Charag E Ilaam Jalao

چراغ علم جلاؤ

جمعرات نومبر

Charag E Ilaam Jalao
سید عارف نوناری
مذہبی تعلیم‘سیاسی تعلیم‘سائنسی تعلیم ایک ہی درخت کے پتے ہیں ان میں اختلافات ضرور ہیں۔ تعلیم کے مقاصد اور حصول تعلیم کے ذرائع مدھم پڑ رہے ہیں۔ علم کے حاصل کرنے والوں کو پہلے تعلیمی مقاصد ذہن نشین کرانا بہت ضروری ہیں شعور اور سوچ کی تبدیلی قوم کی ترقی ہے ۔پاکستان کے نظامات کی تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم کے مقاصد کا تعین کیا جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے ڈگریوں کا حصول نہ ہو بلکہ ایسی قوم کی تشکیل ہو جس سے تعمیری ملک کی بنیاد رکھی جائے۔

ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں اگر فرق ہے تو نظام تعلیم کا فرق ہے۔ ترقی میں تصور وجاں ایک خاص جواز رکھتا ہے۔ پاکستان میں نظامت کی خرابی تعلیم کی خرابی کے سبب ہے۔ اچھے سیاستدان نہ ہونا‘اچھے شہری نہ ہونا‘اچھے تعمیری ملازم پیدا نہ کرنا‘انقلابات کی کمی‘یہ سب ایک وجہ سے ہے اور وہ وجہ ہمارا تعلیم کا نظام ہے۔

(جاری ہے)

ملکی سوچ کی عدم موجودگی کمزوری کا سبب ہے۔

طالب علموں میں پہلے یہ سچ پیدا کرنا ہے کہ تعلیمی مقاصد کیا ہیں نصاب میں انقلابی تبدیلیوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ پہلی سے دسویں تک کا نصاب انگریزی نظام کی نقل ہے بچوں کی تربیت کا انداز ایسا ہے کہ والدین کا ان پڑھ ہونا بھی نظام تعلیم کا سبب ہے‘خصوصی طور پر دیہاتوں میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے یہ عناصر تعلیم کے معیار کو پستی کی طرف لے جا کر تعلیم کی بنیادوں اور قوم کو کمزور کر رہے ہیں۔


شعبہ تعلیم میں حکومت کی پالیسیاں ناقص ہیں ان کے نتائج سے وہ خود بھی آگاہ نہیں ہوتے لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعبہ تعلیم میں خرابی سیاست کا کیا کرایاہے۔ براہ راست سیاست کی تعلیم میں مداخلت زہر قاتل کی مانند ہے۔ یورپ میں سیاست اور تعلیم علیحدہ علیحدہ ہیں۔ پاکستان میں بھی ان کی علیحدگی بہت ضروری ہے۔ پرائمری‘مڈل‘میٹرک‘ڈگری کلاسوں کے نصاب میں انقلابی اور اسلامی تبدیلیوں کی ضرورت وقت کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

تقسیم ہند سے لے کر اب تک تمام حکومتوں نے شعبہ تعلیم کے نقائص کو ویسے کا ویسے رہنے دیا جس سے سیاسی مداخلت بڑھنے کے ساتھ ساتھ طریقہ امتحانات میں بھی نقائص پیدا ہوتے گئے۔ پالیسی بنانے والے نا اہل اور نا تجربہ کار لوگ آتے گئے چند عناصر ایسے بھی آئے جنہوں نے پاکستان کی تعلیم کو پست کرنے کے لئے جان بوجھ کر اقدامات کئے۔پاکستان دوسرے ممالک کی نسبت معاشی اور انسانی ترقی کے نقطہ نظر سے پیچھے ہوتا گیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قومیں جن کے ذریعہ تبدیلی ہوتی ہے ان پر پہلی توجہ دی جائے۔ سیاست میں عدم پختگی‘معیشت میں نقائص‘انتظامیہ ناقص‘کلچر معاشرہ میں برائیاں یہ سب کیوں یہ سب صرف نظام تعلیم پر عدم توجہ کی وجہ سے ہوا‘پھر یہ بھی ہوا کہ امتحانات میں نقائص کو جان بوجھ کر عرصہ دراز سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔اساتذہ‘سیاسی لوگ‘پالیسی میکرزان کے ذمہ دار ہیں۔


بھارت‘بنگلہ دیش‘سری لنکا‘لبنان وغیرہ میں بھی تعلیمی نقائص موجود ہیں ان کے نظامات میں سیاست براہ راست ملوث کم ہے یورپ کی ترقی صرف تعلیم پر ہے۔اگر نظام تعلیم یوں ہی چلتا رہا تو پاکستان شکست وریخت کا شکار ہو جائے گا اور یہ شکست وریخت زندگی کے ہر شعبہ میں ہو گی۔سیاسی مفکرین کا خیال ہے کہ جس ملک کا نظام تعلیم درست ہو گا اس کا ہر شعبہ ترقی کے راستوں پر گامزن ہو گا۔

ڈگریوں کی سر عام بولی۔کیا حکومت ان سے آگاہ نہیں ہے۔طلباء کا امتحانات میں طریقہ واردات اور امتحانات کے سسٹم کو تباہی کی طرف لے جانا حکومت ان سب سے آگاہ ہے۔کیا ایسی وجوہات ہیں کہ حکومت ان پر توجہ نہیں دینا چاہتی اور پردہ پوشی کر رہی ہے۔سب سے پہلے نظام کی درستگی کے لئے اساتذہ کی بھرتی کا موثر طریقہ اپنانا ہے پھر پرائمری سطح کی تعلیم پر نصاب اور طریقہ پڑھائی پر نظر ثانی کرنی ہے۔

یورپ اور ترقی یافتہ ممالک کے طریقہ کار میں بھی اختلافات ہیں اہم چیز جو تعلیم کی اصلاح کے لئے ضروری ہے بچوں کی ذہنی سوچ کی جانچ اور نفسیات کے تقاضوں کو اہمیت دینا بہت ضروری ہے ۔اساتذہ کی تربیت بھی اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ڈنڈا ازم طلباء کی نفسیات کے مطابق نہیں۔ اصلاحات اور اصطلاحات دونوں اہم عناصر ہیں جو شعبہ تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور خصوصی طور پر پاکستان حوالہ سے اہم اور ضروری ہیں اگر قوم کو مخلص لیڈر‘محبت الوطن ملازمین‘انتظامیہ مہیا کرنی ہے تو پھر سب سے اولین توجہ تعلیم پر دینی ہو گی۔

تبدیلیوں کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بھی ہم ایک مثبت ڈگر کی طرف جا سکتے ہیں۔ایسی ڈگر جہاں ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہو۔
ترقی پذیر ممالک اس لئے ترقی یافتہ نہیں ہوتے کیونکہ ان میں تعلیم کا تناسب کم ہونے کے علاوہ معیار تعلیم میں بھی نقائص موجود ہوتے ہیں یا ان کے وسائل محدود ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام اور معیار تعلیم ترقی کی بجائے پستی کی طرف سفر کر رہا ہے‘تعلیم میں پائے جانے والے نقائص کا ازالہ مکمل طور پر نہیں ہو سکا۔

تین اہم عناصر ہیں جو تعلیمی انحطاط کے اسباب میں کمی کر سکتے ہیں۔ ان میں والدین‘اساتذہ اور طالب علم شامل ہیں۔ماں بچے کی اولین درسگاہ ہے لہٰذا اگر ماں بچے کی پرورش جدید تقاضوں اور نفسیاتی پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر کرے تو بچہ قوم کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔میاں بیوی کے لڑائی جھگڑے‘گالی گلوچ‘مار پٹائی بچے کے ذہن پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔

ماں کا نفسیاتی تقاضوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے اگر ماں بچے کے ذہن کو اس طرح ترتیب کرے کہ بچے کا میلان تعلیم کی طرف مرکوز ہو جائے تو اس سے بچپن میں تعلیم سے لگن پیدا ہو جائے گی اور بچہ بڑا ہو کر ایک اچھا طالب علم ثابت ہو گا۔یورپی ممالک میں بچے کے ذہن کو پرکھا جاتا ہے۔بچے کے ذہن کا رجحان جس طرف ہو اسی کام پر لگا دیا جاتا ہے اس طرح وہ قوم و ملک کے لئے اچھی طرح خدمات انجام دیتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں غلط قسم کی روایت ہیں۔بچہ جب چار یا پانچ سال کا ہوجاتا ہے تو اسے سکول داخل کروا دیا جاتا ہے اس کے ذہنی رجحان کو نہیں دیکھا جاتا کہ آیا اس کا ذہن شعبہ تعلیم کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔یورپی ممالک ترقی کی منازل کو چھو رہے ہیں کیونکہ وہ بچے کے ذہن کے مطابق اسے کام پر لگاتے ہیں۔ماں کو بچپن سے بچے کے ذہن کو تعلیم کی طرف مائل کرنا چاہئے یا رجحان کو مد نظر رکھنا چاہئے۔

دوسرا نمبر استاد کا آتا ہے۔
تعلیمی انحطاط کے سدباب میں استاد بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے اگر وہ اپنے فرائض کو فرض سمجھے آج کل کے استاد میں وہ اوصاف نہیں ہیں جو ایک استاد میں ہونے چاہئیں۔اساتذہ درس گاہوں میں محض وقت پورا کرنے کے لئے آتے ہیں۔استاد کے دل میں طالب علم کے لئے وہ محبت نہیں ہے اور نہ ہی طالب علم کے دل میں استاد کا وہ احترام ہے جو طالب علم کے دل میں ہونا چاہئے۔

اساتذہ جان بوجھ کر پیریڈ میں کچھ اہم نقاط چھوڑ جاتے ہیں تاکہ وہ ٹیوشن پڑھا کر پیسے بٹور سکیں لہٰذا اساتذہ کو اپنا رویہ درست کرکے طلباء کی صحیح رہنمائی کرنی چاہئے طالب علموں کو اساتذہ کی عزت و احترام کرنا چاہئے۔معاشرہ استاد کو ہی مقام دے جو اسلام نے اسے دیا ہے تو معیار تعلیم درست ہو سکتا ہے۔تیسرا نمبر طالب علم کا آتا ہے۔طلباء تعلیمی اعداروں میں محض وقت ضائع کرنے کے لئے آتے ہیں۔مختصراً اگر ہر فرد اپنے فرائض کو پہچانے تو معاشرہ ٹھیک ہو سکتا ہے اور تعلیمی انحطاط کے اسباب میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

Your Thoughts and Comments