Behs O Takraar

بحث وتکرار

بدھ 26 اگست 2015

سرسید احمد خان:
جب کتے آپس میں میں مل کر بیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بری نگاہ سے آنکھیں بد ل بدل کر دیکھنا شروع کرتے ہیں ۔ پھر تھوڑی تھوڑی گونجیلی آواز ان کے نتھنوں سے نکلنے لگتی ہے ۔ پھر تھوڑا سا جبڑا کھلتا ہے اور دانت دکھائی دینے لگتے ہیں ، اور حلق سے آواز نکلنی شروع ہوجاتی ہے پھر باچھیں چر کر کانوں سے جالگتی ہیں اور ناک سمٹ کر ماتھے پر چڑھ جاتی ہے ۔

ڈاڑھوں تک دانت باہر نکل آتے ہیں ۔ منہ سے جھاگ نکل پڑتے ہیں ‘ اور نحیف آواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ، اور ایک دوسرے سے چمٹ جاتے ہیں ۔ اس کا ہاتھ اس کے گلے میں اور اس کی ٹانگ اس کی کمر میں ‘ اس کا کان اس کے منہ میں اور اس کا ٹینٹوااس کے جبڑے میں اس نے اس کو کاٹااور اس نے اس کو پچھاڑ کر بھنبھوڑا جو کمزور ہوا دم دبا کر بھاگ نکلا ۔

(جاری ہے)


نامہذب آدمیوں کی مجلس میں بھی آپس میں اسی طرح تکرار ہوتی ہے ۔

پہلے صاحب سلامت کر کے آپس میں مل بیٹھتے ہیں ۔ پھر دھیمی دھیمی بات چیت شروع ہو جاتی ہے ۔ ایک کوئی بات کرتا ہے ۔ دوسرا بولتا ہے واہ یوں نہیں کہیں وہ کہتا ہے ہے واہ تم کیا جانو وہ بولتا ہے تم کیا جانو دونوں کی نگاہ بدل جاتی ہے ۔ تیوری چڑھ جاتی ہے رخ بدل جاتا ہے ۔ آنکھیں ڈراؤنی ہوجاتی ہیں ۔ باچھیں چر جاتی ہیں ۔ دانت نکل پڑتے ہیں تھوک اڑنے لگتا ہے ۔

باچھوں تک کف بھر آتے ہیں ۔ سانس جلدی چلتا ہے ۔ رگیں تن جاتی ہیں ۔ آنکھوں ، ناک ، بھوں ، ہاتھ عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگتے ہیں ۔ نحیف نحیف آوازیں نکلنے لگتی ہیں ۔ آستین چڑھا ‘ ہاتھ پھیلا اس کی گردن اس کے ہاتھ میں اور اس کی ڈاڑھی اس کی مٹھی میں لپاڈگی ہونے لگتی ہے ۔ کسی نے بیچ بچاؤ کرکے چھڑا دیا تو غراتے ہوئے ایک ادھر چلا گیا اور ایک ادھر اور اگر کوئی بیچ بچاؤ کرنے والا نہ ہوا تو کمزور نے پٹ کر کپڑے جھاڑتے سر سہلاتے اپنی راہ لی۔


جس قدر تہذیب میں ترقی ہوتی ہے ۔ اسی قدر تکرار میں کمی ہوتی ہے ۔ کہیں غرفش ہوکر رہ جاتی ہے کہیں توں تکار تک نوبت آجاتی ہے ۔ کہیں آنکھیں بدلنے اور ناک چڑھانے اور جلدی جلدی سانس چلنے پر خیر گرز جاتی ہے ۔ مگر ان سب میں کسی نہ کسی قدر کتوں کی مجلس کا اثر پایا جاتا ہے ۔ پس انسان پر لازم ہے کہ اپنے دوستوں سے کتوں کی طرح بحث وتکرار کرنے سے پرہیز کرے ۔


انسانوں میں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے اور اس کے پرکھنے کے لیے بحث ومباحثہ کسوٹی ہے اور اگر سچ پوچھو تو بے مباحثہ اور دل لگی کے آپس میں دوستوں کی مجلس بھی پھیکی ہے مگر ہمیشہ مباحثہ اور تکرار میں تہذیب وشائستگی محبت اور دوستی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے ۔
پس اے میرے عزیز ہم وطنو ! جب تم کو کسی کے برخلاف کوئی بات کہنی ہو یا کسی کی بات کی تردید کا ارادہ کرو تو خوش اخلاقی اور تہذیب کو ہاتھ سے مت جانے دو ۔

اگر ایک ہی مجلس میں دوبدوبات کرتے ہوتو اور بھی زیادہ نرمی اختیار کرو ۔ چہرہ ‘ لہجہ ‘ آواز ‘ وضع قطع لفظ اس طرح رکھو جس سے تہذیب اور شرافت ظاہر ہو ۔ مگر بناوٹ بھی نہ پائی جائے ۔ تردیدی گفتگو کے ساتھ ہمیشہ سادگی سے معذرت کا لفظ استعمال کرو ۔ مثلاََ یہ کہ میری سمجھ میں نہیں آیا شاید مجھے دھوکہ ہوایا میں غلط سمجھا ۔ بات عجیب مگر آپ کے فرمانے سے باور کرتا ہوں ۔

جب دوتین دفعہ بات کا الٹ پھیرا ہو اور کوئی اپنی رائے کو نہ بدلے تو زیادہ تکرارمت کرو ۔ یہ کہہ کر میں اس بات پھر سوچوں گا یا اس پر پھر خیال کروں گا ۔ جھگڑے کو کچھ ہنسی خوشی دوستی کی باتیں کہہ کر ختم کرو ۔ دوستی کی باتوں میں اپنے دوست کو یقین دلاؤ کہ اس دوتین دفعہ کی الٹ پھیرسے تمہارے دل میں کچھ کدورت نہیں آئی ہے اور نہ تمہارا مطلب باتوں کی الٹ پھیرسے اپنے دوست کو کچھ تکلیف دینے کا تھا کیونکہ جھگڑا یا شبہ زیادہ دنوں تک رہنے سے دونوں کی محبت میں کمی ہوجاتی ہے اور رفتہ رفتہ دوستی ٹوٹ جاتی ہے اور ایسی عزیز چیز ( جیسے کہ دوستی ) ہاتھ سے جاتی رہتی ہے ۔


جبکہ تم مجلس میں ہوجہاں مختلف رائے کے آدمی ہوئے ہیں تو جہاں تک ممکن ہو جھگڑے تکرار اور مباحثہ کو مت داخل ہونے دو کیونکہ جب تقریر بڑھ جاتی ہے تو دونوں کو ناراض کر دیتی ہے ۔ جب دیکھو کہ تقریر ہوتی جارہی ہے اور تیزی اور زور سے تقریر ہونے لگی ہے تو جس قدر جلد ممکن ہو اس کو ختم کرو اور آپس میں ہنسی خوشی مذاق کی باتوں سے دل کو ٹھنڈا کو لو ۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے ہم وطن اس بات پر غور کریں کہ ان مجلسوں میں آپس کے مباحثہ اور تکرار کا انجام کیا ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments