Dey Ja Sakhiya

دے جا سخیا!

عطاالحق قاسمی ہفتہ اگست

Dey Ja Sakhiya
گزشتہ روز ہمارے ایک دوست دو پہر کے وقت گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔وہ آنکھیں ملتے ہوئے نیچے آئے۔دروازہ کھولا تو سامنے ایک فقیر کھڑا دانت نکال رہا تھا۔ہم نہیں جانتے اس وقت ان کا ردعمل کیا تھا‘لیکن واقعہ بیان کرتے وقت وہ آگ بگولا ہورہے تھے۔ہم نے کہا:ابھی سے حوصلہ نہ ہاریں کہ”مقامات آوہ دفغان اور بھی ہیں۔“بولے کیا مطلب ؟عرض کیا کہ پورا معاشرہ ماڈرن ہورہا ہے‘فقیر بھی اس معاشرے کے معززرکن ہیں ۔

آج انہوں نے گھنٹی بجا کر آپ کے سامنے دست سوال دراز کیا ہے‘کل وہ ٹیلی فون پر بھیک مانگیں گے۔زمانہ ترقی کرتا چلا گیا تو بات دروازے کی گھنٹی اور ٹیلی فون تک ہی محدود نہیں رہے گی‘بلکہ معززفقیر وفد کی صورت میں شرفا کے پاس جایا کریں گے اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کے مذاکرات کے بعد حسب ضرورت مالی امداد حاصل کرکے لوٹیں گے۔

(جاری ہے)


ہماری اس گفتگو سے ہمارے اس دوست کو خاصی تقویت حاصل ہوئی کہ معاملہ ابھی دروازے پر لگی گھنٹی بجانے تک محدود ہے۔

ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ماڈرن فقیروں کے علاوہ ایک قسم کلاسیکی فقیروں کی بھی ہے اور شکر کرو کہ یہ قسم ان دنوں موجود نہیں ہے۔بولے یہ قسم کون سی ہے جواب میں ہم نے انہیں غالب کے یہ دو شعر سنائے۔
چھوڑ اسد نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
 اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے
ہمارے دوست یہ شعر سن کر چونکے اورکہا”واقعی فقیروں کی بہت خطر ناک قسم تھی ‘لیکن اس کی عدم موجودگی کا شکر مجھے کیوں ادا کرنا چاہیے۔

“یہ سن کر ہم نے انہیں تھپکی دی اور بتایا کہ خیر سے تمہارا شمار بھی جید عاشقوں میں ہوتا ہے‘لہٰذا ان فقیروں کی فی زمانہ موجودگی کے باعث تمہارے لئے”کمپیٹیشن“کافی”ٹف “ہوتا اور ”مقابلے“کے اس ”امتحان “میں مقامات آہ وفغاں بہت زیادہ ہیں۔
ہمارے اس ”آرام طلب“دوست نے یہ سن کر ایک بار پھر اطمینان کا سانس لیا‘مگر تھوڑی دیر بعد ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے اور بولے۔

غالب نے اس موضوع پر ایک شعر اور کہا ہے‘اس کا کیامطلب ہے؟ہم نے پوچھا ”کونسا شعر ؟“بولے وہی:
بدل کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
ہم نے کہا اس شعر کا مطلب بھی یہی ہے کہ سائل ہو کر عاشق اہل کرم ہوتے ہیں اور پھر تماشائے ”اہل کرم“دیکھتے ہیں کہ ان میں سے کون”فقیروں “کو خیرات دیتاہے؟
یہ دوست ہم سے رخصت ہونے لگے’‘تو دو قدم چل کررک گئے۔

پھر ہمارے پاس آئے اور آہستی سے بولی:”تم نے ان فقیروں کے بارے میں مجھے اتنی باتیں بتائی ہیں ایک بات میں بھی تمہیں بتاتا ہوں۔“ہم ہمہ تن گوش ہو گئے بولے”ایک کلاسیکل فقیر ہیں‘ایک ماڈرن فقیر ہیں اور ایک الٹرا ماڈرن فقیر ہیں۔“ہم نے کہا یہ الٹر ا ماڈرن فقیر کون سے ہیں ۔کہنے لگے یہ وہی فقیر ہیں جن کے متعلق ابھی تم نے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں وفد کی صورت میں اہل کرم کے پاس آیا کر یں گے اور مذاکرات کے بعد حسب ضرورت مالی امداد حاصل کرکے سر خرو لوٹیں گے۔مجھے صرف یہ بتانا ہے کہ جنہیں تم مستقبل کے فقیر قرار دے رہے ہو‘وہ آج کے فقیر ہیں ‘نیز یہ فقیر افراد نہیں ‘قومیں ہیں۔تم اور میں اسی قوم کے فرد ہیں۔

Your Thoughts and Comments