Bachpan Or Sharartain

بچپن اور شرارتیں

حافظ مظفر محسن پیر دسمبر

Bachpan Or Sharartain
”ہلکی پھلکی شرارتوں،بے مقصدضد،وقت بے وقت کھانا اور انوکھی فرمائشوں کا نام”بچپن“ہے۔ہرعقل مند اور بے عقل سب پر یہ دور زندگی میں ایک بار ضرور آتا ہے۔انسان زندگی میں کئے گئے بہت سے کاموں اور گزرے ہوئے بہت سے لمحوں کو بھول جانا چاہتاہے مگر بچپن کا زمانہ سب کو رہ رہ کے یاد آتاہے۔ہمارا بچپن بھی خوب تھا جب ہمارے لئے سب سے بڑی عیاشی چھٹی کے دن والد محترم کے ساتھ سائیکل کی سیر ہوتی تھی۔

سائیکل پر مزے سے بیٹھے ہمیں دنیا کو دیکھنا بہت عجیب لگتا تھا اور پھر اگلی چھٹی کا انتظار شروع ہو جاتا تھا ہمیں وہ دن بھی یاد ہے جب ہم اور ہماری وجہ سے سارے گھر والے نہ سو سکے۔
کیونکہ ہمارے پاؤں سائیکل پر بیٹھے بیٹھے سو گئے اور پاؤں سن ہو جانے کی وجہ سے جوتا کہیں گر گیا۔جب گھر آئے تو پتہ چلا کہ پاؤں تو من من کے ہو چکے ہیں مگر بالکل نیا خریدا جو تا غائب ۔

(جاری ہے)

پھر ساری رات سوئے بغیر گزار دی کیونکہ ہماری ضد تھی کہ ہمیں ابھی دوسرا جوتا خرید کے دیا جائے۔بھلا رات کے بارہ بجے مال روڈ والے کیونکر ہمارے لئے دکان کھولتے کہ جہاں سے ہم اپنا کھویا ہوا جوتا خرید پاتے۔گھر والے ڈر کے مارے پٹائی بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے علم میں تھا کہ ہم تو پہلے ہی منتظر رہتے تھے کہ ہمیں ایک آدھ”تھپڑ“کا تحفہ ملے اور ہم کھل کر چیخ چیخ کر رو سکیں۔

اس ایک ”تھپڑ“سے ہمیں نیند تو آسکتی تھی مگر اندیشہ تھا کہ ہماری بے وقت ”چیخ وپکار“سے اہل محلہ نہ بیدار ہو جائیں۔
آج کا بچہ سائیکل پر کم بیٹھتا ہے اسے تو جمعہ کے دن اچھے ماڈل کی گاڑی پر بیٹھ کر سیر کرنا ہوتی ہے مگر بچہ سائیکل پر سیر کرے یا اچھے ماڈل کی گاڑی پر حرکت تو وہ بچوں جیسی کرکے رہے گا۔ہم بچپن میں فالودہ آج کا بچہ چائنیز سوپ پینے کی فرمائش کرتاہے۔

ہمارے دوست عامر نواب(یہ صاحب پرانی قسم کے نواب نہیں بلکہ نام کے نواب ہیں)کا بچہ جسے ہم پیار سے باؤ عاطر کہتے ہیں ابھی پچھلے دنوں چڑیا گھر گئے وہاں ایک”بزرگ عقاب“بھی پنجرے میں بند تھا باؤ عاطر نے”بزرگ عقاب“کو دیکھا تو شور مچانے لگے۔میں نے یہ ”چڑیا“لینی ہے۔مجھے یہ چڑیا خرید کے دیں۔بہت سمجھا یا کہ بیٹے یہ چڑیا نہیں عقاب ہے۔ذرا سا بیمار ہے مگر وہ کب مانا۔

چیخ چیخ کر ”چڑیا گھر“سر پر اٹھالیا۔
ہمیں ہماری بزرگ سیاسی رہنما محترمہ نصرت بھٹو کے بارے میں حیرت ہوئی کہ کہیں وہ ہماری ہر دل عزیز محترمہ بے نظیر بھٹو صاحب کے اقتدار کو(خدا نخواستہ)نقصان سے دوچار نہ کردیں۔ہمیں بہت سے لوگوں نے سمجھایا کہ اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں مگر ہم نے اسے”بچہ بوڑھا ایک برابر“والے محاورے کی”بیک گراؤنڈ“میں دیکھا اور مزید پریشان ہو گئے۔

ہماری پریشانی ہماری صحت کی خرابی کا باعث بن سکتی تھی کہ چودھری شجاعت کا بیان اخبار میں پڑھنا پڑا”یہ بحث وتکرار تو میر مرتضیٰ بھٹو کی رہائی کے لئے ہے۔“ہمیں بات”کچھ کچھ“سمجھ آگئی اور یوں ہماری جان میں جان آئی․․․․․․!
خیر بات بچوں کی بچپن میں کی جانے والی شرارتوں کے حوالے سے ہورہی تھی مگر موضوع سیاست کی طرف خواہ مخواہ مڑ گیا۔

جیسا کہ ہمارے ہاں آج کل ہر چیز خواہ مخواہ سیاسی شکل اختیار کر جاتی ہے کرکٹ کنٹرول بورڈ والا معاملہ ہی لے لیں۔اس میں ایسی کون سی عجیب بات تھی نیا خون ہر میدان میں چاہئے نئے لوگ تو ترقی کے لئے ضرورت ہوتے ہیں۔مگر دوستوں نے اس معاملے کو بھی سیاسی تناظر میں دیکھا۔
اصل میں ہم ابھی سیاسی میدان میں تو بچے ہی ہیں اور میں نے شروع میں”بچپن“کی تعریف کی تھی کہ”ہلکی پھلکی شرارتوں،بے مقصد ضد،وقت بے وقت کھانا اور انوکھی فرمائشوں کا نام بچپن ہے۔

“آپ خود سمجھ دار ہیں غور کریں آپ کو ہماری سیاست میں یہ ساری چیزیں نظر آجائیں گی کہ ہمارے”بڑے “ہماری”نشوونما“رک جانے کے ڈر سے ”ہلکی پھلکی شرارتوں،بے مقصد ضد،وقت بے وقت کھانا اور انوکھی فرمائشوں سے نہیں روکتے۔“
عامر کو بہت غصہ آیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی باؤ عاطر کو”تھپڑ“کا تحفہ عطا کر دیا ہم نے ٹوکا تو برس پڑے۔ یار کیا عجیب بچہ ہے عقاب کو چڑیا کہہ رہا ہے۔

کل کو ایف16طیارے کو”چیل“کہہ دے گا۔”ویسے عامر تم برامناؤیا اچھا ایف16ہمارے لئے ”چیل“سے زیادہ اہم تو نہیں۔“ہمارے جواب پر سوچنے لگے مگر سمجھ بھلا کب آئے گی۔ہمیں تو ”عراق اور کویت“کی لڑائی کی آج تک سمجھ نہیں آئی۔کچھ کہتے ہیں وہ نیو ورلڈ آرڈر کا”ٹریلر“تھا تو کچھ اسے”مذاق برائے سیاست “خیال کرتے ہیں۔
”بچپن “سے ہمیں ہمارے ایک امام مسجد دوست کا بچہ یاد آگیا وہ محلے میں کچھ ”بالغانہ‘شرارتیں کرنے لگا تو ہم نے اطلاعاً عرض کر دیا تو سوچنے لگے اور پھر بھولے بن کر فرمایا”یار محسن آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے وہ۔

میں مجبورہوں اسے نہیں روک سکتا کہیں اس کی”نشونما“نہ رک جائے“۔
ہم نے کہا کہ یہ کون سا گلاب کا پودا ہے جس کی نشوونمارک جائے گی؟تو گرجنے لگے یہ تمہاری سیاسی جماعتیں بھی تو”نشونما“کے لئے کارکنوں کو بالغانہ شرارتوں کی اجازت دے ہی دیتی ہے۔ویسے بھی ضیاء الحق کے مارشل لاکے زمانے میں کچھ سیاسی جماعتوں کو”نشونما“کے لئے ”شرارتوں “کی اجازت تھی۔

“تمہاری جماعت اسلامی نے بھی تو کسی کی”نشونما“کے لئے ”اسلامی فرنٹ“بنا ہی لیا تھا۔“اس گرجدار بیان پرہم گھبراگئے بلکہ شرما گئے کہ ہمیں اپنی تاریخ اور خاص طور پر سیاسی تاریخ پڑھنے سے اکثر پسینہ آجاتاہے۔ہم نے سن رکھا تھا کہ بچہ اور بوڑھا ایک ہی ہوتے ہیں ۔ہر بار ہمیں حیرت ہوتی تھی کہ یہ بچے کو بوڑھے سے ملا دینا بھلا کیونکہ سچ ہے یا ایسا کہہ دینا کیسی عقل مندی ہے؟بچہ تو بچہ ہوتاہے۔دنیا کے نشیب وفراز سے نا واقف !جب کہ بوڑھا تجربہ ہی تجربہ۔مگر چند دن ہوئے ہمیں دوبارہ اس محاورے پر غور کرنا پڑاجب”لاڑکانہ“والا واقعہ رونما ہوا۔

Your Thoughts and Comments