Baldiyati Rafochakar

بلدیاتی رفوچکر

جمعہ ستمبر

Baldiyati Rafochakar
سید عارف نوناری
بلدیات اور بلدیہ میں فرق یہ ہے کہ بلدیات میں وزیر ہوتا ہے اور سیکرٹری بھی ہوتا ہے لیکن بلدیہ میں صرف بادل ہوتا ہے کیونکہ جس طرح بادل کے آنے کا موسم ہوتا ہے۔ اسی طرح بلدیہ کا صفائی شہر گاؤں اور ضلع کو صاف رکھنے کا مخصوص موسم اور آب و ہوا بھی ہوتی ہے۔عرصہ کے بعد بلدیاتی الیکشن کا اعلان کرکے موجودہ حکومت نے موسم کو محسوس کرکے ،پھر کونسلروں کے مشوروں کے پابند ہوگئے ہیں۔

جو خوبیاں صدر اور وزیراعظم کے انتخاب کے لئے ضروری ہوتی ہیں کونسلر میں بھی وہ خوبیاں ہونی ضروری ہیں کیونکہ کونسلر محلہ کا صدر یا وزیر اعظم ہوتا ہے۔اور اس کے انتخاب میں پارلیمنٹ کے رکن کی طرح وارڈ کا ہر ووٹر جانتا ہوتا ہے۔کونسلر اور صدر کی خوبیاں اگر چہ مشترکہ ہونا ضروری ہے امریکہ ،برطانیہ میں کونسلر کے انتخاب کے لئے ووٹر ان کی شناخت ضروری نہیں بلکہ ڈالر کی شناخت ہونی چاہئے بلدیاتی انتخاب کا ملتوی ہونا کوئی انوکھی بات نہیں اور غیر جماعتی باتوں پر انتخابات کو تبدیل کرکے جماعتی طریقہ کار پر اپریل میں بلدیات کا دنگل اصل میں موجودہ دنگل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ،مشوروں کو اہمیت دی گئی ہے ورنہ شاید عید کے فوراً بعد اس دنگل سے نئے پہلوان نکل آتے تو پھر معاملہ کہاں سے کہاں تک چلا جاتا۔

(جاری ہے)


 البتہ عرصہ کے بعد بلدیات کی طرف توجہ دینے سے مقامی سطح پر سیاست کو اجاگر کرنے سے گہما گہمی پیدا ہو گئی ہے۔ہمیں تو الیکشن لڑنے کا پتہ نہیں لیکن الیکشن لڑتے دیکھا ضرور ہے جو حال چیئرمین کے انتخاب کے وقت کونسلروں کا ہوتا ہے اللہ کسی دشمن کا بھی نہ کرے اور جو خطابات اور وہ بھی اعزاز کے ساتھ ملتے ہیں غلام حیدر وائیں بھی بلدیات کے الیکشن میں حصہ لینے کے بعد اسمبلی کے الیکشن میں وارڈ ہوئے تھے۔

مشق کرنے کے لئے استاد اور طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بلدیات تو پہلے ہی مشق کرتا ہے۔ ایسی مشقیں آرمی میں نہیں بلکہ صرف بلدیات میں ہوتی ہیں۔بلدیات قومی آمدنی کا اہم حصہ بھی ہے لیکن اس کے کتنے حصے تقسیم کرکے ضربیں دی جاتی ہیں یہ تو اس کو پتہ ہوتا ہے جس کو تقسیم کا طریقہ اور ساتھ پہاڑے یاد ہوتے ہیں۔
البتہ اس تقسیم میں غلطی پکڑی جائے تو حکومتی کمپیوٹر کی امداد لینا فریضہ ہوتا ہے سودا خریدنے کے لئے منی،روپیہ تو ہے اسی طرح بلدیات میں کودنے کے لئے امریکی ڈالر کا ہونا نماز کی طرح ضروری ہے۔

الیکشن میں حصہ لینے کی سوچ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گھر والے عزت کرنا بند کر دیں اور دوسروں سے عزت سلب کرنے کی تمنا اگر ہو جائے۔بلدیانی الیکشن میں عزت و مرتبہ حاصل کرنے کے بعد پھر جو حال احوال ہوتا ہے اس کی حالت ایمرجنسی وارڈ کے عزت دار ملازمت ہی جانتے ہیں بلدیاتی انتخابات کے ساتھ دہشت گردی کے انتخابات بھی پھر وارڈ ہو گئے ہیں اب دونوں کے درمیان مقابلہ ہو سکتا ہے۔

دہشت گردی اور الیکشن گردی میں کون آگے ہوتا ہے یہ تو وقت اور حالات کی گردش سے پتہ چلتا ہے۔
مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر نے بھی ریفرنس کے خلاف الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور نواز شریف کو بتا دیا ہے کہ جو الزامات اور سیکنڈلز اس کے خلاف لگائے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اور قانون کی مدد بھی طلب کرلی ہے نہ صرف یہ بلکہ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے خلاف ریفرنس تیار کر لئے ہیں دیکھیں اب ریفرنس الیکشن میں بازی کس کے ہاتھ آتی ہے اور کون میدان چھوڑ کر بھاگتا ہے لیکن یہ ہے کہ دونوں طرف سے ریفرنس کو بوچھاڑ سے عوام کے خیال میں یہ حمام اب کیسا ہوتا ہے اور اس حمام سے ان کا مطلب اور تشریح کیاہے۔

سیاست کا وطیرہ ہے کہ ایک دوسرے لیڈروں حزب اقتدار اور حزب اختلاف پر کیچڑ اچھالا جائے لیکن خیال یہ رکھا جائے کہ کیچڑ اتنا پتلا نہ ہو کہ ایک دوسرے کے کپڑے گندے ہو جائیں اور پھر کسی دھوبی کی خدمات لینا پڑیں۔
بات بلدیات کی ہو رہی تھی جماعتی بنیادوں پر الیکشن لڑنے سے ایک بار پھر دھاندلی اور پولیس کے ذریعہ نتائج برآمد ہونے کی توقع ممکن ہے جس کی طرف بے نظیر بھٹو نے بھی اشارہ کیا ہے ضروری ہے الیکشن کا ملتوی ہونا،جماعتی بنیادوں پر الیکشن کروانے کا فیصلہ اس کے پیچھے کیا راز ہیں۔الیکشن میں چیئرمین شپ کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع ہو گئے ہیں۔

Your Thoughts and Comments