Bureaucracy Bamuqabla Pehelwan Cracy

بیورو کریسی بمقابلہ پہلوان کریسی

پیر ستمبر

Bureaucracy Bamuqabla Pehelwan Cracy
سید عارف نوناری
آمریت میں بادشاہ کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں جمہوریت میں وزیراعظم کے بعد ڈپٹی کمشنر کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں سیاست دان سے پوچھا جائے کہ وہ بادشاہ بننا پسند کرے گا یا ڈپٹی کمشنر تو سیاست دان عقلمندی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے بھی ڈپٹی کمشنر بنے گا حالانکہ ممبر صوبائی اسمبلی بننا آسان ہے ڈپٹی کمشنر بننے کے لئے پبلک سروس کمیشن سے کمیشن اور اجازت نامہ لینا ضروری ہے پبلک سروس کمیشن سے اجازت لینا آسان ہے لیکن اجازت کے بعد امتحان میں کامیاب اور پھر انٹرویو سے گزرنا ایسا ہے جیسے قیامت کے دن گناہ گار پل صراط عبور کرنے کے لئے کسی سے مدد کی بھیک مانگتے ہیں لیکن ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا پبلک سروس کمیشن میں امداد باہمی کے تعاون سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے اب سیاست دانوں نے پہلوانوں کے اکھاڑوں کے ساتھ ٹھیکہ کر لیا ہے اور وہاں بیورو کریسی کے ساتھ کشتی کرنے کے لئے داؤ پیچ سیکھتے ہیں بعض بیورو کریٹ تو ان پہلوانوں کے اکھاڑوں سے بھی ٹھیکہ کر لیتے ہیں کسی نے پوچھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور کون ہے تو جواب ملا کہ خدا کے بعد بیورو کریٹ سپر طاقت ہیں اسی لئے اب ڈاکٹر انجینئر چھوڑ کر بی اے کے بعد طلباء پی ایم ایس یا سی ایس ایس کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)


 انہیں ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بننا ہمارے ایک دوست نے بڑی کوشش کی کہ وہ سی ایس ایس آفیسر بن جائے اس کو اپنے طلباء کی دعائیں لگ جاتی تھیں اب طلباء کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ وہ 10سال پروفیسر کے بعد مجسٹریٹ 10سال کے لئے ہو گیا ہے مقابلے کے امتحان کا طریقہ 4 سو سال قبل اٹلی اور روم نے نکال تو دیا لیکن اگر ان کومعلوم ہوتا کہ یہ طریقہ اتنا طاقتور ہو جائے گا تو وہ حرامی بچے کی طرح اسے بھی گندے گٹر میں پھینک دیتے لیکن گٹر میں پھینکنے سے معاشرہ گندہ ہو جاتا عام آدمی اور بیورو کریسی میں فرق تو صرف تعلیم کا اور سی ایس ایس کا ہے انہیں انسانیت سے خارج کرنا بھی تو درست نہیں ہے مقابلہ کا امتحان پاس کرنا تو قسمت کی بات ہے لیکن یہ کہنا بھی اعزاز ہے کہ مقابلہ کا امتحان دینا ہے یا تیاری ہو رہی ہے بعض رشتے تو اتنے پر ہی طے ہو جاتے ہیں بیورو کریسی کی اپنی حرکات اور اپنی برکات ہوتی ہیں ان کی حرکات حکومت تر برداشت کرتی ہی ہے۔


 لیکن برکات کو برداشت نہیں کرتی نواز شریف نے احتساب کے ذریعہ اب ان کی برکات کا حساب کتاب لینا شروع کر دیا ہے جیسے کہتے ہیں کہ بیورو کریٹ بیورو کریٹ کو جنم دیتا ہے اور یہ وارثت کسی اور خاندان میں منتقل ہو جائے تو پھر کتے کے کاٹنے کی طرح ناف پر 34 انجکشن لگانے پڑتے ہیں لہٰذا غریب خاندان کے لئے یہ علاقہ ممنوع ہے بیورو کریسی کے اپنے اوصاف ہوتے ہیں جس طرح ٹیچرز کے اوصاف علم والوں کے اوصاف،سیاست دانوں کے اوصاف لیکن یہ لوگ ہوتے با وصف ہیں کیونکہ جتنی کم چولیں یہ مارتے ہیں اوصاف کے حامل افراد نہیں مارتے کسی نے پوچھا کہ ذہین آدمی کون ہوتے ہیں تو جواب ملا بیورو کریٹ لیکن پبلک سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد ارسطور اور افلاطون نے بھی ان ذہین افراد کا ذکر اپنے فلسفہ سیاست میں کیا اس نے بھی ذہین افراد کو سیاست دان افواج کے آفسران اور بیورو کریٹ کو ٹھہرایا افلاطون خود بیورو کریٹ تو نہ بن سکا البتہ ان کے لئے تجویز کرتا بنا۔


مقابلہ کے امتحان کے معیارات مقرر کرتے وقت حکومت نے پہلوانوں سے مشورے لئے ہوتے ہیں نصاب بھی پہلوانوں نے داؤ پیچ کے ذریعہ ترتیب دیا ہو تا ہے پہلوانوں کے اس اکھاڑے میں کشتی میں ہیر پھیر کے کلیے بھی آزمائے جاتے ہیں ہمیں بھی بیورو کریٹ بننے کا بہت شوق ہے ہم نے اور بھی بہت شوق پالے ہیں لیکن اپنے تمام ذوق کو بد ذوق کرنے کے بعد یہ ذوق پورا کر رہے ہیں مقابلہ کے امتحانات میں کتنے فیصد دھاندلیا ہوتی ہیں اور ان دھاندلیوں کے طریقے کیا ہیں ان طریقوں کے لئے سودے بازی کے بھی طریقے آزمائے جاتے ہیں جہاں پورا معاشرہ رشوت اور سفارش کی لپیٹ میں آگیا ہے وہاں پی ایس سی بھی اس سے محفوظ نہیں رہا پنجاب پبلک سروس کمیشن اور فیڈرل کمیشن کے زیر اہتمام امتحانات پر سے بھی اب اعتماد اٹھ گیا ہے کیونکہ 30فیصد سفارشات چلتی ہیں فیڈرل اور پنجاب پبلک سروس کمیشن میں ایسے گروپ متحرک ہیں جو یہ کام ایجنٹ حضرات کے ذریعہ کرتے ہیں حکومت بھی باخبر ہے لیکن ایسے ادارے جہاں صرف غریب اپنی قابلیت اور محنت سے کوئی مقام یا سروس حاصل کر سکتا تھا اب انصاف کی کرن اس کے لئے وہاں سے بھی ختم ہو گئی ہے پرچوں کا پتہ چل جاتا ہے کہ پرچے کہاں ہیں؟پھر وہاں سے نمبر لگوائے جاتے ہیں ہر پو سٹ کے ریٹ مقرر ہیں اب یہ ادارے جو صدر اور گورنر کے انڈر ہیں پہلوانوں کے اکھاڑے بن گئے ہیں بات ہو رہی تھی بیورو کریسی کی تو اصل میں بیورو کریٹ یہاں سے بن کر ہی نکلتے ہیں انٹرویو کے لئے آسامی کے مطابق ریٹ لسٹیں لگا رکھی ہیں۔

بیورو کریٹ میں ایک خوبی جو ہمیں بہت پسند ہے کہ غریب افراد کو اپنے قریب پھڑ کنے نہیں دیتے اور غریبوں کے ہمدرد ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں ۔
دوسرے ممالک کی بیورو کریسی میں ہو سکتا ہے کہ کچھ فرق ہو لیکن ایسا ناممکن ہے کیونکہ جہاں یہ اتنے سارے ہوتے ہیں وہاں ان میں اختلاف بھی مشکل سے ہوتا ہے ثقافت کی روایات ایک جیسی ہوتی ہیں پھر یہ روایات کے پکے ہوتے ہیں اگر کسی نے بیورو کریٹ بننا ہوتو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ شادی کر لے یا سابقہ بیوی کو طلاق دے دے کیونکہ شادی کرنے سے ایک تو شادی شدہ ہو جاتا ہے اور دوسرا بیورو کریٹ لہٰذا ایک تیر سے دو شکار ہو جاتے ہیں یا پھر اپنے خیالات میں تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے تو پھر وہ پہلوان بننے کے بعد اس صف میں کھڑا ہو جاتا ہے البتہ ہمیں اگر بیورو کریٹ بننے کا شوق ہوتا تو ہم ضرور کسی نجومی سے رابطہ کرتے یا شادی کرنے کی سوچتے بیورو کریسی اور پہلوان کریسی میں فرق نہیں البتہ دونوں کا مطالعہ ضروری ہے۔

حکومتوں کی تبدیلیاں اور عمران خان کی تبدیلی میں بھی بیورو کریٹ اپنی ادائیں دکھا رہے ہیں۔ریاست،عدلیہ،سیاست اور پارلیمنٹ کے علاوہ مضبوط طبقہ بیورو کریٹ کا ہے ۔جو حکومتوں کی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن خود 60سال کی عمر کے بعد تبدیلی یعنی ریٹائرمنٹ کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ورنہ اس سے قبل ان کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں رہتا۔

Your Thoughts and Comments