Beizzati Proof

بے عزتی پروف

ہفتہ مارچ

Beizzati Proof
 کرنل ضیاء شہزاد
فوج میں نیند، کھانے اور بے عزتی کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔ خصوصاً بے عزتی کی تو مقدار اور دورانیے کا بھی تعین نہیں کیاجاسکتا۔ فوج میں کامیاب زندگی گزارنے کے لئے کافی حدتک ” بے عزتی پروف “ ہونا لازمی ہے۔ ہمارے ایک سینیئر فرمایا کرتے تھے کہ بے عزتی کے دوران یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ آپ کی نہیں بلکہ آپ کے ہمسائے کی ہورہی ہے۔

ایک صوبے دار میجر صاحب کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آن پہنچا تو ان کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیاگیا۔ تمام افسران نے باری باری ان کی خدمات کو سراہا اور مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ آخر میں موصوف کو اظہار خیال کی دعوت دی ہوگئی تو وہ یوں گویا ہوئے: ” عزیزو، آج مجھے جوتھوڑی بہت عزت دی جارہی ہے اس کے حصول کے لیے میں نے مسلسل تین سال بے عزتی برداشت کی ہے ۔

(جاری ہے)


یہ 1996ء کے اوائل کا ذکر ہے۔ ہماری یونٹ ان دنوں نوشہرہ کی سنگلاخ چٹانوں میں ایک طویل جنگی مشق میں مصروف عمل تھی۔ چل سوچل کا عالم تھا۔ دن میں دو تین مرتبہ ایک جگہ سے چل کر دوسری جگہ پڑاؤ تو گویا معمول کی بات تھی۔ ان دنوں جی پی ایس وغیرہ کا تو تصور بھی محال تھا، خالم خولی نقشہ دیکھ کر ہی کام چلایا جاتا تھا۔ ایسے میں مقررہ وقت پر مطلوبہ مقام تک پہنچنا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوا کرتا تھا۔

دیئے گئے احکامات کے مطابق یونٹ کو ایک سے دوسری جگہ تک پہنچانا ٹوآئی سی کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ ایک روز ہم ٹو آئی سی کی سرکردگی میں یونٹ کا قافلہ لے کر ایک نئی منزل کی جانب گامزن تھے۔ نقشہ ٹو آئی سی کے سامنے تھا جس کی روشنی میں وہ ہم سب کی رہنمائی کررہے تھے۔
مقررہ وقت گزرنے کے باوجود منزل کا نام ونشان نظر نہیں آرہا تھا۔ کافی دیر بھٹکنے کے بعد ٹوآئی سی نے تھک ہار کر ایک جگہ یونٹ کو پڑاؤ ڈالنے کا حکم صادر کردیا۔

ابھی سامان کھلنے بھی نہ پایا تھا کہ کمانڈر سر پر پہنچ گئے۔ انہوں نے نقشہ دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیا کیونکہ یونٹ منزل مقصود سے ابھی چار کلومیٹر کی دوری پر تھی۔ اس کے بعد بے عزتی کا ایک طویل دور چلاجس میں ہم سب کو نااہلی کے کوہ ہمالیہ سے تشبیہ دینے کے ساتھ ساتھ فوج میں ہمارے انتخاب اور تربیت پرسنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ آخر میں کمانڈر نے کڑکتی ہوئی آواز میں حکم دیا کہ آپ سب فوراً سے پہلے یہاں سے کوچ کریں اور مطلوبہ مقام پر پہنچ کر مجھے اطلاع دیں۔


اس کے بعد خاموشی کا ایک مختصر وقفہ آیا جسے ٹوآئی سی کی منحنی سی آواز نے توڑا: ”سر، پہلے ایک ایک کپ چائے نہ ہوجائے۔ “ اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ اس مرتبہ کمانڈر نے جوشاندار ” عزت افزائی “ فرمائی اس کی تفصیل بیان کرنے کی نہ تو ہمارے اندر ہمت ہے اور نہ ہی آپ اسے سننے کی تاب لاسکیں گے۔
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

Your Thoughts and Comments