Chacha Chakkan Ne Raddi Nikali

چچا چھکن نے ردّی نکالی

پیر 4 اپریل 2022

سید امتیاز علی تاج
پچھلے جمعے کا ذکر ہے،تیسرے پہر بچوں کا اُستاد اُنہیں پڑھانے کے لئے آیا تو اُس نے مُودے کے ہاتھ اندر چچی کو کہلا بھیجا کہ مردانے میں بچوں کے پڑھنے کے لئے کسی کمرے کا انتظام کر دیجئے۔وہاں ان کے لکھنے پڑھنے کا سامان بھی ٹھکانے سے رکھا رہے گا اور وہ توجہ سے اپنا کام بھی کر سکیں گے۔

آج کل آدھا آدھا گھنٹہ تو کتابیں کاپیاں تلاش کرنے میں صرف ہو جاتا ہے،پھر ڈیوڑھی میں بیٹھ کر پڑھاتا ہوں،تو بچوں کا دھیان گلی میں رہتا ہے،پڑھائی خاک نہیں ہوتی۔
چچی دالان میں بیٹھی بنو کی اوڑھنی میں لچکا ٹانک رہی تھیں،چچا چھکن چارپائی کے کھٹمل مارنے کی غرض سے صحن میں کھڑے پایوں کی چُولوں میں اُبلتا پانی ڈلوا رہے تھے اور غالباً اس اندیشے سے کہ کہیں اس کارنامے کی داد اُن کے نکتہ آفریں دماغ کی بجائے بُندو کی خدمت گزاری کے کھاتے میں نہ چلی جائے،چچی کو بار بار توجہ بھی دلاتے جاتے تھے کہ یہ بڑا نایاب اور مجرب نسخہ ہے اور جب کبھی آزمایا تیر بہدف پایا۔

(جاری ہے)

اور پھر لطف یہ کہ بغیر ادویات کے نسخہ،یعنی صرف پانی،سادہ پانی،اتنی بات کہ کھولتا ہوا،گویا تل اوٹ پہاڑ کہنا چاہیے۔
اس عالمانہ ادّعا کا جو جواب چچی کی زبان تک آتا،اس میں اُنہیں تنگ دِلی جھلکتی نظر آتی تھی،چنانچہ دل ہی دل میں کھجی ہوئی بیٹھی تھیں،بُندو نے آ کر استاد کا پیغام سنایا تو بھڑک اُٹھیں۔”میرے پاس کوئی کمرہ نہیں،جن کا گھر ہے،جنہوں نے خالی کمروں میں قفل ڈال رکھے ہیں،اُن سے کہیں۔


چچا نے پیغام تو سنا نہ تھا،جواب سن کر چونکے۔”کیا بات ہے؟کیا بات ہے؟“بُندو لوٹا لیے پانی چول میں ڈال،رہا تھا،اس کا ہاتھ پکڑ لوٹے کی ٹونٹی اوپر کر دی کہ کہیں عدم توجہی کے دوران میں کھٹمل حرام موت نہ مرتے رہیں۔
مُودے نے اُستاد کا پیغام دُہرا دیا،سن کر بولے۔”لاحول ولا قوة الا باللہ،اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کر دیا۔ارے بھئی،یہی چاہتی ہو نا کہ باہر کا کاغذات والا کمرہ خالی کر دیا جائے؟سو سیدھے سُبھاؤ یہ بات کہہ دیتیں،اس میں بھلا بگڑنے کا کون سا موقع ہے،آج ہی لو،ابھی لو،خالی ہوا جاتا ہے کمرہ۔


چچی کو بھی اپنا بگڑنا بے محل نظر آنے لگا،مصالحانہ انداز میں بولیں۔”کمرہ خالی کرنے کو کون کہتا ہے پچھلے اتوار ہی میں نے صفائی کرا کے اس میں فرش بچھوایا ہے،کاغذات الماریوں میں رکھنے ہیں،اُنہیں بھی میں نے جھاڑ پونچھ کر اوپر اوپر سے ٹھیک کر دیا تھا،اگر کمرہ کھول کر مقفل الماریوں میں ڈال دیئے جائیں تو کمرہ بخوبی کام میں آ سکتا ہے۔


ادھورے کام آپ جانیے،چچا کے سلیقے کو ہمیشہ سے ناگوار ہیں،بولے”اگر اسی بہانے الماری میں سے ردّی کاغذ نکل جائیں اور جو چیدہ چیدہ ضروری کاغذات بچیں،انہیں سنبھال کر ڈھنگ سے رکھ دیا جائے تو کچھ مضائقہ ہے؟“
چچی کا خیال نتائج کی طرف جانے کا عادی ہو چکا ہے،یہ قصہ سُن سراسیمہ سی ہو گئیں،دبی زبان سے بولیں۔”بچوں کو پڑھنے کے لئے جگہ ہی کتنی چاہیے ہے،ایک میز اور دو کرسیوں کے لئے کمرے کا ایک کونا بھی مل جائے تو بہت ہے۔


جواب میں چچا کو اپنی نفاست طبع کے اظہار کا موقع نظر آیا۔”جگہ تو یوں غسل خانے میں بھی موجود ہے،وہاں پڑھنے کو کیوں نہیں کہہ دیتیں؟بس یہ بات ہے ہندوستانیوں کی جس کی وجہ سے ان کا گھر انگریزوں کی کوٹھیوں سے مختلف معلوم ہونے لگتا ہے۔ہم لوگوں میں صفائی اور سلیقہ نہیں،ہم چاہتے ہیں کہ لشتم پشتم بس گزر ہو جائے۔“تنگ آ کر چچی کو کھلے لفظوں میں انجام کی طرف توجہ دلانی پڑی۔

”اور اگر کاغذ سارے کمرے میں پھیل گئے اور بیٹھنے کو بھی جگہ نہ رہی تو؟“
یہ بات چچا کی سمجھ میں نہ آئی۔”کاغذ پھیل گئے!یہ کیا بات ہوئی؟ردّی نکلنے سے کاغذ پھیلیں گے یا سُکڑیں گے؟“
اب اس کا جواب چچی کیا دیں،کھج کر مُودے سے مخاطب ہو گئیں۔”جا کر کہہ دے کوئی کمرہ خالی نہیں۔“
چچا حیرت کے عالم میں تھے۔”ارے بھئی کیوں خالی نہیں،یعنی بات کیا ہے؟جواب نہیں دیتیں؟میں کہتا جو ہوں کہ شام تک کمرہ خالی ہو جائے گا۔

آج اُستاد نے کہا ہے،کل شوق سے کمرے میں بیٹھ کر پڑھائے۔اور پھر میں تمہیں کوئی کام کرنے کو تھوڑا ہی کہتا ہوں،تم تو بس اتنا کرو کہ میرے پاس کسی کو آنے نہ دو،میں کاغذات دیکھ رہا ہوں اور کوئی میرے پاس آئے تو میرا دم اُلجھنے لگتا ہے۔“
چچی نے جل کر کہا۔”تم جانو تمہارا کام۔“اُٹھنے کے لئے اپنی سلائی کی چیزیں سنبھالنے لگیں،چچا نے بقیہ کھٹملوں کی جاں بخشی کا حکم صادر فرمایا،کنجیوں کا گچھا سنبھال کمرے کو روانہ ہوئے۔


کمرہ کھول ناک کی سیدھ الماریوں کا رُخ کیا،کواڑ کھولے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُوپر سے نیچے تک تمام خانے بے ترتیب کاغذوں سے ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے ہیں۔عرصے سے الماریاں کھول کر نہ دیکھی تھیں،کاغذوں کی تعداد اور حالت ذہن سے اُتر گئی تھی،اب جو اُن پر نظر ڈالی تو دل رُک گیا۔کبھی خانوں کو دیکھتے،کبھی منہ بنا بنا کر داڑھی کھجانے لگتے۔کاغذوں سے گُتھ جانے کا حوصلہ نہ پڑتا تھا۔

چچی نے جو صلاح دی تھی کہ کمرہ کھول کر قفل الماریوں میں ڈال دیئے جائیں،اب بڑی بامعنی معلوم ہو رہی تھی مگر آپ جانیے چچا بات کے پورے واقع ہوئے ہیں،چچی سے سوال و جواب ہو چکنے کے بعد بھلا یہ کہاں ممکن تھا کہ آپ ان کے کہے پر عمل کرکے اپنے وقار کو ٹھیس پہنچانا گوارا کر لیں۔خانوں پر نظر ڈال ڈال کر دل کو حوصلہ دلانے کی کوشش فرمائی۔”تو گویا ردّی کاغذات نکالنے ہیں الماریوں سے․․․․سمجھے صاحب․․․․ ردّی کاغذات․․․․بلکہ یوں کہیے کہ کام کے کاغذات الگ کرکے رکھ دینے ہیں․․․․․ہوں گے ہی کتنے۔

معمولی بات ہے،تم بسم اللہ کرو بے یار۔“
لیجیے صاحب چچا میاں پل پڑے،کاغذات کے ڈھیر الماریوں میں سے نکالنے اور فرش پر چننے شروع کر دیئے۔دو الماریوں کی بساط ہی کیا ہوتی ہے،ذرا سی دیر میں خالی ہو گئیں لیکن کاغذوں کے ڈھیروں سے کمرہ سارا بھر گیا۔کمرے کی یہ کیفیت دیکھ کر چچا کے دماغ میں ایک نئی کھڑکی کھلی،بڑی عقیدت اور داد کی نظروں سے الماری کے خانوں کو تکنے لگے۔

پہلی بار یہ حقیقت منکشف ہو رہی تھی،کہ اللہ میاں نے الماری بھی کیا نعمت بنائی ہے جو بے شمار چیزوں کو محض اس وجہ سے اپنے اندر کھپا لیتی ہے کہ وہ اس میں اوپر نیچے رکھی جاتی ہیں۔
کاغذات کے اس دسترخوان پر پا انداز کے قریب چچا آلتی پالتی مار بیٹھ گئے،جو ڈھیر سامنے تھا،اس کے کاغذات ملاحظہ فرمانے شروع کر دیئے۔طرح طرح کے کاغذات تھے،خطوط،بل،نسخے،نامکمل غزلیں،مسودے دعوتی رُقعے،اخباروں کی کترنیں،انگریزی اخباروں کی تصاویر کے ورق،دکانداروں کے اشتہار،منی آرڈروں کی رسیدیں،عید کارڈ،حساب کے پرزے،اور اللہ جانے کیا کیا۔

ایک ہاتھ کام کے کاغذوں کی جگہ مقرر کر لی،دوسرے ہاتھ ردّی کاغذوں کی،دل ٹھکانے لگا،ڈھیر کی تقسیم شروع کر دی۔
ایک ایک کاغذ کو اُٹھا کر غور سے دیکھتے،کسی کو اس ہاتھ رکھ لیتے کسی کو اُس ہاتھ۔بعض کاغذات کے لئے دونوں ڈھیر اپنے اپنے حق پر کھینچا تانی کرتے،چچا کا ہاتھ بے بسی کے عالم میں کبھی ایک ڈھیر کی طرف بڑھتا کبھی دوسرے کی طرف،بعض کاغذ اپنی باری ختم ہونے کے بہت دیر بعد اپنا حق ثابت کرنے میں کامیاب ہوتے،ایک ڈھیر میں دب چُکنے کے بعد نکل کر دوسرے ڈھیر میں پہنچتے،غرض یہ کہ بڑے انہماک کے ساتھ یہ کام شروع ہو گیا تھا۔

رات تک ردّی الگ کرنی تھی،اگلے دن کمرہ بچوں کے استعمال کو دے دینے کا وعدہ تھا،کام بھی لمبا چوڑا تھا،پھر بے اختیاری میں جو باتیں چچی سے کہہ بیٹھے تھے ان کی پچ بھی تھی،بڑی سرگرمی سے بانٹ کر دھندے میں جتے ہوئے تھے۔اور بڑی پھُرتی سے ہر کاغذ سے نبٹتے چلے جا رہے تھے۔
آدھ گھنٹے تک تو یہ عمل چپ چپاتے بڑی تن دہی سے جاری رہا،کاغذوں کے کئی ڈھیر دو دو حصوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے لیکن اس کے بعد جب چچا نے ایک بار سر اُٹھا کر ردّی اور کام کے کاغذوں کا جائزہ لیا۔

تو خیال آیا کہ ردّی توقع سے بہت زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے ردّی کو غور کی نظروں سے دیکھنے لگے گویا اس سے پوچھ رہے تھے کہ تو اتنی زیادہ کیوں نکل آئی اور ہم نے تجھے اتنی زیادہ مقدار میں آخر رکھا کیوں تھا؟اندیشہ پیدا ہوا کہ صفائی کے جوش میں کہیں کارآمد کاغذات تو اس ڈھیر کی نذیر نہیں ہوتے جا رہے،اوپر ہی کسی دکان کا گھی کا اشتہار بھی پڑا تھا۔

اسے دیکھتے دیکھتے خیال آیا کہ پچھلے دنوں چھمن خاں کہہ رہے تھے کہ دیہات سے گھی منگانے کا بندوبست کرکے شہر میں خالص گھی کی دکان کھولنا چاہتے ہیں،بالفرض اُنہوں نے دکان کھول لی۔تو اس کے متعلق اشتہار بھی ضرور تقسیم کریں گے،اور اشتہار لکھوانے کے لئے ہمارے سوا آخر کس کے پاس جائیں گے؟ایسی حالت میں ہم معنی مضمون کا ایک اشتہار پیش نظر ہونا بڑا نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔


یہ خیال آتے ہی اس اشتہار کو اُٹھا کر کام کے کاغذات میں رکھ لیا اور مناسب معلوم ہوا کہ ردّی کاغذات پر خوب سوچ سمجھ کر ایک نظر غور کی پھر ڈال لی جائے۔اب جو اِن کاغذات کو غور سے ملاحظہ فرمایا تو معلوم ہوا کہ صفائی کی مد میں بڑی بڑی نایاب چیزیں ردّی کرتے چلے گئے ہیں۔منے خاں درزی کا بل ردّی کو ڈالنا آخر کیا معنی؟کچھ نہیں تو چار دن کی بحث کے بعد اس سے بنڈی کی سلائی طے ہوئی تھی،کل نئی بنڈی سلوانے پر اگر وہ اسی قسم کی بحث پھر کھڑی کر دے تو؟
سند کے طور پر بل اپنے پاس ہو تو کسی قدر وقت مفید کاموں کے لئے بچایا جا سکتا ہے۔

مسیتا کا حساب کرکے اُس سے باقی کی جو رسید لی تھی،بوقت ضرورت وہ بھی بڑی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ان گھوسیوں کا بھلا کیا اعتبار،اگر کل کو کہے کہ میرا حساب تو گئے برس سے چلا آ رہا ہے تو صاحب من رسید کے بغیر بھلا کیونکر ثابت ہو جائے گا کہ سسرا جھوٹ بکتا ہے۔آئے ہوئے عید کارڈ اپنے اشعار کی وجہ سے بہت ہی نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں،مثلاً اگر عید کے موقع پر یہی اشعار سادہ کاغذ پر نقل کرکے بھیج دیئے جائیں تو مزاج کی سادگی بھی ظاہر ہو اور کفایت بھی رہے،ہم خرما و ہم ثواب،اخبار کی کترنیں شوق سے کاٹ کر رکھی تھیں تو ان میں قطعاً کوئی قول قابلِ قدر اور قابل عمل نظر آیا ہو گا۔

تصاویر کے مصرف تو اظہر من الشمس ہیں،بچوں کا دل بہلایا جا سکتا ہے،چوکھٹوں میں لگوائی جا سکتی ہیں،تحفے کے طور پر دی جا سکتی ہیں۔اور پرانے اخبار بھی اگر غور کیا جائے تو بڑے کام کی چیز ہیں مثلاً صندوقوں اور الماریوں میں بچھائے جا سکتے ہیں،اور برسات کے دنوں میں ان سے بچوں کے لئے ناؤ بنانے کا کام لیا جا سکتا ہے،یعنی بچوں کا ایک ذرا سا شوق ورا کرنے کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں ہوتا کہ ایک تازہ اخبار اُٹھا کر ضائع کر دیا جائے۔

غرض یہ کہ پہلے آدھ گھنٹے میں جس قدر کاغذ ردّی قرار پائے تھے،اگلے آدھ گھنٹے میں تقریباً سب کے سب کسی نہ کسی وجہ کی بناء پر کارآمد قرار پا گئے۔ایک گھنٹے کی محنت کے نتائج پر غور کیا تو چچا کو اپنے مزاج میں ایک قسم کی تبدیلی محسوس ہونے لگی یعنی ان کی طبیعت اُن کے عزم سے عدم تعاون کرنے پر آمادہ معلوم ہوتی تھی،جسم بھی سرکشی پر تُل چکا تھا،جمائیاں اور انگڑائیاں چلی آ رہی تھیں،کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے سیدھا کرنے کی ضرورت پڑ رہی تھی،آنکھیں کاغذات کو محض دیکھ رہی تھیں کہ افراتفری میں پڑے ہوئے ہیں،دل صرف اتنا کہہ رہا تھا کہ اگر یہ منتخب ہو ہوا کر آپ سے آپ مرتب ہو جاتے تو کیا خوب ہوتا لیکن ان سے نپٹنے کی اُمنگ انتقال کر چکی تھی۔

تمام امور پر غور کرکے مناسب معلوم ہو رہا تھا کہ ذرا دیر کو تعطیل تو بہرحال منائی جائے۔بُندو کو آواز دی کہ پان لائے،،مُودے کو حقہ تازہ کرکے لانے کے لئے کہا،خود فرش پر دراز ہو گئے،دل تفریح کا متلاشی تھا،کاغذوں میں اُوپر ہی ایک میم کی تصویر رکھی ہوئی تھی،اس کا حُسن کبھی چچا کو بھایا ہو گا،اس لئے اخبار میں سے پھاڑ کر رکھ لی تھی،ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اس کو ملاحظہ فرمانے لگے۔

”بُندو پان لایا تو۔تصویر کی طرف اشارہ کرکے اس سے پوچھا۔”کیوں بے اس سے کرے گا شادی؟“
بندو نے تصویر لے لی،اسے دیکھ کر ہنسنے لگا،بولا”یہ تو میم ہے۔“نظریں کہہ رہی تھیں کہ تصویر دیکھ کر محظوظ ہوا ہے۔اتنے میں مُودے نے اسے آواز دی کہ بیوی جی بلا رہی ہیں۔بُندو تصویر ہاتھ میں لیے چل پڑا۔چچا نے فوراً ٹوک کر تصویر رکھوا لی۔اس کے جانے کے بعد خود اسے غور سے دیکھنے لگے،پھر کام کے کاغذات میں رکھ۔


دفعتہ خیال آیا کہ جب پہلا ڈھیلا تقسیم کرنے بیٹھے تھے تو شروع شروع ہی میں اپنی کبھی کی کہی ہوئی ایک نامکمل غزل نظر سے گزری تھی،ذرا دیر اُس سے لطف اندوز ہونا نامناسب نہ ہو گا۔ڈھیر کو اُلٹ کر سامنے رکھا،اس کے بہت سے کاغذ بکھیر کر غزل ڈھونڈ نکالی۔ایک محجوبانہ تبسم سے اس کا مطالعہ کرنے لگے،مودا حقہ لے کر آ رہا تھا،اس کے قدموں کی آہٹ معلوم ہوئی۔

تو مطالعہ بلند آواز سے شروع کر دیا۔
خاک پر ہے تن بے جاں میرا
دھیان رکھنا سگ جاناں میرا
قصد صحرا جو کبھی کرتا ہوں
پاؤں پڑتا ہے گریباں میرا
واقعہ یہ تھا کہ مُودا اپنے تنہائی کے اوقات میں کئی مرتبہ بعض غزلوں کے اشعار گنگناتا ہوا سنا گیا تھا،چچا کو خیال آیا کہ اگر اس کے حافظے کی بیاض کے لئے بعض زیادہ خوشگوار اور فن کے اعتبار سے پختہ اشعار بہم پہنچا دیئے جائیں تو اپنے اور اس کے دونوں کے لئے باعث مسرت ہو گا،لیکن بُندو قدر شناس ثابت نہ ہوا،حقہ رکھتے ہی واپس چلا گیا،چچا وردِ اشعار کے دوران میں گردن موڑ موڑ کر باہر دیکھتے رہے کہ ممکن ہے لحاظ نے دُوبُدو ہو کر اشعار سننے کی اجازت نہ دی ہو لیکن تھوڑی دیر بعد جب اندر صحن میں سے اس کی آواز سنائی دی تو دل برداشتہ ہو کر بولے۔

”جاہل ہے،یا چھٹن کی اماں نے تاکید کر رکھی ہو گی کہ وہاں زیادہ دیر نہ ٹھہرنا۔“
اس کے بعد چچا حقے کے کش لگاتے ہوئے فلسفہ حیات پر غور کرنے لگے۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد کاغذوں پر ایک نظر ڈال لیتے تھے،تجربہ کر رہے تھے کہ جب کاغذات کو بکھیر کر حقہ پینا شروع کر دیا جائے تو ایسی حالت میں کاغذات کا طرز عمل کیا ہوتا ہے۔
اتفاق سے دور کے ایک ڈھیر کے اوپر چچی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک لفافہ نظر آیا،ہاتھ بڑھا کر اُسے اُٹھا لیا،کھول کر دیکھا تو چچا کے نام اُن کا خط تھا۔

23 میں ودو کو نمونیا ہو گیا تھا،ان دنوں چچا کسی کام سے لکھنوٴ گئے ہوئے تھے،چچی نے بڑی پریشانی کے عالم میں اُنہیں خط لکھ کر جلد واپس آنے کے لئے منت سماجت کر رکھی تھی۔چچا نے یہ خط پڑھا تو غالباً چچی کے عجز اور پریشانی کا اعتراف دیکھ کر مناسب معلوم ہوا کہ گھر میں اپنی اہمیت کا احساس تازہ کرنے کی غرض سے احتیاطاً اسے چچی کو سنا ڈالا جائے چنانچہ اُٹھ کھڑے ہوئے،جوتی پہنتے پہنتے اندر کا رُخ کیا،جا کر چچی سے کہا۔

”چھٹن کی اماں،دیکھنا تمہارا ایک خط ملا 23 کا،وہ جب ودو کو نمونیا ہوا تھا اور میں لکھنوٴ تھا،کل کی سی بات معلوم ہوتی ہے۔
چچی ہنڈیا چولہے کی فکر میں مصروف تھیں بولیں۔”دور کرو ایسے خط کو،میں نہیں دیکھتی۔“
چچا کا کام نہ بنا۔بولے”ایسا بھی کیا وہم،مجھے تو اسے پڑھ کر خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت بڑا ہی فضل کیا ورنہ اس بچے کے بچنے کی اُمید تھوڑا ہی رہی تھی،جب ہی تو تم نے گھبرا کر مجھے ایسا خط لکھا تھا کہ․․․․“
چچی نے کچھ چڑ کر کہا۔

”اب خاک بھی ڈالو۔اس نحس وقت کی یاد پر۔“
کوشش میں ناکام رہنے سے چچا جل گئے۔احتیاط رخصت ہو گئی،”اب خط سننا بھی گوارا نہیں اور اُس وقت کیسے لکھ رہی تھیں،خدا کے لئے جلدی آؤ،اور ہاتھ جوڑوں،خط پڑھتے ہی روانہ ہو جاؤ۔“
چچی شاید اصل مطلب تاڑ گئی تھیں،ہلکے سے بولیں۔”بچے کی ضد جو تھی،بچوں کی ضدیں تو ایسی ہی ہوتی ہیں۔“یہ کہہ کر اُٹھیں اور پرات لے باورچی خانے کی کوٹھڑی کو چل دیں۔


چچا نے کچھ کہنا چاہا۔لیکن اسٹیج خالی ہو چکا تھا اُلٹے پاؤں روانہ ہو جانے کے سوا چارہ نظر نہ آیا۔
واپس آ کر کچھ دیر کاغذوں کے درمیان فرش کے ایک جزیرے پر کھڑے ہو گئے دماغ خالی تھا۔دل میں ایک امتلا سا تھا کبھی یکلخت یوں مڑتے گویا کسی کو پکاریں گے۔پھر غالباً یہ سوچ کر رُک جاتے کہ چچی سے کہہ چکے ہیں کسی کو آنے نہ دیں ساتھ ہی یہ بھی سوچتے کہ کوئی آ کر کر بھی کیا لے گا اُکتاہٹ کے عالم میں کُرتے کے اندر ہاتھ ڈال پیٹ کھجاتے جا رہے تھے یہ شغل کب تک جاری رہ سکتا تھا آخر گھبرا گئے کمرے سے نکل ڈیوڑھی میں چلے آئے سڑک پر آنے جانے والوں کا نظارہ کرنے لگے۔

مگر کمرے کے متعلق دل میں جو پھانس تھی وہ کیونکر نکل سکتی تھی۔سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ بکھیڑا جو پھیلا آئے ہیں اسے اب کس طرح خاطر خواہ طریق پر لپیٹیں۔پچھتاوا بھی تھا کہ اس قصے میں پڑنے کے لئے آخر کہا کس نے تھا؟اُلجھن بھی تھی کہ چچی کے سامنے آخر سرخرو کیونکر ہوں گے؟آخر دل میں کچھ طے کر سر ڈالے ہوئے اندر پہنچے،جا کر چچی سے کہنے لگے۔

”چھٹن کی اماں!وہ کل تم آنولے کا تیل منگانے کو کہہ رہی تھیں،کہو تو اس وقت جا کر لا دوں؟“
چچی نے چھوٹتے ہی پوچھا۔”کمرے کا کام ختم کر لیا؟“
چچا کو سوال کا ایسا کھلا انداز ناگوار تو گزرا،تاہم بولے۔”وہ تو ہو رہا ہے،مجھے خیال آیا تھا کہ پھر تیل والے کی دُکان نہ بند ہو جائے۔“
چچی نے کہا۔”تیل کی کیا جلدی ہے،کل آ جائے گا،آج کمرہ ہی ختم کر لو تو بڑی بات ہے۔


چچا کو اس جواب کے سوا چارہ نظر نہ آیا۔”ہاں ہاں،وہ تو انشاء اللہ ختم ہو گا ہی۔“
چچی بھی ایک حضرت ہیں،بولیں”رات کو مردانے میں جا کر دیکھوں گی۔“
چچا جھنجھلا کر باہر نکل آئے،کچھ دیر ڈیوڑھی میں پس و پیش کے عالم میں سر کھجاتے رہے،پھر کھڑے کھڑے ایک مونڈھے پر بیٹھ گئے،فکر مند نظروں سے اِدھر دیکھتے تھے کھسیانے سے ہو گئے تھے،آخر اُٹھ کھڑے ہوئے اور تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے کاغذات کے کمرے میں پہنچے،کھسیانے تو ہو ہی رہے تھے جوش میں آ کر آٹھ دس ٹھڈے کاغذات کے ڈھیروں کو رسید کیے۔

اور جب سب کاغذات بکھر گئے تو اُنہیں اُٹھا اُٹھا کر یوں الماری میں پھینکنے لگے،جس طرح مزدور گڑھے میں سے مٹی نکال نکال کر باہر پھینکتے ہیں۔
رات کو چچی مردانے میں آئیں تو دیکھا کہ کمرہ صاف ہے۔الماریوں میں قفل پڑے ہوئے ہیں،بولیں۔”اور الماریاں کھول کر اپنی کار گزاری بھی تو دکھاؤ۔“
جواب میں چچا نے کنجیاں تلاش کرنی شروع کر دیں،پر نہ معلوم گچھا کہاں رکھ کر بھول گئے تھے،اُس دن سے آج تک یہ کیفیت ہے کہ دن میں تو چچا کی کنجیوں کا گچھا مل جاتا ہے لیکن رات کے وقت جب چچی مردانے میں آتی ہیں،باوجود بے حد تلاش کے کبھی دستیاب نہیں ہوا۔

Your Thoughts and Comments