Chutti Or Taziyat

چھٹی اور تعزیت

منگل فروری

Chutti Or Taziyat
کرنل ضیاء شہزاد
چھٹی سے زیادہ دلفریب لفظ شاید فوجی لغت میں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ چھٹی کی مثال عسکری زندگی کے صحرا میں ایک ہرے بھرے نخلستان کی مانند ہے جس کے تصور سے ہی روزمرہ کی کٹھنائیوں کی شدت کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ سپاہی کی زندگی چچا غالب کی طرح ہزاروں خواہشوں کا مرقع نہیں ہوتی بلکہ لے دے کر اس کی سوچ کا واحد محور چھٹی ہی ہوا کرتی ہے جس پہ اس کا دم بھی نکلتا ہے اور ارمان بھی۔

جیسا کہ مرزا غالب سے کسی نے ان کی پسنددریافت کی تو یکلخت بولے :” آم ہوں اور عام ہوں “ ٹھیک اسی طرح کسی فوجی سے اس کی دلی مراد پوچھیں تو بلا توقف نعرہ بلند کرے گا: چھٹی ہو اور کھلی ہو“۔
چھٹی کا حصول عام حالات میں تو اتنا مشکل نہیں ہوتا تا ہم جب کبھی یونٹ کوئی اہم ذمہ داری سرانجام دے رہی ہو یا جنگی مشقوں میں مصروف ہو تو اکثریک انار صدبیماروالا معاملہ دیکھنے میں آتا ہے۔

(جاری ہے)

ایسے میں زیادہ تر لوگ تو صبروشکرکا دامن تھام کر دن بتاتے ہیں لیکن کچھ مرِد مومن ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان بے جاپابندیوں کو خاطر میں لانا گوارا نہیں کرتے اور ہر لمحہ چھٹی کی فکر میں غلطاں وپیچاں رہتے ہیں۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے ان کی جانب سے طرح طرح کے عذر بھی تراشے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب بات ‘ کوئی صورت نظر نہیں آئی، کوئی امید برنہیں آتی ‘ تک جاپہنچے تو جھوٹ بول کر کسی قریبی رشتہ دار کو اس جہانِ فانی سے کوچ کروانے سے بھی گریز نہیں کیاجاتا۔

ایسی صورت حال میں مجاز افسران کو بھی گرہ ڈھیلی کرکے مذکورہ جوان کو چھٹی کا پروانہ عطا کرنا ہی پڑتا ہے۔
یہ 1998ء کے موسم گرما کا ذکرہے۔ یونٹ ان دنوں سالانہ جنگی مشقوں کے لئے جہلم کے نزدیک ٹلہ کے علاقے میں ڈیرہ جمائے ہوئے تھی۔ ایک دن ہم معمول کے کاموں میں مصروف تھے کہ سپاہی بوٹے نے ہمیں اپنے والد صاحب کے انتقال پر ملال کی خبر سنائی۔

سپاہی بوٹا چنددنوں سے چھٹی جانے کی درخواست کررہا تھا لیکن چونکہ ڈیوہیڈ کوارٹر کی ہدایات کے مطابق مشقوں کے اختتام تک چھٹی پر پابندی عائد تھی اس لئے اس کی درخواست قبول نہیں کی گئی۔ تاہم والد کی وفات کی اطلاع ملتے ہی اس کی چھٹی فوراً منظور کر لی گئی۔ یونٹ سے ایک گاڑی روانہ کی گئی جو اسے بس میں بٹھا کر واپس لوٹی۔ دو تین روز بعد مشغولیت قدرے کم ہوئی تو سی او کے ذہن میں خیال آیا کہ بوٹے کا گاؤں قریب ہی واقع ہے لہٰذا اس کے ہاں تعزیت کے لئے کسی افسر کو بھیجا جانا چاہیے۔

بوٹا چونکہ ہمارا ماتحت تھا اس لئے اس نیک کام قرعہ فال ہمارے ہی نام نکلا چنانچہ اگلے ہی دن ہم سپاہی بوٹے کے گاؤں کی جانب عازم سفر تھے۔ پیشگی اطلاع اس لئے نہ دی جاسکی کہ اس کے لئے مطلوبہ ذرائع میسر نہ تھے کیونکہ اس زمانے میں موبائل فون اس قدر عام نہیں ہوئے تھے۔
قصہ مختصر ، راستہ پوچھتے پاچھتے ہم دوپہر کے قریب بوٹے کے گاؤں پہنچے۔

اس کے گھر کے باہرایک بزرگ بیٹھے ہوئے حقہ پینے میں مشغول تھے۔ ہم نے ان سے بوٹے کے والد کی وفات پر دلی تعزیت کی اور یونٹ کے سی او کی جانب سے اہل خانہ کے لئے ہمدردی کا پیغام بھی پہنچایا۔ پوری بات سن کر باباجی نے فرمایا: پتر ، میں ہی بوٹے کا والد ہوں اور زندہ سلامت آپ کے سامنے موجود ہوں۔ “ یہ جان کر ہمیں جو شرمندگی ہوئی سو ہوئی لیکن ایک زندہ آدمی سے اس کی وفات کی تعزیت کرکے ہم ایک انوکھے اعزاز کے حامل ضرور ہو گئے۔

ہم نے باباجی سے بوٹے کو حاضر کرنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ تو ابھی تک یونٹ سے گھر نہیں پہنچا۔ یہ سن کر ہمارا غصہ دو چند ہوگیا۔ تلملاتے ہوئے یونٹ واپس پہنچے اور بے تابی سے بوٹے کا انتظار شروع کردیا۔ وہ ناہنجاز پورے دس دن کی چھٹی گزار کر اٹھلاتا ہوا یونٹ میں داخل ہوا۔ ہم بھی بھرے بیٹھے تھے لہٰذا اسے لے کرفی الفورسی او کے سامنے پیش ہوگئے۔

دفتر میں داخل ہوتے ہی اس نے آنا فاناً سی او کے پاؤں پکڑ لیے اور گڑگڑانے لگا: سر ، والد صاحب کی وفات بارے میں تو میں نے غلط بیانی کی تھی لیکن آپ یقین مانیں کہ میری والدہ بہت سخت بیمار ہیں لہٰذا ان کی دیکھ بھال کے لئے مجھے دس دن کی چھٹی عنایت فرمادیں۔ “
ہمارے سی او بھی انتہائی خدا ترس انسان واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے نہ صرف بوٹے کو معاف کر دیا بلکہ اس کی بات پر یقین کرتے ہوئے اسے مزید دس دنوں کی چھٹی بھی عنایت فرمادی۔
زاہد وہ بادہ کش ہوں کہ مانگوں اگر شراب
اُٹھیں ابھی شرا ب سے بادل بھرے ہوئے

Your Thoughts and Comments