Chacha Chakkan Ne Aik Khat Likha

چچا چھکن نے ایک خط لکھا

جمعہ 18 مارچ 2022

سید امتیاز علی تاج
وثوق سے یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ چچا چھکن جب کسی کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو اس وقت ان کی ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہے!خود نمائی کے شوق سے ناچار ہوتے ہیں یا محض دستگیری خلق کا جذبہ دامن گیر ہوتا ہے۔ذرا دیر کو مان لیا کہ دونوں ہی باتیں ہوتی ہیں۔خود نمائی کا شوق بھی اور دستگیری خلق کا خیال بھی۔

تو میں کہتا ہوں ایک بار یہ ہونا ممکن ہے۔دو بار ہونا ممکن ہے۔ایک دو بار نہ سہی دس بیس بار سہی۔پر آخر دنیا میں تجربہ بھی تو کوئی شے ہے۔کبھی تو خیال آئے کہ اے شخص!بیٹھے بٹھائے تجھے جو مُلہار اُٹھا کرتا ہے۔تو تُو نے آج تک کوئی کام سلیقے سے نمٹایا بھی؟کہیں حاصل بھی ہوئی سرخروئی؟کسی نے داد بھی دی تیری کارروائی کی؟چارہ گری کا دعویٰ وہ کرے جسے اپنی تجربہ کاری پر تکیہ ہو اور جو یہ نہیں تو کیوں ایسی بات کرے جس سے کالی ہانڈی سر پر دھری جائے۔

(جاری ہے)


اب آج ہی کا واقعہ ہے۔کہ چچی کو ایک دعوت نامے کا جواب لکھنے کی ضرورت پیش آئی۔اتفاق سے اُن کا ہاتھ تھا رُکا ہوا،چچا چھکن حسب معمول فارغ بیٹھے تھے،جواب مختصر سا لکھنا تھا،کام بھی جلدی کا تھا،پھر کیا امر اُنہیں اپنی خدمات پیش کرنے میں مانع ہو سکتا تھا؟چنانچہ لکھا آپ نے جواب۔اس کے لئے کیا کچھ اہتمام ہوا،گھر میں کیسا ہُلڑ مچا،اور پھر کیا نتیجہ نکلا،اس کی داستان سننے سے تعلق رکھتی ہے۔


بات یوں ہوئی کہ صبح کے وقت چچی دالان میں چارپائی پر بیٹھی بچوں کو چائے پلا رہی تھیں،چچا چائے سے فارغ ہو کر صحن میں کرسی پر اُکڑوں بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ایک گائے خریدنے کی ضرورت اور اس کے متوقع فوائد و نقصانات کے انفرادی اور اجتماعی نتائج و عواقب کے متعلق چچی کو معلومات بخشی جا رہی تھیں،اتنے میں باہر دروازے پر کسی نے آواز دی۔بُندو بھاگتا ہوا گیا اور ایک خط لے کر واپس آیا۔

چچی پرچ سے چھٹن کو چائے پلا رہی تھیں،خط لا کر ان کے قریب رکھ دیا۔
اتنے پرچ کی چائے ختم ہوا اور چچی خط اُٹھائیں چچا نے دس مرتبہ پوچھ ڈالا۔”کس کا خط ہے؟کہاں سے آیا ہے؟کس نے بھیجا ہے؟کیا بات ہے؟“
چچی چڑ گئیں۔”توبہ ہے!کھولنے پائی نہیں۔اور سوالات کا تانتا باندھ دیا۔مجھے غیب کا علم تو آتا نہیں کہ دیکھے بغیر بتاؤں کس کا خط ہے؟“
چچا کچھ خفیف سے ہو گئے۔

”بھلا صاحب خطا ہوئی کہ پوچھا ہماری بلا سے کسی کا ہو۔“یہ کہہ کر بے نیازی سے سر موڑ جلد جلد حقے کے کش لینے لگے۔
بُندو نے کہا،”بیگم صاحب آدمی جواب کے انتظار میں کھڑا ہے۔“یہ سُن کر چچا سے نہ بیٹھا گیا،چار پانچ کش لے کر اُٹھ کھڑے ہوئے،کُرتے میں ہاتھ ڈال پیٹ کھجاتے رہے،پھر بے تکلفی کے انداز میں ٹہلتے ہوئے باہر نکل گئے۔
چند منٹ بعد واپس آئے،کچھ دیر بے ترتیبی سے صحن میں ٹہلے،منتظر تھے کہ شاید چچی مخاطب کریں،آخر نہ رہا گیا تو خود ہی پوچھا۔

”کیا لکھا ہے منصرم صاحب کی بیوی نے؟“
چچی نے چائے کی پرچ چھٹن کے منہ سے لگاتے ہوئے بے پروائی سے کہا۔”رات کھانے پر بلایا ہے۔“
چچا کا احتراز و تامل رخصت ہو گیا۔”کیا بات ہے کوئی تقریب؟“
چچی نے کس قدر سرسری انداز میں کہا۔”بات کیا ہوتی میر منشی صاحب کی بیوی مجھ سے ملنا چاہتی تھیں،اُنہیں اور مجھے دونوں کو کھانے پر بُلا لیا ہے۔


شاید مزید اطمینان حاصل کرنے کو چچا بولے۔”تو گویا زنانہ ضیافت ہے!“پھر غالباً خیال آیا کہ بیوی کا کہیں مدعو کیا جانا ایک طرح میاں ہی کی دلعزیزی اور قدر و وقعت کا اعتراف ہے،چنانچہ اس جذبے کے ماتحت منصروم صاحب کی بیوی کی تعریف میں رطب اللسان ہو گئے۔”بہت معقول بیوی ہیں،ایسی ملنسار بیویاں کہاں نظر آتی ہیں آج کل،ضرور جاؤ ضیافت میں بلکہ کوئی موقع ہو تو انہیں بھی اپنے ہاں مدعو کرو۔

“ساتھ ہی ایک مشورہ بھی فیصلے کی صورت میں پیش کیا۔”بچے تو جائیں ہی گے ساتھ۔“
چچی نے کچھ بگڑ کر آہستہ سے کہا۔”ہمسایوں کو بھی نہ لیتی جاؤں۔“
چچا کو یہ جواب ناگوار نہ گزرا۔ایک تو چچی بولی آہستہ سے تھیں،دوسرے کچھ زیادہ عام فہم بات نہ تھی،بہرحال پیٹ سہلاتے ہوئے مڑنے لگے۔پھر رُک گئے،کہا۔”اُن کا ملازم جواب کا تقاضا کر رہا تھا۔“
چچی نے جواب میں چھٹن کو مخاطب کیا۔

”کم بخت خدا کے لئے کہیں ختم بھی کر چُک چائے۔کھیل کیے جا رہا ہے،کس وقت سے پرچ پیالی لیے بیٹھی ہوں۔نہ خود پینی نصیب ہوئی ہے،نہ ابھی نوکروں کو ملی ہے۔ادھر چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے،ادھر باہر سے جواب کا تقاضا چلا آ رہا ہے۔“
آپ جانئے،ایسا موقع ہو اور چچا اپنی خدمات پیش کرنے سے رُک جائیں۔بولے”ہم لکھ دیں جواب؟“
چچی بولیں۔”نہ بس آپ معاف رکھیے۔

فارغ ہو کر میں آپ ہی لکھ لوں گی۔“
روکے جانے کا باعث چچا کیونکر بوجھیں،بولے”کیا معنی،ہم خط لکھنا نہیں جانتے؟“
چچی نے چپ ہی ہو رہنا مناسب سمجھا،چچا کی کچھ تسکین نہ ہوئی۔
”اب کوئی فارغ خطی تو لکھنی نہیں،دعوت منظور کرنے ہی کا خط لکھنا ہے نا؟تو اس کا لکھنا ایسی کون سی جوئے شیر لانا ہے۔“
اتنے میں چھٹن نے جو جلدی سے چائے کا گھونٹ بھرا۔

اسے اُچھو آ گیا،چائے کی کلی چچی کے کپڑوں پر پڑی۔وہ انڈیل رہی تھیں پرچ میں چائے اُن کا ہاتھ ہل گیا،ساری کی ساری چائے کپڑوں پر آن پڑی۔چچی “ہا نامُراد!“کہتی ہوئی تولیے سے کپڑے پونچھنے لگیں۔ادھر باہر سے آواز آئی”کیوں صاحب ملے گا جواب؟“چچی نے گھبرا کر چچا سے کہہ دیا”اچھا پھر اب تم ہی یہ لکھ دو کہ آ جاؤں گی۔“
اب کیا تھا،چچا کو منہ مانگی مراد ملی،خط و کتابت کے متعلق ضروری سامان فراہم کیے جانے کے احکام صادر ہونے لگے۔

”بُندو میرا بھائی ذرا لانا تو خط لکھنے کا سامان جھپاک سے کیا کیا لائے گا بھلا؟قلم دوات اور کاغذ۔شاباش،مگر کون سے کاغذ؟آسمانی رنگ کے بڑھیا،رُول دار،وہ جن کی کاپی سی ہے۔ہاں ذرا دکھانا تو اپنی چال۔اور سُنیو․․․․چلا گیا؟لفافہ بھی تو چاہیے ہو گا۔ارے بھئی!کوئی لفافہ بھی تو لاؤ۔تُو جا کر لائیو مُودے،پر نیلے ہی رنگ کا ہو لفافہ۔صندوقچے میں رکھے ہیں،لکڑی کے صندوقچے میں،الماری میں ہو گا صندوقچہ،ہری الماری میں۔

سُن لیا نا؟ذرا پھُرتی سے۔“
یہ تو چچا کی عادت ہی نہ ٹھہری کہ ایک مرتبہ یاد کرکے کہہ دیں،کیا کیا چیز چاہیے،اِدھر مُودا گیا،اُدھر جاذب یاد آ گیا۔“ارے ہاں اور جاذب بھی تو لانا ہے بھئی جاذب!جاذب!کوئی نہیں سُنتا۔یہ اما کہاں گیا؟او امامی۔ابے او امامی!دیکھیں اس بدمعاش کی حرکتیں۔بس کام نکلنے کی دیر ہے اور یہ غائب۔کام کا نہ کاج کا دُشمن اناج کا۔

ذرا تم چلے جاتے میاں للّو۔وہ جو ہری کاپی ہے نسخوں کی،وہ جس میں ہم نسخے نہیں لکھا کرتے؟عجب کوڑھ مغز ہو،بھئی کیمیا کے نسخے،لاحول ولا،میاں کاپی،ہری کاپی،نسخوں والی۔خیر اب تم نے دیکھی ہے یا نہیں،وہ ہمارے تکیے کے نیچے رکھی ہے،اس میں ایک جاذب ہے وہ نکال لاؤ۔اور دیکھنا۔اماں سُنو!ار بھئی للّو!ارے میاں للّو!او للّو کے بچے۔عجب حالت ہے ان لوگوں کی۔

بس ایسے گھبرا جاتے ہیں۔جیسے ریل ہی تو پکڑنی ہے۔ودو تم جا کر کہو جاذب نہ لائیں کاپی ہی لے آئیں۔آخر خط بھی تو کسی چیز پر رکھ کر لکھا جائے گا۔ہاتھ پر رکھ کر تو میں لکھنے سے رہا۔اور سُننا میری بات۔وہ کہی ہمارا چشمہ بھی رکھا ہو گا،وہ بھی ڈھونڈتے لانا۔“
لیجئے صاحب ایک دو منٹ میں گھر کا گھر مصروف ہو گیا۔ایک کو کوئی چیز مل گئی،دوسرا خالی ہاتھ چلا آ رہا ہے،کہ فلاں چیز نہیں ملتی۔

کوئی کہتا ہے کہ فلاں چیز مقفل ہے،کنجیوں کا گچھا ڈھونڈا جا رہا ہے،چچا بگڑ رہے ہیں مونچھوں سے چنگاڑیاں نکل رہی ہیں۔
”آنکھیں ہوں تو چیز سجھائی دے۔اور پھر یہ بھی تو نہیں کہ ہم یہاں کھڑے ہیں۔ہم سے آ کر کہیں کہ صاحب فلاں چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں ہے،کہاں ہو گی۔سُراغرسان کے بچے خود تلاش کرکے رہیں گے۔پوچھنے میں تو ان کی سبکی ہوتی ہے آن پر حرف آتا ہے۔

پھر اب کیوں آئے ہو؟ڈھونڈو خود جا کر۔اپنی جگہ پر چیز نہیں تو تم ہی بدمعاشوں نے کہی کی ہو گی غائب۔“
خدا خدا کرکے تمام چیزیں جمع ہوئیں،چچا نے چشمہ لگایا،کرسی پر براجمان ہوئے ،لڑکے چیزیں لیے اردگرد کھڑے ہو گئے۔کاغذ سنبھالا،کاپی نیچے رکھی،قلم ہاتھ میں لیا،اب دیکھتے ہیں تو اُس کا نب ندارد!“ہیں اور نب کہاں ہے؟لاحول ولا قوة اِلا باللہ،ابے اندھے اس سے لکھوں گا خط؟ابے اس سے لکھنا ہوتا تو میں اپنی انگلی سے نہ لکھ لیتا؟تجھے قلم لانے کو کیوں کہتا؟مگر یہ اُتارا کس نے اس کا نب؟اس بد تمیزی اور بد تہذیبی کے معنی کیا؟میں آج معلوم کرکے رہوں گا،یہ حرکت کس نامعقول کی ہے۔


باہر سے آواز آئی۔”اجی صاحب جواب کے لئے کھڑے ہیں۔“
چچی یہ سب کیفیت دیکھ رہی تھیں اور دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہی تھیں،آواز سن کر نہ رہا گیا،بولیں”خدا کے لئے اب تم اس جرح کو بند کرو اور لکھنا ہے تو لکھ دو۔وہ غریب باہر کھڑا سوکھ رہا ہے۔یہ قلم نہیں تو میرا قلم موجود ہے،جا بنو میرا قلم لا دے۔“
چچا اس وقت جوش میں تھے اور بزعمِ خویش محض تکلیف پہنچنے کے خیال سے نہیں بلکہ ایک اصول کی خاطر بات کو طول دے رہے تھے،اس وقت چچی پر بھی برس پڑے”تمہاری ہی شہ پا کر تو نوکروں اور بچوں کی عادتیں بگڑ رہی ہیں۔

یہ ضرور ان ہی میں سے کسی کی حرکت ہے۔کوئی بچہ یا ملازم ہمارے اس قلم سے تفریح کرتا رہا ہے۔اور اسی نے اس کا نب ضائع کیا ہے۔قلم کو سب غور سے دیکھو اور سچ سچ بتاؤ کہ یہ حرکت کس کی ہے؟“
اتنے میں بنو چچی کا قلم لے آئی۔چچا کا آخری فقرہ سُن کر اس نے قلم پر نگاہ ڈالی تو بولی۔”لال قلم!ابا میاں کل آپ ہی نے تو ازار بند ڈالنے کو اس کا نب اُتارا تھا۔


چچا نے گھور کر بنو کو دیکھا،قلم کو دیکھا،کچھ سوچا،کھنکار کر گلا صاف کیا،کرسی پر پینترا بدلا۔کن انکھیوں سے چچی اماں پر نظر ڈالی،قلم بنو کے ہاتھ سے لے لیا،سر جھکا کر انگوٹھے کے ناخن پر اس کا نب پرکھنے لگے۔بولے”چلو اب اسی سے کام چل جائے گا۔“
بمقابلہ پچھلی گفتگو کی آواز کا سُر بہت مدھم تھا۔
جو لڑکا دوات لئے کھڑا تھا۔اُسے آگے بڑھنے کا حکم دیا،خط لکھنا شروع کیا۔

القاب ہی لکھا ہو گا کہ بولے۔”ہئی ہے۔یہ کیا لفظ لکھ گیا میں!“خط کا کاغذ پھاڑ ڈالا،دوسرا منگوایا ڈوبا لیا لیکن لکھتے لکھتے رُک گئے۔بہت دیر تک مضمون سوچتے رہے،آخر پھر لکھنا شروع کیا۔نب اتنی دیر میں خشک ہو چکا تھا،آپ سمجھے دوات میں سیاہی کم ہے،قلم بے تکلف دوات میں ڈال دیا۔تحریر شروع کرنے کی دیر تھی کہ سیاہی کا یہ بڑا دھبا کاغذ پر!لاحول کہہ کر اس کاغذ کو بھی پھاڑ ڈالا۔

تیسرا کاغذ منگوایا،اس پر دو تین سطریں لکھ گئے،اس کے بعد قلم روک جو کچھ لکھا تھا پڑھا،چہرے پر کچھ قبض کی سی کیفیات نمودار ہوئیں۔چچی کی طرف دیکھا،خط کو دیکھا چپکے سے پھاڑ ڈالا ہلکے سے مُودے سے کہا۔”خط کے کاغذوں کی کاپی ہی لے آ۔“
کاغذوں کی کاپی کی کاپی آ گئی اور رُقعے کا جواب بے فکری سے لکھا جانا شروع ہو گیا۔کبھی قلم کا شکوہ کہ نب درست نہیں،نیا نب ہے۔

کبھی دوات کی شکایت کہ سیاہی ٹھیک نہیں پھیکی ہے۔کبھی جاذب بُرا کہ یہ جاذب ہے یا پتنگ بنانے کا کاغذ۔ہر شکوہ ایک نیا کاغذ ضائع کرنے کی تمہید۔اسی میں پون گھنٹہ ہونے کو آ گیا۔باہر ملازم آوازوں پر آوازیں دے رہا ہے،ادھر چچی فارغ ہو چکی ہیں۔اور یہ قصہ ختم کرنے کا تقاضا کر رہی ہیں،بار بار کہہ رہی ہیں کہ خدا کے لئے تم مجھے دو قلم دوات،میں ابھی دو منٹ میں لکھے دیتی ہوں خط،مگر چچا اپنی قابلیت کی یہ توہین کیونکر برداشت کر لیں۔

سٹ پٹا گئے ہیں مگر خط لکھنے سے باز نہیں آتے،پینترے پر پینترا بدل رہے اور کاغذ پر کاغذ ردی کیے چلے جا رہے ہیں۔
”میں کیا کروں،نہ قلم ٹھکانے کا،نہ دوات درست،لکھوں اپنے سر سے؟“
ادھر یہ سب بلائیں میرے سر پر آن چڑھی ہیں۔ارے کم بختو!خدا کے لئے پرے ہٹ کر کھڑے ہو،میرا دم اُلجھنے لگا ہے۔بھان متی کا تماشہ تو ہو نہیں رہا کہ پلے پڑ رہے ہو۔

کبھی دیکھا نہیں خط کیونکر لکھا جاتا ہے؟․․․․اچھا بھئی سن لیا سن لیا،ذرا دم لو،خالی تو بیٹھے نہیں،جواب ہی لکھ رہے ہیں․․․ارے بھئی خدا کے لئے دوات اورے لاؤ۔اب میں ہر بار کرسی پر سے اُٹھ کر ڈوبا لُوں․․․․؟انہوں نے اور میرے رہے سہے حواس غائب کر دیئے ہیں۔ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتی ہیں۔نہ جانے کہاں کی عرضی نویس ہیں کہ دو منٹ میں جواب لکھ لیں گی۔

آخر دعوت منظور کرنی ہے،کچھ ٹکا سا جواب تو دینا نہیں کہ دو حرف لکھ کر قصہ نمٹا دوں․․․ار بھئی آ رہا ہے جواب تجھے کام ہے تو ہمیں کام نہیں ہے؟․․․․ہئی ہے!اے لو،اب نیچے اپنا نام لکھ گیا۔میری عمر جُروا کی طرف سے خطوں کا جواب لکھنے میں تو گزری نہیں کہ ان باتوں کا خیال رہے۔میں تھپڑ ماروں گا اگر پھر دوات پرے ہٹائی،ایک جگہ ہاتھ ہی نہیں رکھتا۔

نالائق بے ہودہ کہیں کا۔کام چور نوالہ حاضر۔“
اب تفصیل کہاں تک عرض کروں،پورے ڈیڑھ گھنٹے میں خط ختم ہوا اور اسے جلدی جلدی بند کرکے چچا نے باہر ملازم کے حوالے کیا۔اسے بھی ایک مختصر سا لیکچر پلایا۔”یوں دوسروں کے گھروں پر توائی ڈالنا بڑی بدتمیزی کی بات ہے خط لکھنا کوئی مذاق نہیں ہے۔ایسا ہی سہل کام ہوتا تو تم سر گاڑی پیڑ پہیا کرکے روزی کیوں کماتے،آج کہیں منیشی گیری نہ کر رہے ہوتے؟خیر اب زیادہ بحث کی ضرورت نہیں،تمہیں کیا معلوم تمہارے میاں لکھنے سے پہلے کے گھنٹے سوچ بچار کرتے ہیں۔


خط دے کر چچا گھر میں آئے،خوش تھے کہ دیر ہوئی تو کیا ہوا،خط لکھا تو گیا،اطمینان سے ہاتھ ملنے لگے۔چچی بھری بیٹھی تھیں۔بولیں”خالی ہاتھ ملنے سے کیا ہو گا۔صابن ملو تو انگلیوں کی سیاہی چھوٹے۔“
چچا نے انگلیوں کو دیکھا تو واقعی کالی سیاہ ہو رہی تھیں۔ابھی کچھ بولنے نہ پائے تھے کہ چچی نے ایک اور فقرہ کسا:”خیریت گزری کہ بھنگن کے آنے سے پہلے خط لکھ لیا گیا۔

ورنہ اسے بھی اطلاع دینی پڑتی کہ دوبارہ آئے،میاں نے آج ایک خط لکھا ہے۔“
چچا نے کن انکھیوں سے صحن کو دیکھا۔جس کرسی پر بیٹھ کر خط لکھا تھا،اس کے چاروں طرف ردی کاغذوں کی پڑیاں بکھری پڑی تھیں۔کچھ کہنا چاہا،مگر فقرہ منہ ہی میں رہ گیا،ان سنی کر غسل خانے میں گھس گئے،ہاتھ دھو کر مردانے میں جا بیٹھے۔بھنگن آ کر صحن صاف کر گئی تو اندر آئے،حقہ بھروایا بیٹھ کر پینے لگے۔

چچی کی باتیں دل میں کھٹک رہی تھیں،ان کی گوش گزاری کے لئے اپنے آپ کو مخاطب کرکے باتیں شروع کر دیں۔”اعتراض کرنے کو سب تیار ہیں،اس پھوہڑ گھر میں جہاں نہ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر رہتی ہے،نہ کوئی نوکر سلیقے کا موجود ہے،کوئی اس سے جلدی خط لکھ کر مجھے دکھائے تو میں جانوں۔اور خط لکھنے کا کیا ہے،خط چاہو تو منٹ بھر میں لکھ لو مگر وہ کیا خط کہ جس کا نہ املا درست نہ انشا صحیح۔

خط وہ کہ جسے لکھا جائے وہ پڑھ کر جھومنے لگے اور اسے یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھے۔“
چچی خوب جانتی ہیں کیسے موقعوں پر جلد صلح صفائی کر لینی چاہیے،معلوم تھا کہ بات جلد نہ بھلا دی تو تمام دن ایسی ہی جلی کٹی جاری رہیں گی۔بولیں”تو یہ کب کہا میں نے کہ جواب اچھا نہ لکھا گیا ہو گا؟“
بس خوش ہو گئے چچا۔وہ تو اُن کے نوکر کو جلدی پڑی تھی،ورنہ میں تمہیں پڑھ کر سناتا،تب تم داد دے سکتیں۔

رات کو دعوت پر منصرم صاحب کی بیوی خط کے متعلق کچھ کہیں تو مجھے بتا ضرور دینا،ویسے یہ چاہے اُن سے نہ کہنا کہ ہم نے لکھا تھا۔بہرحال تمہیں اختیار ہے۔“
لیکن لطف اس وقت آیا جب دوپہر کو منصرم صاحب کی بیوی کے ہاں سے پھر ایک لفافہ آیا جس میں چچا چھکن کا لکھا ہوا خط رکھا تھا اور ساتھ ہی اس مضمون کا ایک رقعہ تھا۔پیاری بہن۔شاید غلطی سے کسی اور کے نام کا خط میرے نام کے لفافے میں رکھ دیا گیا،واپس بھیجتی ہوں۔

براہ مہربانی اطلاع دیجئے کہ آپ رات کو تشریف لا سکیں گی یا نہیں؟“
چچی نے چچا کا لکھا ہوا خط پڑھا۔تو اس کی عبارت یہ تھی:
”جمیل المناقب عمیم الاحسان زاد عنا یتکم۔یہاں بفضل ایزد متعال مالامال خیریت ہے اور صحت و تندرستی آپ کی بدرگاہ مجیب الدعوات خمس الاوقات مستدعی ہوں۔صورت حال یہ کہ تلطف نامہ ساعت مسعود میں ورود ہوا ارشادِ سامی و حکم گرامی کے امتثال میں عذر کرنا بندگانِ مروت و فتوت سے کیونکر ممکن ہے۔

طمانیت کلی ہو․․․کہ وقتِ معین پر حاضری کے شرف و افتخار کا حصول مایہ ناز امتصور ہو گا
الٰہی در جہاں باشی باقبال
جواں بخت و جواں دولت جواں سال
(نمیقہ حقیر پُر تقصیر)
یہ خط آنے کے بعد چچا چھکن بار بار مختلف پیرایوں میں اپنی اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ عورتیں عموماً اور منصرم صاحب کی بیوی خصوصاً ناقص العقل اور نامعقول ہیں اور چچی کو ان کی دعوت ہر گز قبول نہ کرنی چاہیے تھی۔

Your Thoughts and Comments