عزیز وقارب اس نے بڑی محنت سے اپنے شجرہ نسب میں شامل کئے ہوتے ہیں۔بڑا آدمی کبھی کم گو اور کبھی پُر گو نظر آتاہے‘تاہم اس امر کا فیصلہ اسے خود کرنا ہوتا ہے کہ اسے کس سے تھوڑی اور کس سے زیادہ بات کرنی ہے۔بڑے آدمی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ فنون لطیفہ کا سر پرست ہوتا ہے۔

مصوری سے شعروادب تک اس کی چراگاہیں ‘و ہ اپنے کمرے کی کلر سکیم سے میچ کرتی ہوئی سرورق والی کتابیں خرید تا ہے اور ایک شیلف میں سجاتا ہے ۔وہ تجریدی مصوری سے بھی اپنے گہرے شغف کا اظہار کرتا ہے اور ثبوت کے لئے ایک آدھ تصویر ڈرائنگ روم میں بھی ٹانگ دیتا ہے‘وہ تصویر کے ساتھ مصور کو بھی ٹانگنا چاہتا ہے ‘مگر کچھ مجبوریاں آتی ہیں۔
بڑا آدمی بیٹھے بٹھائے بڑا آدمی نہیں بن جاتا‘اس کے لئے اسے شدید محنت کرنا پڑتی ہے ۔

وہ صبح سے لے کر شام تک کام اور شام سے رات گئے تک پارٹیاں کرتا ہے۔صبح سے شام تک والے کام میں بہت سے کام شامل ہوتے ہیں اور شام سے رات گئے جاری رہنے والی پارٹیوں میں بہت سی”پارٹیاں“شریک ہوتی ہیں۔اس کی عظمت کی ایک وجہ اس کا منکسرالمزاج ہونا بھی ہے وہ کبھی اپنے مال ودولت کا ڈھنڈ ور ا نہیں پیٹتا بلکہ ہمیشہ انکسار سے کام لیتے ہوئے بینک سے حاصل شدہ قرضوں کا ذکر کرکے خود کو کروڑوں روپے کا مقروض ظاہر کرتاہے کئی بار تو یہ حکایت بیان کرتے وقت اس پر اتنی رقت طاری ہو جاتی ہے کہ بائیں ہاتھ کو بے خبر رکھتے ہوئے دائیں ہاتھ سے اس کی جیب میں دس کا نوٹ ڈالنے کو جی چاہتا ہے کہ آج کی شب اس کے گھر میں چولھا جل سکے۔

اس کے بڑا آدمی بننے کے پیچھے ایک عمل یہ بھی کار فرما ہوتا ہے کہ وہ اپنے مرتبے اور مقام کو بھول کر سب سے خصوصاً انکم ٹیکس ‘ایکسائز اور آڈٹ والوں سے احسان ومحبت کا سلوک کرتا ہے ۔بڑے آدمی کو بڑ آدمی یو نہی تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔اس کی پیٹھ پر فلاحی اداروں کے لئے خیراتی رقوم کا بوجھ ہوتا ہے جسے وہ اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے‘لیکن وہ نہیں چاہتا کہ اس کی اطلاع اخبار کے رپورٹز اور فوٹو گرافر کے علاوہ کسی اور کو ہو کہ کہیں اس کی نیکیاں ضائع نہ چلی جائیں بڑے آدمی کی عظمت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹے آدمیوں کو بھی ساتھ رکھتا ہے جس سے وہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔


بڑے آدمی کی یہ تمام خوبیاں اور خصائل اس کی زندگی میں بھی اس کے کام آتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی اس کی عظمت کو اجاگر کرتے ہیں! چنانچہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بڑ ا آدمی مرتا ہے ‘تو اگلے دن خبر آتی ہے کہ اس کے جنازے میں شہر کے تمام بڑے آدمی شریک ہوئے‘تاہم یہ بڑے آدمی کا روں میں قبرستان پہنچ جاتے ہیں۔کندھا دینے والے چارآدمی چھوٹے آدمی ہوتے ہیں۔

چھوٹے آدمی کی یہ بڑی نشانی ہوتی ہے کہ اس کے کندھے چوڑے ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ بڑے آدمیوں کو کندھا دیتا ہے۔افسوس بڑے آدمی بھی بالاخر اس جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور بیس بیس کنالوں والی کوٹھیوں سے نقل مکانی کرکے انہیں بقیہ عمر چھوٹے آدمیوں کے ساتھ دو دو گز والے پلاٹ کی قبروں میں بسر کرنا پڑتی ہے ۔بڑے آدمیوں کو چاہئے کہ وہ افسو سناک صورتحال پر غور کریں اور یہ بات اپنے سے بڑے آدمیوں کے نوٹس میں لائیں۔

Your Thoughts and Comments